ایران سے اس ہفتے کے دوران معاہدہ کی امید ہے: ٹرمپ

  • جمعرات 04 / جون / 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے کے آخر تک ایران سے معاہدہ طے پانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے یہ دعویٰ کیا۔

امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ کیا کویت پر ایران کے حملوں کے بعد بھی جنگ بندی برقرار ہے؟ اس کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہر چیز کی ایک وجہ ہوتی ہے۔‘ اس ’وجہ‘ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جس روز ایران نے کویت پر حملے کیے، اس سے پہلے کی رات امریکی فوج نے ایران کو ’بہت شدت سے نشانہ بنایا۔‘

واضح رہے کہ گزشتہ روز ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی تازہ لہر دیکھنے میں آئی تھی۔ فریقوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے تھے اور دونوں جانب سے انہیں ’اپنے دفاع میں کیے گئے‘ حملے قرار دیا گیا تھا۔ ایران نے کہا تھا کہ اس نے خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ جبکہ امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) کی جانب سے ایران کے قشم جزیرے پر ایک فوجی گراؤنڈ کنٹرول سٹیشن کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

وائٹ ہاؤس میں صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم ایرانیوں پر بہت شدید حملے کر رہے ہیں، اس لیے کچھ چیزیں کسی وجہ سے ہی ہو رہی ہوتی ہیں۔‘ تاہم ٹرمپ کے مطابق امریکہ کے پاس ’دنیا کی بہترین فوج‘ ہے جس کی مدد سے ایران کے اقدامات پر قابو پا لیا گیا تو یہ حالیہ حملے کوئی بڑی بات نہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ ’کچھ لوگ کہیں گے کہ انہیں (ایرانیوں کو) کسی حد تک اشتعال دلایا گیا تھا‘ اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس کا جواب دے رہے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے مذاکرات بہت اچھے جا رہے ہیں۔ ایران سے ممکنہ معاہدے پر ان کا کہنا تھا کہ ایسا ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہو سکتا، لیکن اگر ہوا تو ممکن ہے ہفتے کے آخر تک ہو جائے۔

جب ان سے جنگ بندی سے متعلق سوال دوبارہ پوچھا گیا تو امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ دنیا کا مختلف خطہ ہے، اس خطے میں سیز فائر کا مطلب ہوتا ہے کہ فائرنگ نسبتاً کم شدت سے ہو رہی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس خطے میں جنگ بندی ’دنیا کے دیگر حصوں کی جنگ بندی سے کافی مختلف ہوتی ہے۔‘

اس دوران ایران کے سپریم لیڈر مجبتیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جنگ میں ناکامی کے بعد ایران کے اندر تقسیم کا بیج بونا چاہتے ہیں۔ جمعرات کو ایک تحریری بیان میں مجبتیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ دشمن کو ایران کے ساتھ محاذ آرائی میں شکست ہوئی ہے اور اسے اب ذلت کا سامنا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ دُشمن اب اپنی توجہ ہائبرڈ جنگ پر مرکوز کر رہا ہے اور اس کے لیے وہ جو آلہ استعمال کر رہا ہے، وہ شک، مایوسی اور بداعتمادی پھیلانا ہے۔

مجبتی خامنہ ای کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کی قیادت میں سامراج نے پچھلے 80 سالوں میں اسرائیل کے نام سے ایک فوجی اڈہ بنایا ہے۔ اور وہ ’گریٹر اسرائیل‘ یعنی دریائے فرات کے مشرق میں جھوٹے، ناجائز جغرافیہ کی مشرقی سرحد پر ایک مضبوط، آزاد ایران کے وجود کو قبول نہیں کرتے۔