آئی ایم ایف کے مصاحب بن کر اِتراتے ہمارے وزیر خزانہ
- تحریر نصرت جاوید
- جمعرات 04 / جون / 2026
ملکی سیاست کے بارے میں ایک لفظ لکھنے کو بھی ذہن تیار نہیں ہوتا۔ ریاستیں مگر اپنا خرچہ پانی چلانے کے لئے بجٹ نام کی ایک شے بہت محنت سے تیار کرتی ہیں۔ ملکی اور غیر ملکی یونیورسٹیوں سے علم معاشیات کی مرعوب کن ڈگریاں لینے والے کئی دنوں تک یہ طے کرنے میں مصروف رہتے ہیں کہ ریاستی خرچ چلانے کے لئے معاشرے کے کون سے طبقات سے کتنا ٹیکس وصول کیا جائے۔
گزشتہ کئی برسوں سے لیکن بتدریج دریافت یہ ہوا کہ ہماری مٹی بقول اقبال بہت زرخیز ہونے کے باوجود وہ ’نم‘ فراہم نہیں کرسکی جو سی ایس ایس کے امتحانات پاس کرنے کے بعد حکومت کے مختلف محکموں میں دس کے قریب برس گزارنے کے باوجود اپنے تئیں بجٹ تیار کرنے والے افراد پیدا کرسکیں۔ انہیں مزید ہنرمند بنانے کے لئے میرے اور آپ کے دئے ٹیکسوں سے امریکہ یا برطانیہ کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں بھیجا جاتا ہے۔ وہاں سے متاثر کن ڈگریوں کے حصول کے باوجود ان کا تیار کردہ ہر بجٹ حکومت کا خرچہ پورا کرنے میں ناکام رہا۔ اسے پورا کرنے کے لئے ہمیں غیر ملکی قرضوں کی طلب محسوس ہوناشروع ہوگئی۔
غیر ملکی قرضے بین الاقوامی منڈی پر چھائے مہاجن ناقابل برداشت شرح سود پر فراہم کرتے ہیں۔ ہم جب اس کی ادائیگی کے قابل نہ رہیں تو دنیا کے سب سے فراخ دل اور غریبوں کے ہمدرد شمار ہوئے آئی ایم ایف نام کے ادارے سے رجوع کرنے کو مجبور ہوجاتے ہیں۔ وہ ہماری معیشت کو دیوالیہ سے بچانے کے لئے کم از کم تین سالہ منصوبہ تیار کرنے کے بعد قسط وار رقوم ادا کرتا ہے۔ یہ رقم انتہائی کم شرح سود پر دی جاتی ہے۔ تقریباً نہ ہونے کے برابر شرح سود پر رقم فراہم کرنے والا ادارہ مگر اپنی فیاضی کے سبب یہ اختیار حاصل کرلیتا ہے کہ آپ کے تیار کردہ بجٹ کے ہر پہلو کا بغور جائزہ لیتے ہوئے اس میں کلیدی تبدیلیوں کا تقاضہ کرے۔ میرے اور آپ جیسے کمی کمین نام نہاد ’شفافیت اور گڈگورننس‘ کے موجودہ دور میں پیدا ہونے کے باوجود وزارت خزانہ میں براجمان افسروں اور آئی ایم ایف کے وفود کے مابین مسلسل جاری رہے مباحثوں سے قطعاًغافل رہتے ہیں۔ ’سب پر خودمختار‘ ہونے کی تہمت کے ساتھ قائم ہوئی پارلیمان کے اراکین بھی آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ کے مابین ہوئی ’مشاورت‘ سے بے خبر رہتے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینٹ میں وزارتِ خزانہ کے امور پر مبینہ طورپر کڑی نگاہ رکھنے کو قائمہ کمیٹیاں بھی موجود ہیں۔ ان میں شرکت کے لئے اراکینِ پارلیمان کو اسلام آبادآنے اور یہاں قیام کے دوران خرچ کے لئے خاطر خواہ رقم مہیا کی جاتی ہے۔ ان کمیٹیوں کی معرفت مگر اپنی زندگی کے 35برس صحافت کی نذر کردینے کے باوجود میں وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے مابین جاری مذاکرات کے بارے میں ’تازہ ترین‘ آج تک نہیں جان پایا ہوں۔
’اندر کی بات‘ کا علم مجھے فقط ان دنوں مل جاتا جب باقاعدگی سے انگریزی اخبارات کے لئے کالم لکھا کرتاتھا۔ مجھے سفارتی تقاریب کے بارے میں کالم لکھنے کی علت بھی لاحق تھی۔ اس کی بدولت ان چند ممالک کے اہم سفارت کاروں سے بے تکلفانہ تعلقات قائم ہوجاتے جو آئی ایم ایف کی فیصلہ سازی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان سے بنائے تعلقات کے طفیل مجھے اندازہ ہوجاتا کہ ان دنوں حکومت پاکستان اور عالمی معیشت کے نگہبان اداروں کے مابین کیا معاملات چل رہے ہیں۔ معیشت لیکن میرا پسندیدہ موضوع نہیں رہا۔ عموماً سفارتی تقاریب میں مذکورہ بالا تناظر میں جمع ہوئی معلومات نظرانداز کردیتا۔ ایک بات مگر سمجھ آگئی کہ آئی ایم ایف کی محتاجی اختیار کرلینے کے بعد ہماری وزارتِ خزانہ فقط ’شوشا‘ہے۔ یہ فیصلہ ساز وزارت نہیں بلکہ عالمی معیشت کے نگہبان ادارے کے لئے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔ آئی ایم ایف کے بقول غالب بنا ہے شاہ کا مصاحب ہوتے ہوئے بھی ہمارے وزیر خزانہ اِتراتے ہوئے پھرتے ہیں۔ ڈاکٹر محبوب الحق اور سرتاج عزیز بھی کئی برسوں تک آئی ایم ایف وغیرہ کے مصاحبین رہے تھے۔ ان کے ہاں مگر عاجزی وانکساری کی روایت باقی تھی۔ وہ ابھی ’ٹیکنوکریٹ‘ نہیں ہوئے تھے۔ شلوار کرتہ پہننے کو ترجیح دیتے اور مجھ جیسے دو ٹکے کے صحافیوں سے عام فہم اردو میں گفتگو بھی کرلیا کرتے۔ معاشی مسائل زیر بحث لاتے ہوئے ان کا رویہ شفیق اساتذہ جیسا ہوتا۔
جنرل مشرف کے دور میں لیکن عالمی بینکاری سے شوکت عزیز نمودار ہوئے۔ میرے ساتھ ان کا رویہ ہمیشہ مربیانہ رہا۔ عمومی زندگی میں لیکن وہ کسی بین الاقوامی ادارے کے افسر شاہانہ نظرآتے۔ حفیظ شیخ اور شوکت ترین بھی ایسے ہی ’ٹیکنوکریٹس‘ تھے اور ان دنوں ان کی جگہ اورنگزیب صاحب نے لے رکھی ہے جو صحافیوں کو اچھوتوں کی طرح اپنے سایے سے بھی دور رکھتے ہیں۔ ربّ کا صد شکر کہ میں ان دنوں عملی رپورٹنگ سے ریٹائر ہوچکا ہوں اور معیشت پر لکھنا میری ذمہ داری نہیں ہے۔
صحافت کو بے خبر اچھوت بنادینے کا اہم ترین ثبوت منگل کی سہ پہر بے نقاب ہوا جب بینڈ باجہ بارات کے ساتھ معمول کی نشریات روک کر ہمیں دن کے 24گھنٹے باخبر رکھنے کے دعوے دار ٹی وی چینلوں نے ’خبر‘ دی کہ سالانہ بجٹ اب قومی اسمبلی میں 5جون 2026بروز جمعہ پیش نہیں کیا جائے گا۔ کیوں؟ اس سوال کا جواب کسی حکومتی وزیر یا ترجمان نے فراہم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ وزیر یا حکومتی ترجمان بجٹ پیش ہونے میں التوا کا جواز فراہم کرنے کا تردد محسوس نہیں کرتے کیونکہ وہ خود کو عوام کے روبرو ذمہ دار تصور نہیں کرتے۔ ’رعایا‘ بھی ان کی من مانیوں کو نشے کے عادی افراد کی طرح سرجھکائے برداشت کرنے کی ریت نسلوں سے اپنا چکی ہے۔ ’جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے‘ ہم بے بس لوگوں کا حکمران اشرافیہ کے لئے جبلی پیغام ہے۔
بینڈ،باجہ اور بارات کے ساتھ5جون کو بجٹ پیش نہ ہونے کی ’بریکنگ نیوز‘دینے والے صحافیوں نے ازخود مگر یہ طے کرلیا کہ ان کے ناظرین کے ذہنوں میں بجٹ پیش کرنے میں التواکی وجوہات جاننے کی تڑپ محسوس ہورہی ہوگی۔
انہوں نے لہٰذا اپنے ’اندر کی خبر‘ رکھنے والے رپورٹروں سے رابطے شروع کردئیے۔رپورٹروں نے تاثر یہ دیا کہ بجٹ پیش کرنے سے قبل کچھ اہم ’قانون سازی‘ درکار تھی۔ ہمیں بتایا گیا کہ مبینہ ’قانون سازی‘ پیپلز پارٹی کے عدم تعاون کے سبب ہو نہیں پائی۔ اس لئے بجٹ قومی اسمبلی کے روبرو رکھنے میں التوا کا اعلان کرناپڑا۔ ’قانون سازی‘ جیسی مبہم اصطلاح استعمال کرتے ہوئے میرے جان عزیز صحافیوں نے اس امر پر توجہ دینا مناسب ہی تصور نہ کیا کہ مسلم لیگ نون ان دنوں موجودہ قومی اسمبلی کی اکثریتی جماعت بن چکی ہے۔ ’قانون سازی‘ کے لئے اسے پیپلز پارٹی یا کسی بھی دیگر جماعت کے تعاون کی ضرورت نہیں۔ یہ فریضہ سادہ اکثریت کے ساتھ چٹکی بجاتے سرانجام دیا جاسکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کا تعاون ’قانون سازی‘ نہیں بلکہ ’آئینی ترمیم‘ (جی ہاں مذکورہ اصطلاح کو خط کشیدہ کے ذریعے اجاگر کرلیجئے) درکار تھا اور یہ وہی ترمیم ہے جس کے تذکرے 27ویں ترمیم پاس ہوجانے کے دن سے شروع ہوگئے تھے۔ سوال اٹھتا ہے کہ 27ویں ترمیم منظور ہوجانے کے کئی دن گزرنے کے باوجود حکومت اگر پیپلز پارٹی کو نئی ترمیم کے لئے رضا مند نہیں کرپائی تو آئندہ ایک ہفتے یا دس دن کے دوران اسے کون سی گیدڑسنگھی سنگھا کر اپنامقصد حاصل کرپائے گی۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)