معاہدہ ہونے پر ایرانی سپریم لیڈر کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی اعزاز ہوگا: صدر ٹرمپ
امریکی صدر نے نئے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ممکنہ ملاقات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو وہ اس ملاقات کے لیے تیار ہوں گے۔
امریکہ میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران صدر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ فی الحال ملاقات کے خواہش مند نہیں تاہم اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو یہ ان کے لیے باعثِ اعزاز ہو گی۔ ایران کے سپریم لیڈر سے ممکنہ ملاقات کے حوالے سے صحافی نے پوچھا کہ ’کیا آپ کے خیال میں آپریشن ایپک فیوری جس میں اُن کے والد، اہلیہ اور بچے ہلاک ہو گئے، وہ دل میں ناراضی رکھتے ہوں گے اور ملاقات نہیں چاہیں گے؟‘ جس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں شاید ان کے لیے پسندیدہ شخص نہ ہوں تاہم میرے خیال میں وہ پروفیشنل شخص ہیں (غالباً ٹرمپ کا اشارہ خامنہ ای کی بطور قابل اور طاقتور شخصیت اور ان کے فوجی پس منظر کی جانب ہے۔)
انہوں نے کہا کہ کچھ حلقوں میں ایرانی رہنما کی اچھی شہرت بھی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ’کچھ لوگ ان کے بارے میں منفی باتیں کہتے ہیں لیکن بہت سے لوگ میرے بارے میں بھی منفی باتیں کہتے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر معاہدہ طے پاتا ہے تو ملاقات ممکن ہے اور وہ اس پر آمادہ ہوں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس نوعیت کی ملاقات وائٹ ہاؤس میں ہو سکتی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے اس بارے میں زیادہ نہیں سنا۔
صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود اس تجویز کو پیش نہیں کیا، تاہم بعض افراد نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ’اگر ایسا ہوتا ہے تو میرے لیے اعزاز کی بات ہو گی۔‘