کتاب، جی بی انتخابات اور اٹلی
- تحریر محمد مہدی
- جمعہ 05 / جون / 2026
ناول کے بادشاہ گبرئیل گارشیا مارکیز نے کہا تھا کہ اگر کوئی سیاسی نکتہ بیان کرنا چاہتے ہو تو ایک اچھی کتاب لکھو۔ دلاور چودھری کے ستتر کالموں پر مشتمل کتاب ہاتھوں میں ہے اور گارشیا مارکیز کے الفاظ کانوں میں گونج رہے ہیں کہ مارکیز نے ایسی ہی کتاب تحریر کرنے کی بابت اپنا نکتہ نظر بیان کیا تھا۔
دلاور چودھری کی کتاب ”خواب لئے پھرتا ہوں“ میں ہر اس شخص کا خواب نظر آئے گا جو خواب دیکھنے کی جرات رکھتا ہے اور پھر تعبیر کے حصول کے لئے خواب کا نتیجہ بھی بیان کر دیتا ہے۔ ان کی تحریر جب بھی پڑھی یا اب یہ کالموں کا مجموعہ سامنے رکھا تو ہمیشہ ان کی شخصیت کو بھی تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کیوں کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ سامنے یہ جیتا جاگتا انسان دراصل بولتی لائبریری بن چکا ہے۔ ان کی تحریر ہو یا گفتگو بات کتاب کے حوالے سے شروع ہوتی ہے اور کتاب پر ہی ختم ہوتی ہے۔
”خواب لئے پھرتا ہوں“ میں موضوع کوئی بھی ہو مگر اس پر رائے زنی عامیانہ یا صرف صفحہ پر صفحہ تحریر کرنے کی غرض سے نہیں ہوتی ہے بلکہ پورا مدعا بیان کرنا ان کا خاصا ہے۔ اہل علم میں ایک رویہ ضرور پنپ جاتا ہے کہ بس ”مستند ہے میرا فرمایا ہوا“ مگر چودھری صاحب کی شخصیت کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی علمی زعم سے کوسوں دور ہے، آپ جتنا مرضی اختلاف کریں جو چاہے نقطہ نظر پیش کریں، ان کے ماتھے پر شکن ابھرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ آپ کی بات سننے اور اپنا موقف بیان کرنے کے لئے وہ تیار ہوتے ہیں اگر کسی کو آج کے دور کے حالات پر بے لاگ تبصرہ درکار ہے تو پھر ”خواب لئے پھرتا ہوں“ اس کے لئے لازم ہے۔
انتخابات جمہوری عمل کے لئے ایک لازمی حصہ شمار ہوتے ہیں اور اس وجہ سے ہی گلگت بلتستان میں انتخابات کا زور و شور سے انعقاد ہو رہا ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے گلگت بلتستان آج بھی اپنے ان آئینی حقوق سے محروم ہے کہ جو اس کا مکمل طور پر حق ہے۔ نواز شریف نے اکتوبر 2015 میں سرتاج عزیز مرحوم کے ذمہ یہ کام لگایا تھا کہ وہ گلگت بلتستان کے تمام آئینی حقوق کو یقینی بنانے کے لئے جامع لائحہ عمل تیار کریں۔ اس کمیٹی میں اس وقت کے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان گلگت بلتستان کی نمائندگی کر رہے تھے اور انہوں نے حق نمائندگی ادا بھی کر دیا تھا۔ حافظ حفیظ الرحمان کی مشاورت سے مارچ 2017 میں اس کمیٹی نے اپنی سفارشات مکمل کر کے 93 صفحات پر مشتمل رپورٹ وزیر اعظم نواز شریف کے سامنے پیش کر دی۔ حافظ حفیظ الرحمان نے سرتاج عزیز کمیٹی رپورٹ میں یہ سفارش شامل کرا دی تھی کہ گلگت بلتستان کو عارضی صوبے کا خصوصی درجہ دیا جائے، پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 51 اور 59 میں ترامیم کر کے گلگت بلتستان کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نشستیں دی جائیں۔
ان آئینی امور پر ترامیم کے لئے وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کو سینیٹ میں مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کے لئے مارچ 2018 کے سینیٹ انتخابات تک انتظار کرنا تھا کہ اس میں مسلم لیگ نون کو مطلوبہ اکثریت ملنا یقینی تھی مگر پھر جولائی 2017 آیا اور منتخب وزیر اعظم کو سازش کا شکار کر دیا گیا۔ 2018 کے سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ نون کو بطور جماعت حصہ ہی نہیں لینے دیا گیا اور سینیٹ میں مطلوبہ اکثریت جو گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کو ادا کر دیتی، سے مسلم لیگ نون کو محروم کر دیا گیا۔ مسلم لیگ نون کے اگلے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دور میں گورنمنٹ گلگت بلتستان آرڈر 2018 جاری ہوا مگر جولائی 2018 میں اس پر بھی ہتھوڑا برسا دیا گیا۔ اگر نواز شریف حکومت 2017 میں سازش سے ختم نہ کی جاتی اور سینیٹ کے انتخابات شفاف ہونے دیے جاتے تو حافظ حفیظ الرحمان اپنے لوگوں کے آئینی معاملات کب کے حل کرا چکے ہوتے۔ جیسے وہ جی بی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، سکردو سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی، گلگت سیف سٹی، یونیورسٹی آف بلتستان سکردو، کینسر ہسپتال گلگت، گلگت کارڈیک ہسپتال، گلگت سکردو موٹر وے اور نلتر ایکسپریس وے جیسے منصوبے دے کر عوام کے بہت سارے مسائل حل کر چکے ہیں۔
مسائل پاکستان کے حل کرنے کی غرض سے اور بھی دروازے کھلے ہوئے ہیں جیسے کہ یورپی یونین میں پاکستان کی ایک توانا آواز اٹلی کی صورت میں موجود ہے۔ ابھی گزشتہ رات ہی اٹلی کی سفیر میریلینا آرملین اور مسٹر اگستو کے منعقد کردہ پروگرام میں موجود تھا تو مجھے یاد آیا کہ اٹلی وہ ملک ہے جس نے پاکستان کی بحری اہمیت کو بالخصوص اس دور میں بھی سمجھا جب انڈیا کا پروپیگنڈا پاکستان کے خلاف عروج پر تھا۔ اس وقت بھی اٹلی کی بحریہ کے جہاز کراچی آئے تھے۔ یہ انڈیا کے سندور اجڑنے سے قبل کی بات ہے۔ بالکل اسی طرح سے جب انڈیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا تو اس کو روکنے کے لئے دونوں ممالک نے باہمی اشتراک پر مشتمل پاک اٹلی کافی کلب قائم کیا تھا۔
پاکستانیوں کی تو قابل لحاظ تعداد ادھر موجود ہی ہے، یہ جو بار بار جی ایس پی پلس سٹیٹس کے آگے سوالیہ نشان لگ جاتا ہے یہ اٹلی کے ساتھ موثر حکمت عملی اختیار کرنے سے مستقل جواب پا سکتا ہے۔ بس شرط صحیح طرح سے اس کو استعمال کرنے کی ہے۔
(بشکریہ: ہم سب اردو)