حکومت کی ایک اور ناقص ٹیکس اسکیم

وزیر خزانہ  نے  ’ فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم‘ کے نام سے ایک نئے ٹیکس منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت دو کروڑ روپے سالانہ تک تجارتی آمدنی والے تاجر   کل  ٹرن اوور کا ایک فیصد ٹیکس کے طور پر ادا کریں گے۔ اس اسکیم میں آنے کے بعد ٹیکس حکام کو ایسے تاجروں کے مال  و اسباب، ذرائع آمدنی  اور کھاتوں کی جان پڑتال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس طرح ملک کے لائق فائق وزیر خزانہ نے یہ امید قائم کی ہے کہ ٹیکس حکام کی  پڑتال سے بچنے کے لیے چھوٹے تاجر خود ہی اس اسکیم کا حصہ بن جائیں گے۔ تاہم جس طریقے سے اس اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے اور اس میں جو اصول وضع کیے گئے ہیں، ان سے تو یہی لگتا ہے کہ خود وزیر خزانہ اور ان کے معاونین کو  بھی اس نئے منصوبہ کی ناکامی کا ویسے ہی یقین ہے جیسا ماضی  میں شروع کیے گئے منصوبوں کے ساتھ ہوتا رہاہے۔

اس نئے ٹیکس منصوبہ کا اعلان وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب، نائب وزیر خزانہ بلال اظہر اور بورڈ آف ریونیو کے رکن حامد عتیق  نے ایک  پیشگی ریکارڈ شدہ پیغام کے ذریعے کیا ہے۔ یعنی اس بات کو یقینی بنا گیا کہ کوئی صحافی اس بارے میں  سوال نہ پوچھے اور اس نام نہاد ٹیکس نیٹ بڑھانے کے اچھوتے خیال کی ’حساسیت‘ پر سوالات نہ اٹھائے جائیں۔ اس سے پہلے بھی   حکومت تاجر دوست اسکیم اور اسی قسم کے دوسرے اقدامات کے ذریعے چھوٹے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوششیں کرتی رہی ہے تاہم ایسا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ ہر بار حکومت  تاجر تنظیموں کے دباؤ میں ناقص منصوبہ بندی کرتی ہے جس کی وجہ سے عملی طور پر یہ تجربے ہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔

اس  نئی اسکیم کے بارے میں بھی کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونا ممکن نہیں ہے۔ اگر وزیر خزانہ اور ان کے ساتھیوں کو اس اسکیم  کے مؤثر اور قابل عمل ہونے کا احساس ہوتا تو یا تو اسے پریس کانفرنس میں میڈیا کے سامنے پیش کیاجاتا تاکہ صحافی سوالات کے ذریعے اس منصوبہ کی چھان پھٹک کرسکتے۔ یا پھر وزیر خزانہ براہ راست قومی اسمبلی میں یہ منصوبہ پیش کرتے۔ ایک تو ارکان پارلیمنٹ کی آرا شامل کرکے اس منصوبہ کو بہتر بنایا جاسکتا تھا، اس کے ساتھ ہی اراکا ن کی نشاندہی سے منصوبے کی کمزوریوں کی نشاندہی ہوسکتی تھی۔ اس طرح ممکن ہے کوئی ایسا منصوبہ تیار ہوجاتا  جس کے تحت ملک کے زیادہ سے زیادہ تاجروں کو ٹیکس ادا کرنے اور قومی خزانے میں شراکت دار بننے  پر آمادہ کیا جاسکتا۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے ان میں سے کوئی بھی طریقہ اختیار نہیں کیابلکہ غیر معولی طور پر  ایک ریکارڈ شدہ بیان میں اس کا اعلان ضروری سمجھا گیا۔ اس قسم کی کارروائی کو   حکومت کی کارکردگی کو نمایاں کرکے پیش کرنے  کے سوا کوئی دوسرا نام دینا ممکن نہیں ہے۔ جہاں تک ملک کے  ٹریڈرز کا تعلق ہے ، وہ ایسے کسی حکومتی ’جال‘ میں نہیں پھنسیں گے جس کے بعد انہیں باقاعدہ ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔

سب سے پہلے تو یہی نکتہ قابل غور ہونا چاہئے کہ  وزارت خزانہ نے یہ اسکیم تاجر تنظیموں کے تعاون اور منظوری سے  تیار کی ہے۔ تاجروں کے مفادات کا تحفظ کرنے والی کوئی تنظیم کیسے حکومت کی طرف سے ٹیکس جمع کرو مہم  کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کرے گی۔  سونے پر سہاگہ یہ کہ  اسی آڈیو پیغام میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر اس اسکیم کے تحت رجسٹر ہونے والے کسی تاجر کو ٹیکس حکام کی طرف سے کوئی پریشانی لاحق ہو تو اس تنازعہ کا حل کوئی  عدالت یا محکمہ جاتی ادارہ نہیں کرے گا بلکہ  تاجروں کی مقامی تنظیم اس معاملے میں ’منصف‘ کا کردار ادا کرے گی۔ گویا بلی کو دودھ کی نگرانی پر بٹھانے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔

یوں بھی اسکیم کے مطابق دو کروڑ روپے مجموعی آمدنی تک والے تاجر اس  اسکیم میں رجسٹر ہوں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ  اس بات کا تعین کیسے ہوگا کہ کسی کاروبار کی ٹرن اوور دو کروڑ ہے یا دس کروڑ؟ اس کا کوئی قابل عمل  میکنزم واضح نہیں کیاگیا۔ جیسا کہ شواہد سے اندازہ ہوتا ہے، اس کا انحصار بھی تاجر تنظیموں پر ہی ہوگا کہ وہ خود ہی اپنی تنظیم کے ارکان کی آمدنی کا تعین کریں ۔ اس طرح  وزارت خزانہ خود اس ٹیکس نظام کو ناقص و ناکارہ بنا دینے میں کردار ادا کررہی ہے جسے اس نظام کو شفاف اور مضبوط بنا کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس دینے  پر مجبور کرنا چاہئے۔ سال ہا سال کے تجربات سے واضح ہوتا ہے کہ تاجروں کی تنظیمیں ٹیکس میں اضافہ کی قومی ضرورت کو تسلیم  نہیں کرتیں۔ ان کا  خیال  ہے کہ  حکومت تاجروں کو نہ تو سہولتیں دیتی ہے اور نہ ہی اسے ٹیکس لینے کا حق حاصل ہے۔ ایسے واضح ایجنڈے پر کام کرنے والی تنظیمیں کیسے  ٹیکس میں اضافہ کے اس نئے منصوبہ میں حکومت کا دست و باز وبن  سکتی ہیں؟

یوں بھی  اس اسکیم میں شامل ہونے والے تاجروں کی آمدنی کی حد دو کروڑ مقرر کی گئی ہے۔ اور یہ تقاضہ کیا گیا ہے کہ  یہ لوگ اپنی ٹرن اوور کا ایک فیصد ٹیکس کے طور پر جمع کروائیں۔ اس کے ساتھ ہی  تاجروں کو اس طرف راغب کرنے کے لیے دیگر  ادا شدہ محاصل   کی چھوٹ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ اگر منصوبہ کے مطابق واقعی لاکھوں تاجر اس اسکیم کا حصہ بن گئے تو  وہ واقعی  دو لاکھ روپے سالانہ سرکاری خزانے میں جمع کرائیں  گے یا نت نئے بہانوں سے اس میں رعایت کے راستے تلاش کیے جائیں گے۔    نئی ٹیکس اسکیم  ناقص اور ناقابل عمل ہے۔ ابھی سے یہ اعلان بھی کردیا گیا ہے کہ  کھوکھوں   یاریڑھی بانوں کو اس اسکیم یا ٹیکس ادا کرنے سے چھوٹ ہوگی۔  حالانکہ حکومت کے پاس کوئی  ایسا پیمانہ موجود نہیں ہے جس کے ذریعے یہ  طے کیا جاسکے کہ کوئی  کھوکھے یا ریڑھی والا کتنے روپے کی روزانہ یا سالانہ سیل کرتا ہے۔   محلے بازاروں کی نکڑ پر ٹھیلہ لگانے والے بعض تاجر باقاعدہ دکان چلانے والے تاجروں سے کئی گنا زیادہ  آمدنی کے حامل ہوتے ہیں اور ان کے اوور ہیڈ مصارف بھی بہت کم ہوتے ہیں۔ اس طرح آغاز سے ہی یہ اسکیم  غیر منصفانہ اصول پر استوار کی گئی ہے۔

اس نئی ٹیکس اسکیم کا سب سے بڑا نقصان  ملک کے موجودہ ٹیکس نظام کو نافذ کرنے والے اداروں  کے اختیار اور دائرہ کار کو پہنچے گا۔ یہ ادارے بدانتظامی اور رشوت ستانی کی وجہ سے پہلے  ہی بدنام  ہیں اور  ٹیکس نیٹ بڑھانے اور  ٹیکس وصول کرنے کے قوانین نافذ کرانے میں ناکام ہیں۔ اس پر اگر حکومت ان کے اختیارات محدود کرنے یا ان کی دیانت و شفافیت پر سوال اٹھانے والے  نئے منصوبے جاری کرتی رہے گی تو ملک میں ٹیکس نظام پر سے رہا سہا اعتبار بھی ختم ہوجائے گا۔ اس سے پہلے بھی یہ واضح ہے کہ ملک میں صرف تنخواہ دار طبقہ ہی ٹیکس ادا کرتا ہے ۔ اپنا کاروبار کرنے والے یا تو ٹیکس دیتے ہی نہیں یا پھر اپنی حقیقی آمدنی سے بہت کم ٹیکس دے کر سرخرو ہونا چاہتے ہیں۔

اس پس منظر میں نئی اسکیمیں  بنانے کی بجائے عوام اور ان کے ذریعے تاجروں میں ٹیکس نظام  پر اعتبار بحال  کرنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔  قومی آمدنی میں اضافہ  نہ ہونے کی وجہ ملک کا ناقص ٹیکس نظام ہے۔ اسے بہتر  اور مؤثر بنا کر ہی  انکم ٹیکس کی مد میں وسائل میں اضافہ ممکن ہے۔ ٹیکس کے بارے میں زیرو ٹالرنس والے بیشتر ممالک میں ٹیکس وصولی کی نت نئی اسکیمیں جاری کرنے کی بجائے  ، ہر کس و ناکس کو  ہر سال اپنی آمدنی و اخراجات کا گوشوارہ جمع کرانے کا پابند کیاجاتا ہے۔  اس طرح ہر شخص پر آمدنی کے حساب سے ٹیکس  عائد ہوجاتا ہے۔ جن لوگوں یا کاروبار کی  آمدنی نہیں ہوتی ، انہیں ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا لیکن ان کی معلومات ٹیکس نیٹ میں جمع ہوتی ہیں تاکہ مستقبل میں کسی تبدیلی کی صورت میں وہ ٹیکس کی مد میں اپنا حصہ اداکریں۔

اس منصوبے کو مروج کرنے کے لیے ایک تو ٹیکس نظام کو سادہ اور پیچدگیوں سے پاک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرے احتساب  کے مؤثر نظام کے ذریعے اس نظام کے فعال ہونے کی ضمانت دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عام لوگوں اور تجارت کرنے والے عناصر میں قومی ذمہ داری کے بارے میں آگاہی مہم چلائی جاتی ہے۔  کسی بھی ملک کا نظام تعلیم اور میڈیا اس حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ لیکن ہمارے وزیر خزانہ  نئی  نادر اسکیموں کا اعلان کرتے ہوئے میڈیا کا سامنا ہی  کرنا نہیں چاہتے۔