نہ ہوسی ڈھولا، نہ پوسی رولا

مسئلہ حکومت پر تنقید کا نہیں، مسئلہ عوام کی حالتِ زار کا ہے۔ دنیا میں ریاستیں عوام کے تحفظ، بنیادی حقوق کی فراہمی اور عدل و انصاف کو یقینی بنانے کی بنیاد پر وجود میں آئیں۔ حکومت ریاست کا انتظامی شعبہ ہوتا ہے اور اس پر ریاست کے آئین میں عوام کو دی گئی ضمانتوں پر عملدرآمد کرانے، وعدہ کردہ سہولتیں بہم پہنچانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اور یہی اس کا بنیادی کام ہے۔

حکومتیں اچھا کام بھی کرتی ہیں اور کچھ ناپسندیدہ فیصلے بھی ان سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے ہر طبقے کو خوش رکھنا ناممکنات میں شامل ہے۔ دنیا بھر میں چلن ہے کہ حکومت کی برُی کارکردگی سے یا اس کی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کے نتیجے میں جب عام آدمی متاثر ہوتا ہے تو وہ احتجاج کرتا ہے،حکومت کو برا بھلا کہتا ہے،کوسنے دیتا ہے اور کچھ بھی نہ کرے تو دل سے ضرور برُا سمجھتا ہے لیکن ہمارے ہاں عوام حکومتی کارکردگی کا جائزہ غلط یا صحیح کی بنیاد پر نہیں سیاسی وابستگی کی بنیاد پر لیتے ہیں۔ اپوزیشن کو حکومت کے ہر اچھے کام میں بھی برائی دکھائی دیتی ہے،اگر برائی دکھائی نہ دے تو نیت کی خرابی موضوعِ بحث بن جاتی ہے۔ اسی طرح حکومت کی وہ خرابیاںجو اظہر من الشمس ہیں، حکومت کے حامیوں کو اوّل تو وہ دکھائی ہی نہیں دیتیں اور اگر انہیں دکھائی جائیں تو وہ اپنا منہ دوسری طرف پھیر کر ماضی کی حکومتوں پر ملبہ ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ قصہ آج کا نہیں عشروں سے یہی ہو رہا ہے۔ وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہو،پیپلز پارٹی کی سرکار ہو یا عمران خان کا دورِ حکومت ہو،حامیوں اور مخالفوں کا رویہ یکساں طور پر بے ایمانی اور خیانت کے سر پر چل رہا ہے۔

صحت،تعلیم، امن و امان، عدل و انصاف اور شرفِ انسانی سے وابستہ حقوق کا حصول جہاں ہر شہری کا حق ہے وہیں ان کی فراہمی ہر حکومت کا فرض بھی ہوتا ہے۔ عدل و انصاف، امن و امان، صحت اور تعلیم کی فراہمی کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ ملک بھر میں دو کروڑ 63لاکھ کے لگ بھگ سکول جانے کی عمر کے بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ اس میں دیگر کئی عوامل بھی ہوں گے تاہم اس کی سب سے بڑی وجہ غربت اور اس کے مقابلے میں مہنگی تعلیم ہے۔ سکول جانے کی عمر کے بچے ورکشاپوں، ریستورانوں، منڈیوں اور دکانوں میں  ’چھوٹے‘ کے فرائض سر انجام دینے پر مجبور ہیں۔ اَن گنت بچے سڑکوں پر بھیک مانگنے یا گلیوں میں آوارہ گردی میں مصروف ہیں۔ ہمہ وقت اگلے وقت کی روٹی کیلئے تگ و دو میں جتے ہوئے والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کے بجائے چھوٹی عمر میں کمانے کیلئے بھیج دیتے ہیں۔ تعلیم مفت اور لازمی ہوتی تو اڑھائی کروڑ سے زیادہ بچےجو کُل ملکی آبادی کے دس فیصد سے بھی زائد ہیں، اس طرح گلیوں، ورکشاپوں،ہوٹلوں اور دکانوں میں اپنا مستقبل برباد نہ کر رہے ہوتے۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ حکومت ریاست کا انتظامی عضو ہے اس کا کام ادارے بنانا ہی نہیں بلکہ ادارے چلانا بھی ہے۔ معاملات کو سیدھا رکھنا،خرابیوں کو درست کرنا‘ نظام میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اور نظم و نسق کو برقرار رکھنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر حکومت یہ سب کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں یا ناکام ہے تو اسے حکومت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

مگر حکومتوں نے ہر خرابی کا حل یہ نکالا ہے کہ خرابی کو دور کرنے کے بجائے سرے سے سارا معاملہ ہی صاف کر دیا جائے۔ خراب اداروں یا شعبوں کو ٹھیک کرنے کے بجائے بند کر دیا جائے یا نجی شعبے کے حوالے کر دیا جائے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ سب کچھ نجی شعبے میں بھیجنے کے باوجود سرکار کے افسروں کی تعداد اور بیوروکریسی کا سائز مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہسپتالوں میں انتظامی معاملات قابو سے باہر ہو گئے تو انہیں کنٹرول کرنے اور درست سمت میں لانے کے بجائے نجی شعبے کے حوالے کر کے جان چھڑانے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ صحت کو عوام کی بنیادی ضرورت سمجھ کر اپنی ذمہ داری نبھانے کے بجائے سرکار نے اسے بتدریج نجی شعبے کے سپرد کرنا شروع کر دیا۔ حکومت خوش ہے کہ اس کی ایک ذمہ داری سے جان چھوٹ گئی ۔اب عوام جانیں اور ہسپتال چلانے والے جانیں۔ اسی طرح حکومت آہستہ آہستہ سکولوں اور کالجوں سے اپنی جان چھڑا رہی ہے۔ تعلیم نہ صرف مہنگی ہو گئی ہے بلکہ اس کا معیار بھی آسمان سے گر کر پاتال میں پہنچ چکا ہے۔ اللہ بخشے ماسٹر اقبال کو وہ میونسپل پرائمری سکول کڑی جمنداں میں استاد تھے۔ انہوں نے میٹرک کرنے کے بعد پرائمری سکول میں پڑھانے کی اہلیت کیلئے درکار لازمی تربیتی کورس پی ٹی سی کیا ہوا تھا۔ یہی کچھ میرے میونسپل پرائمری سکول چوک شہیداں میں پانچویں جماعت کے استاد ماسٹر غلام حسن نے کیا ہوا تھا۔ دونوں استاد اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، ایسے شاندار معلم تھے کہ آج بھی سوچوں تو دل سے دعا نکلتی ہے۔ پڑھانے کے فن میں طاق اور اپنے شعبے میں انتہائی قابلِ احترام سمجھے جاتے تھے۔ اب یہ عالم ہے کہ میونسپلٹی کے خاکروب اور مالی ساٹھ ہزار روپے تنخواہ لے رہے ہیں جبکہ نجی مالکان کے زیر انتظام چلنے والے سکولوں میں انڈر میٹرک استاد چھ سات ہزار تنخواہ پر نالائقی تقسیم کر رہے ہیں۔ ایک طرف حکومت کا مالی بوجھ کم ہو رہا ہے تو دوسری طرف ملک کے مستقبل پر نالائقوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔

حکومت پنجاب نے دو مرحلوں میں تقریباً 10 ہزار سکول پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ ماڈل کے تحت آؤٹ سورس کر دیے۔ تیسرے مرحلے میں مزید 2700سکول اور اب چوتھے مرحلے میں 5860پرائمری اور ایلیمنٹری سکولوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ سروے کے مطابق شارٹ لسٹ کیے گئے ان سکولوں میں سے 567 سکول ایسے ہیں جہاں سرے سے کوئی استاد ہی موجود نہیں۔ یعنی یہ سکول اس لیے نجی شعبے میں دیے جا رہے ہیں کہ یہاں کوئی استاد موجود نہیں اور یہ اس علاقے کے بچوں کا، ان کے والدین کا اور اس علاقے کے رہائشیوں کا قصور ہے کہ ان سکولوں میں استاد نہیں لہٰذا اس نااہلی اور بدانتظامی کے باعث حکومت نے سزا کے طور پر یہ سکول نجی شعبے میں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان 5860 سکولوں میں سے 2555 سکولوں میں صرف ایک استاد تعینات ہے۔ 2741 سکولوں میں 50 طلبہ کیلئے صرف دو اساتذہ موجود ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کے تعاون سے ان سکولوں کا تعلیمی معیار بہتر ہو گا۔ سکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں لایا جا سکے گا اور سرکاری وسائل پر بوجھ بھی کم ہوگا۔ جس صوبے میں حکمرانوں کی سفری آسائش کی خاطر اربوں روپے کا جہاز خریدا جاسکتا ہے وہاں تعلیم فراہم کرنے کو سرکاری وسائل پر بوجھ سمجھنا بے حسی کی آخری انتہا ہے۔

سکولوں کا دھڑن تختہ کرنے کی کامیاب کاوش کے بعد پنجاب حکومت نے دن رات کی محنتِ شاقہ سے اب صوبہ بھر میں موجود 76 کامرس کالجوں کو ٹھکانے لگانے کا منصوبہ بھی مکمل کر لیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں ان 76 میں سے 27کالجوں کو پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے حوالے کر کے ان کے کیمپس بنائے جائیں گے۔ 25 کالجوں کو نجی شعبے کے سپرد کر دیا جائے گا اور باقی ماندہ 24 کالجوں کو دیگر اداروں میں ضم یا بند کر کے ان میں زیر تعلیم 19 ہزار طلبہ کو دوسرے قریبی کالجوں میں منتقل کر دیا جائے گا۔ اللہ اللہ خیر سلا۔ سرائیکی میں کہتے ہیں  ’نہ ہوسی ڈھولا نہ پوسی رولا‘ یعنی نہ محبوب ہوگا اور نہ اس سے متعلق کوئی جھگڑا ہو گا۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)