نور مقدم کے قاتل ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار

  • جمعرات 04 / جون / 2026

سپریم کورٹ نے سابق سفارتکار شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کے مقدمے کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ واضح ثبوتوں کی روشنی میں مجرم کی نظر ثانی کی درخواست کو منظور نہیں کیا جا سکتا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اب مجرم ظاہر جعفر کے پاس صرف اس سزا کے خلاف رحم کی اپیل دائر کرنے کا آپشن بچا ہے۔

واضح رہے کہ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مجرم ظاہر جعفر کی طرف سے ٹرائل کورٹ سے ملنے والی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

سپریم کورٹ کی طرف سے اس اپیل کے مسترد ہونے کے بعد مجرم نے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ بھی مجرم ظاہر جعفر کی طرف سے سزائے موت کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست مسترد کر چکی ہے۔

یاد رہے کہ نور مقدم کا قتل جولائی 2021 کے دوران ہوا تھا اور اسی روز پولیس نے ظاہر جعفر کو گرفتار کیا تھا اور اسے فروری 2022 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں ظاہر جعفر کو قتل کے علاوہ ریپ میں بھی سزائے موت سنائی تھی۔ تاہم جسٹس ہاشم کاکڑ پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپیل کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کی ریپ کے تحت دی گئی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا جبکہ قتل کی دفعات کے تحت ظاہر جعفر کو دی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا گیا تھا۔