تفہیم القرآن کے ساتھ چھ برس کی رفاقت
- تحریر طارق محمود مرزا
- جمعرات 04 / جون / 2026
تین جون 2026 میری زندگی کے اُن یادگار دنوں میں شامل ہو گیا جب ایک طویل علمی اور روحانی سفر اپنی تکمیل کو پہنچا۔ یہ کسی عام کتاب کے مطالعے کا اختتام نہیں تھا بلکہ ایک ایسی عظیم تصنیف کے ساتھ چھ برس کی رفاقت کا حاصل تھا جس نے میرے فکر و نظر، مطالعے، تحریر اور روحانی شعور پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
یہ کتاب سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی شہرۂ آفاق تفسیر تفہیم القرآن ہے۔ آج جب میں اس سفر پر نگاہ ڈالتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ میں نے محض ایک کتاب نہیں پڑھی بلکہ قرآنِ حکیم کی روشنی میں ایک وسیع فکری اور روحانی دنیا کی سیاحت کی ہے۔ اس سفر میں تاریخِ انسانیت، انبیائے کرامؑ کی جدوجہد، تہذیبوں کے عروج و زوال، انسانی نفسیات، سیاسی افکار اور روحانی حقائق میرے ہم سفر رہے۔ ان چھ برسوں میں وقفے بھی آئے، دوسری کتابیں بھی زیرِ مطالعہ رہیں، میری اپنی تین کتابیں شائع ہوئیں اور متعدد مضامین و کالم بھی لکھے گئے، مگر تفہیم القرآن ہمیشہ میرے مطالعے کی میز پر موجود رہی، گویا ایک خاموش استاد جو ہر روز ایک نیا سبق دینے کے لیے منتظر ہو۔
مولانا مودودیؒ نے تفہیم القرآن کا آغاز جنوری 1942 میں کیا اور تقریباً تیس برس پانچ ماہ کی مسلسل محنت کے بعد 7 جون 1972 کو اسے مکمل کیا۔ اس دوران انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، سزائے موت کا سامنا کیا اور جماعت اسلامی کی قیادت بھی کی، لیکن قرآن فہمی کا یہ عظیم علمی سفر کبھی رکا نہیں۔ قرآنِ مجید کی تفسیر لکھنا محض علمی کام نہیں بلکہ ایک عظیم امانت کی ادائیگی ہے۔ اردو زبان میں تفہیم القرآن کو جو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مولانا نے قرآن کے پیغام کو عصرِ حاضر کے انسان کے ذہن اور اس کے مسائل سے جوڑ کر پیش کیا۔ مولانا مودودیؒ نے خود اس تفسیر کا مقصد بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ان کی کوشش یہ رہی ہے کہ عام پڑھے لکھے لوگ قرآن کو اسی طرح سمجھ سکیں جس طرح وہ خود اسے سمجھتے ہیں، اور قرآن کے مفہوم، روح اور پیغام تک براہِ راست رسائی حاصل کر سکیں۔ یہی خصوصیت تفہیم القرآن کو محض ایک تفسیر نہیں بلکہ فہمِ قرآن کا مؤثر ذریعہ بناتی ہے۔
مولانا مودودیؒ کی شخصیت کئی جہتوں کی حامل تھی۔ وہ عالمِ دین، مفکر، صحافی، سیاست دان اور غیر معمولی نثر نگار تھے۔ اردو زبان پر ان کی گرفت ایسی تھی کہ علمی وقار اور ادبی لطافت ان کی تحریر میں یکجا نظر آتے ہیں۔ بطور اردو زبان کے طالب علم، میں نے تفہیم القرآن سے صرف دینی بصیرت ہی حاصل نہیں کی بلکہ زبان و بیان کے بے شمار اسرار بھی سیکھے۔ ان کے جملوں کی ساخت، استدلال کا انداز، الفاظ کا انتخاب اور قاری کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت اردو نثر کا ایک منفرد نمونہ ہے۔ مطالعے کے دوران متعدد ایسے الفاظ اور تراکیب سامنے آئیں جو عام استعمال میں کم نظر آتی ہیں، مگر مولانا نے انہیں اس مہارت سے برتا ہے کہ وہ تحریر کا حسن بن جاتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ تفہیم القرآن صرف تفسیر نہیں بلکہ اردو زبان و ادب کا ایک زندہ خزانہ بھی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میرے اپنے اسلوبِ تحریر پر بھی اس کتاب کے اثرات مرتب ہوئے اور میری کتاب ’’حیات و افکارِ اقبال‘‘ کے بعض فکری مباحث اسی طویل مطالعے کی دین ہیں۔
فکرِ اقبال سے میری وابستگی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ تفہیم القرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے بارہا محسوس ہوا کہ علامہ اقبال کے فلسفۂ خودی اور مولانا مودودیؒ کی قرآنی تعبیر کے درمیان ایک گہرا فکری رشتہ موجود ہے۔ اقبال نے اپنی فکر کا سرچشمہ قرآن کو قرار دیا تھا اور تفہیم القرآن نے اس حقیقت کو میرے سامنے مزید واضح کر دیا۔ خودی، عمل، حریت، عشق اور انسان کی تخلیقی قوت جیسے تصورات دراصل قرآن کے انہی بنیادی مضامین سے پھوٹتے ہیں جنہیں مولانا مودودیؒ نے اپنی تفسیر میں نمایاں کیا ہے۔ علامہ اقبال اور مولانا مودودیؒ کا تعلق برصغیر کی فکری تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اقبال نے ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ کو اسلام کے نظریۂ جہاد پر ایک بہترین تصنیف قرار دیا تھا۔ بعدازاں انہی کی دعوت پر مولانا مودودیؒ حیدرآباد دکن سے پٹھان کوٹ منتقل ہوئے، جہاں بعد میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ تحریک آج بھی دنیا کی نمایاں اسلامی تحریکوں میں شمار ہوتی ہے اور مختلف نسلوں پر اپنے اثرات چھوڑ رہی ہے۔
تفہیم القرآن کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف مذہبی طبقے کے لیے نہیں لکھی گئی بلکہ جدید تعلیم یافتہ انسان کے سوالات کو سامنے رکھ کر تحریر کی گئی ہے۔ بیسویں صدی میں جب سرمایہ داری، اشتراکیت، قوم پرستی اور لادینیت جیسے نظریات مسلم دنیا کو متاثر کر رہے تھے، مولانا مودودیؒ نے قرآن کی روشنی میں ان کا تجزیہ کیا اور دلیل و استدلال کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کیا۔ ان کی تحریر میں نہ جذباتی شدت ہے اور نہ مناظرانہ تلخی، بلکہ ایک متوازن اور علمی اندازِ فکر نمایاں نظر آتا ہے۔ سید مودودی اپنی تفسیر میں سب سے پہلے قرآن مجید سے رہنمائی لیتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کا دوسرا ماخذ نبی کریم ﷺ سے منسوب تفسیری روایات ہیں۔ پھر اقوال و آثار صحابہ رضی اللہ عنہم کو سامنے رکھتے ہیں۔ آپ کا تصورِ تفسیر نہایت سادہ و دلکش ہے۔ کسی قسم کی غیر واضح اور متشابہ چیز آپ کے ہاں نہیں پائی جاتی۔
ایک ادیب اور محقق کی حیثیت سے مجھے سب سے زیادہ متاثر کرنے والی بات یہ محسوس ہوئی کہ مولانا مودودیؒ نے دین اور دنیا کے درمیان مصنوعی تفریق کو قبول نہیں کیا۔ ان کے ہاں علم، عقل، وحی، تحقیق اور مشاہدہ ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تفہیم القرآن کا مطالعہ قاری کو مذہبی جمود کی طرف نہیں بلکہ فکری وسعت، تحقیق اور تدبر کی طرف لے جاتا ہے۔ تفہیم القرآن کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں انبیائے کرامؑ کے واقعات کو محض تاریخی قصوں کے طور پر نہیں بلکہ انسانی تاریخ کی اصلاحی اور انقلابی تحریکوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اسی طرح ادیانِ عالم، تہذیبوں اور فکری نظاموں کا جو تجزیہ اس میں ملتا ہے، وہ قاری کے مطالعے کا دائرہ وسیع کر دیتا ہے۔
مطالعے کے دوران مجھے بارہا یہ احساس ہوا کہ مولانا مودودیؒ صرف مفسرِ قرآن نہیں بلکہ بیسویں صدی کے اُن نمایاں مفکرین میں سے ہیں جنہوں نے جدید دور میں اسلام کی فکری تشکیلِ نو کا فریضہ انجام دیا۔ ان کی خدمات تفسیر تک محدود نہیں رہیں بلکہ سیاست، معیشت، معاشرت، قانون، تعلیم اور تہذیب سمیت زندگی کے تقریباً ہر شعبے تک پھیلی ہوئی ہیں۔ تفہیم القرآن کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ یہ قاری کو محض آیات کا مفہوم نہیں بتاتی بلکہ قرآن کے پیغام کو عملی زندگی سے جوڑتی ہے۔ مولانا کے نزدیک قرآن صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ فرد اور معاشرے دونوں کی تعمیر کا زندہ منشور ہے۔ وہ قاری کو صرف احکام نہیں دیتے بلکہ سوچنے، سوال کرنے اور حقائق تک پہنچنے کا سلیقہ بھی سکھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ان کی تحریریں آج بھی تازگی، معنویت اور اثر آفرینی کا احساس دلاتی ہیں۔
دنیا کی ستر سے زائد زبانوں میں ان کی کتابوں کے تراجم ہو چکے ہیں اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد ان کے افکار سے استفادہ کر رہے ہیں۔ یہ کسی بھی مصنف کے لیے ایک غیر معمولی اعزاز ہے کہ اس کی فکر جغرافیائی اور زمانی حدود سے ماورا ہو کر مختلف تہذیبوں اور نسلوں تک رسائی حاصل کر لے۔ میرے نزدیک تفہیم القرآن صرف ایک تفسیر نہیں بلکہ ایک فکری درسگاہ، ایک ادبی شاہکار اور ایک دائمی روحانی رفیق ہے۔ چھ برس کی اس رفاقت نے مجھے یہ احساس دلایا کہ بعض کتابیں محض پڑھی نہیں جاتیں بلکہ انسان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اس مطالعے نے مجھے قرآن کے پیغام سے زیادہ قریب کیا، اسلام کو ایک جامع ضابطۂ حیات کے طور پر سمجھنے میں مدد دی، فکرِ اقبال کو نئے زاویوں سے دیکھنے کا شعور عطا کیا اور میری اپنی تحریروں کو بھی نئی سمت بخشی۔
مولانا مودودیؒ نے اپنی پوری زندگی قرآن کے اسی عالمگیر پیغام کو عام کرنے کے لیے وقف کر دی۔ تفہیم القرآن ان کی علمی بصیرت، فکری گہرائی اور قرآنی فہم کا ایسا شاہکار ہے جو آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ اگرچہ میرا یہ مطالعہ مکمل ہو چکا ہے، لیکن اس سے حاصل ہونے والی روشنی، فکری رہنمائی اور روحانی تاثیر کا سفر شاید زندگی بھر جاری رہے گا۔