ہمارا قومی بیانیہ کیا ہے؟

کیا آج ہمارے پاس کوئی ایسا بیانیہ موجود ہے جسے ہم  ’قومی‘ قرار دے سکیں؟ قومی بیانیے سے میری مراد وہ بیانیہ ہے جس پر پوری قوم کا اتفاق ہو۔صرف اختلاف ہی سماجی عمل کا حصہ نہیں ہے، اتفاق بھی ایک سماجی حقیقت ہے۔

یہ مذہب ہو یا سیاست، ہم پر اختلاف کا اتنا غلبہ ہے کہ ہم اسی کو موضوع بنائے رہتے ہیں۔ اپنا مؤقف مثبت طور پر پیش کر نے کے بجائے ہمارا زیادہ اصرار تنقید پر ہوتا ہے۔ ہم زیادہ توانائیاں اس پر خرچ کرتے ہیں کہ اپنا امتیاز ثابت کر سکیں۔ جب یہ رویہ تنقید کی زد میں آتا ہے تو ہم اختلاف کے حق میں دلائل تلاش کرتے رہتے ہیں۔ اسے ایک فطری عمل قرار دیتے ہیں۔ یہ بات درست ہے مگر کیا اتفاق بھی ایک فطری عمل نہیں ہے؟ کیا ہم اس کو بھی اسی شدت اور اصرار کے ساتھ موضوع بناتے ہیں؟
استاد جاوید احمد غامدی صاحب سے کسی نے پوچھا: آپ کے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب سے کیا اختلافات ہیں؟ ان کا جواب تھا: آپ مجھ سے یہ سوال بھی کر سکتے تھے کہ میرے ان کے ساتھ اتفاقات کیا ہیں؟ اختلافات کی فہرست شاید بہت محدود اور اتفاقات کی طویل ہو۔ کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ سیاسی و مسلکی اور مذہبی و ثقافتی اختلافات کے باوجود ہمارے مابین اتفاقات کیا کیا ہیں اور کیا ہم ان کی بنیاد پر مل کر کوئی قومی بیانیہ بنا سکتے ہیں؟ ایسا بیانیہ جس پر سب متفق ہوں؟

یہ کام ابتدائی مرحلے میں اہلِ دانش اور سول سوسائٹی کی سطح پر ہوتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں تمام سماج اور پھر ریاست اسے قبول کر لیتے ہیں۔ یورپ میں ایسا ہی ہوا تھا۔ سماجی سطح پر اہلِ علم و دانش نے ایک تحریکِ تنویر اٹھائی اور پھر اس کی روشنی میں سارا یورپ نہا گیا۔ اعیان، اہلِ مذہب، بادشاہ، اہلِ سیاست کوئی گروہ ایسا نہ رہا جس نے خود کو اس تحریک کے مقاصد سے ہم آہنگ نہ بنایا ہو۔ تحریکِ پاکستان نے بھی ایسا ہی ایک بیانیہ دیا جسے مسلمانوں کی اکثریت نے قبول کر لیا۔ اسی طرح کا قومی بیانیہ انڈونیشیا میں بھی ہے  ’پنج شیلا‘ کے عنوان سے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اختلاف ختم ہو گیا۔ وہ باقی رہا مگر اتفاق نے ایک قومی بیانیے کی صورت اختیار کر لی۔

معلوم ہوا کہ اختلاف کے باوصف لوگ اجتماعی نفع اور مفاد کے لیے جمع ہو سکتے ہیں، اگر کوئی اس کی کوشش کرے۔ یہ پاکستان ہو یا بھارت، ایران ہو یا امریکہ۔ انسانی فطرت ایک جیسی ہے اور سماجی حرکیات بھی ایک جیسی۔ اگر ان فطری مطالبات کو سامنے رکھا جائے تو عالمِ انسانیت کے لیے ایک بیانیہ تجویز کیا جا سکتا ہے۔ علم کی دنیا میں اس کے شواہد موجود ہیں۔ نبی کریمﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع اور اس سے پہلے میثاقِ مدینہ میں جو آدابِ زندگی سکھائے، بیسویں صدی میں ترتیب پانے والا انسانی حقوق کا چارٹر اسی کی صدائے بازگشت ہے۔ ہمارے اسلاف نے جو مقاصدِ شریعت بیان کیے ہیں دورِ جدید میں وہی قومی ریاست کے مقاصد ہیں۔ یہ انسانی تعصبات اور مفادات ہیں جو ہمیں امتیازات کی طرف دھکیلتے ہیں۔ اگر انسان ان دونوں سے آزاد ہو سکے تو عالمِ انسانیت کو جمع کیا جا سکتا ہے، امتیازات کو برقرار رکھتے ہوئے بھی۔

آج پاکستان میں سڑکیں بن رہی ہیں مگر ٹریفک کا رش کم ہونے کو نہیں آ رہا۔ کوئی میچ ہو،تقریب ہو، کسی مہمان کی آمد ہو،ہزاروں لوگ اس سے بے پناہ نقصان اٹھاتے ہیں اور شدید اذیت سے گزرتے ہیں۔ کیا سب شہری یہ نہیں چاہتے کہ اس تکلیف سے نجات ملے؟ زرعی زمینوں پر ریت ا ور سیمنٹ کے پہاڑ کھڑے کیے جا رہے ہیں۔ اس کا ناگزیر نتیجہ اناج اور پانی کے ذخائر میں کمی ہے۔ کیا ہم سب یہ نہیں چاہتے کہ ہماری یہ زمین باقی ر ہے؟ پاکستان میں مسلمانوں کے کئی مسالک ہیں۔ اس کے ساتھ غیر مسلم بھی آباد ہیں۔ کیا ہماری یہ خواہش نہیں ہے کہ ملک میں مذہبی ہم آہنگی ہو۔ سب کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی ہو؟ اڑھائی کروڑ بچے اس وقت تعلیم کی سہولت سے محروم ہیں۔ ہسپتال مریضوں کے تعداد کے سامنے سکڑ چکے۔ کیا ہم یہ خواہش نہیں کرتے کہ پاکستان میں ہر بچے کو مفت تعلیم اور ہر شہری کو صحت کی سہولت ملے؟ ہم چاہیں تو اس فہرست کو طویل کر سکتے ہیں۔ اس طرح ہم ان امور کی آسانی کے ساتھ نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی بنیاد پر قومی بیانیہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

بعض معاملات ایسے ہیں جنہیں لازماً قومی بیانیے کا حصہ ہونا چاہیے لیکن ہم جانتے ہیں کہ سرِ دست، بوجوہ ہم ان پر اصرار نہیں کر سکتے۔ جیسے ریاست کے معاملات عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس ہوں۔ انتخابات آزادانہ اور شفاف ہوں۔ قانون سازی کا مرکز پارلیمان ہو۔ ان امور کو شامل کیے بغیر کوئی قومی بیانیہ نہیں بن سکتا۔ اس اعتراف کے ساتھ کیا یہ قابلِ فہم ہے کہ ہم ان پر مورچہ لگا لیں اور ان باتوں کو نظر انداز کر دیں جن پر آج پیش رفت ہو سکتی ہے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ یہ باتیں قومی بیانیے کا  ’خاموش‘ یا بین السطور حصہ ہوں اور ہم ان امور پر توجہ مرکوز کریں جن پر اختلاف نہیں ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ اس وقت ان کی خواہش تو کی جا سکتی ہے، انہیں حقیقت کا لباس نہیں پہنایا جا سکتا۔ کیا ہم اتفاقات سے بات شروع نہیں کر سکتے؟ کیا بہتری کی طرف مراجعت ممکن نہیں؟

مشترکہ امور پر مشتمل ایک قومی بیانیہ ہماری ضرورت ہے۔ ان میں سے بعض کام وہ ہیں جو سماجی سطح پر ہونے ہیں اور بعض ریاستی سطح پر۔ پہلے مرحلے میں لازم ہے کہ ان پر قومی اتفاق ہو۔ میں ایسے چند نکات کی نشاندہی کر سکتا ہوں جیسے: آبادی میں اضافہ اَن گنت سماجی و معاشی مسائل کو جنم دے رہا ہے۔ اس کو قابو میں لانا ہماری قومی ضرورت ہے۔ تعلیم اور صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ ٹیکسوں کا موجودہ نظام انتہائی ظالمانہ ہے۔ لازماً ایک ایسا متبادل نظام وضع کیا جائے جس کے نتیجے میں کھانے پینے اور عام استعمال کی اشیا سستی اور اس شہری کی پہنچ میں ہوں جس کی کم ازکم تنخواہ 37ہزار روپے ہے۔ عدالتوں کو پابند بنایا جائے کہ مقدمات کا فیصلہ ایک مخصوص مدت کے دوران میں ہو جائے۔ مذہبی آزادی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ تمام مذہبی عبادات عبادتگاہوں تک محدود ہوں۔ زرعی زمین جو بچ گئی ہے اس کی حفاظت قومی ضرورت ہے۔ اسی طرح درختوں کو قومی ملکیت قرار دیا جائے جنہیں عدالت کی اجازت کے بغیر نہیں کاٹا جا سکتا۔ کسی مذہبی یا قومی تقریب کے نام پر،سیاسی آزادی یا کھیل تماشے کے نام پر راستے اور سڑکیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ ہر شہر میں ایک مقام سیاسی اور ثقافتی و سماجی سرگرمیوں کے لیے مختص ہو۔ قومی مسائل کو پارلیمان میں حل کیا جائے اور آزادانہ و شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جائے۔ آزادیٔ رائے میسر ہو۔ ذرائع ابلاغ آزاد ہوں لیکن دوسروں کی پگڑی اچھالنے کی کسی صورت اجازت نہ ہو۔

یہ کوئی حتمی فہرست نہیں ہے۔ ان نکات میں کمی بیشی اور تقدم و تاخیر ہو سکتی ہے۔ اہلِ دانش عوامی سطح پر ان نکات پر اتفاقِ رائے پیدا کریں۔ سیاسی جماعتوں کو مجبور کیا جائے کہ یہ ان کے انتخابی منشور کا حصہ بنیں۔ ان میں کوئی بات ایسی نہیں جس سے کسی شیعہ یا سنی، مسلم یا غیر مسلم، انصافی یا (ن) لیگی کو اختلاف ہو۔ یہ ممکن ہے کہ بعض باتوں میں جزوی اختلاف ہو لیکن ریاست اگر حسبِ خواہش علما اور سیاستدانوں کو جمع کر سکتی ہے تو ایسے قومی ایجنڈے پر کیوں نہیں۔ تاہم میرے نزدیک پہلے مرحلے میں سماجی اور عوامی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)