آزاد کشمیر کی جوائینٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کے بعد فائرنگ کا واقعہ
آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں فائرنگ کے نتیجے میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ایک رکن ہلاک ہو گیا ہے جس کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں شاہ زیب نامی شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔ راولاکوٹ کے ایس ایس پی خاور شوکت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شاہ زیب کی ہلاکت کے بارے میں کہا کہ وہ اس کی تحقیقات کر رہے ہیں اور جب تحقیقات مکمل ہو جائیں گی تو پھر وہ اس واقعہ کے بارے میں تفصیلات شییر کریں گے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ مذکورہ نوجوان راولاکوٹ سے عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن عمر نذیر کے ہمراہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے کہ بر منج پل کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں شاہ زیب موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ عمر نذیر کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔ اگرچہ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال کی کال دی ہوئی ہے لیکن تاجروں کی بڑی تعداد نے آج سے ہی اپنی دکانیں بند کرنا شروع کردی ہیں۔
کمشنر راولاکوٹ سردار وحید نے بی بی سی کو بتایا کہ عمر نزیر اور شاہ زیب جلسے کے بعد واپس آرہے تھے کہ ڈبل کیبن میں بیٹھے ہوئے افراد جو کہ سول کپڑوں میں ملبوس تھے ان کی جانب سے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی اور فائرنگ کے نتیجے میں شاہ زیب ہلاک ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی طرف سے جو رپورٹ دی گئی ہے اس کے مطابق عمر نذیر کی گاڑی سے بھی فائرنگ کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے گاڑی پر فائرنگ نہیں کی گئی اور نہ ہی پولیس اس وقت جائے حادثہ پر پہلے سے موجود تھے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صحافی فرحان طارق کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان راولاکوٹ میں شیخ زید ہسپتال کے سامنے ڈیڈ باڈی رکھ کر احتجاج کر رہے ہیں۔ اس وقت سینکڑوں کارکنان ہسپتال کے باہر موجود ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کی ایک قابل ذکر تعداد ہسپتال کے باہر موجود ہے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔
اس سے پہلے آزاد کشمیر کے صدر نے جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی تھی۔ آزاد کشمیر کے محکمۂ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں عوامی ایکشن کمیٹی پر دہشتگردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے اپنے اقدام سے ریاست میں امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔
محکمۂ داخلہ کا الزام ہے کہ جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے عوام کو ریاست کے خلاف اُکسایا، نفرت انگیزی کو فروغ دیا اور معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر نے انسداد دہشتگردی ایکٹ 2014 کی شق 12 کے تحت جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیموں کی فہرست ’فرسٹ شیڈول‘ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
تاحال عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے اس اعلامیے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ یہ تنظیم ماضی میں مظفر آباد سمیت دیگر علاقوں میں احتجاج کر چکی ہے اور اس کی جانب سے اسمبلی میں 12 مخصوص نشستوں، حکمران اشرافیہ کی مراعات اور کوٹہ سسٹم کے خاتمے سمیت دیگر مطالبات کیے جاتے رہے ہیں۔
آئندہ منگل کو احتجاج کی کال کے پیش نظر جموں و کشمیر یونیورسٹی نے آٹھ جون سے ہونے والے تمام امتحانات تاحکمِ ثانی مؤخر کر دیے ہیں جبکہ مظفر آباد سمیت کئی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس سست روی اور تعطل کا شکار ہے۔
عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں نو جون کو مکمل ہڑتال کی کال دے رکھی ہے جبکہ آئی جی کشمیر ڈاکٹر لیاقت علی کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت سے اضافی سکیورٹی طلب کی گئی ہے اور دیگر ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
دریں اثنا آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ میں مہاجرین کی 12 نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت آج ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ یہ کیس سن رہا ہے۔ چیف جسٹس نے اس کیس میں معاونت کے لیے سپریم کورٹ کے دو سینیئر وکلا کو عدالتی معاون مقرر کیا ہے۔ جبکہ عوام الناس (پبلک ایٹ لارج) کو بھی کیس میں مدد کے لیے نوٹس جاری کیے گئے ہیں تاکہ متعلقہ فریق یا دلچسپی رکھنے والے شہری اپنا نقطہ نظر پیش کر سکیں۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں زیرِ سماعت ہے جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے انہی مہاجر نشستوں کے معاملے پر 9 جون کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔ ان 12 نشستوں میں سے 10 صوبہ پنجاب میں واقع ہیں۔
دوسری جانب چند وکلا نے +قمر کشمیر کے قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر کی تعیناتی کو بھی ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ چوہدری لطیف اکبر اس وقت قانون ساز اسمبلی کے سپیکر ہیں اور 31 جنوری کو سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود کی وفات کے بعد سے قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔ درخواست گزار وکلا کا مؤقف ہے کہ صدر کا عہدہ ایک اہم آئینی منصب ہے اور اسے طویل عرصے تک خالی نہیں رکھا جا سکتا۔
ممکنہ احتجاج اور ہڑتال کے پیش نظر حکومت نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ مظفرآباد، میرپور، کوٹلی اور دیگر بڑے شہروں میں رینجرز تعینات کر دئے گئے ہیں۔ محکمۂ داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق 12 ہزار سے زائد رینجرز اہلکار مختلف علاقوں میں پہنچ چکے ہیں، جبکہ اسلام آباد پولیس کے تقریباً 1500 اہلکاروں کی تعیناتی بھی متوقع ہے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں تا حکمِ ثانی انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے، جبکہ موبائل فون سروس بدستور فعال ہے۔
آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے اسلام آباد میں اعلیٰ حکومتی نمائندوں سے ملاقات کی اور انہیں موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن راجہ الیاس نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا احتجاج مکمل طور پر پُر امن ہوگا۔ ان کے مطابق وہ حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل در آمد کا مطالبہ کر رہے ہیں اور مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔