ناطقہ سریہ گریباں ہے اسے کیا کہیے

پہلے بھی عرض کیا تھا کہ وزیروں کے لئے بھی کم از کم بیانات اور تقریروں کی حد تک کوئی ضابطہ ہونا چاہیے۔ یہ ضروری تو نہیں جو منہ میں آئے بول دیں مگر صاحب کون روکے یہاں تو ایک سے بڑھ کر ایک وزیر اپنی پور ی حشر سامانیوں کے ساتھ موجود ہے۔

اب فرمایا ہے پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہ پندرہ ہزار روپے تنخواہ لینے والے ٹیچرز لاکھ روپے تنخواہ لینے والوں سے بہتر رزلٹ دے رہے ہیں۔ اب اس میں حیرت کے کئی سامان ہیں،جس صوبے میں کم سے کم اجرت 40ہزار روپے ماہانہ ہے، اس صوبے کا وزیر تعلیم اگر خود تسلیم کر رہا ہے کہ اساتذہ کو پندرہ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے، موصوف میں کامن سینس کتنی ہے۔ نوجوان تعلیم یافتہ طبقہ یہی تو دہائی دیتا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے اساتذہ کے لئے بیگار کیمپ بن گئے ہیں،جہاں دس پندرہ ہزار روپے ماہانہ پر ایم اے ایم ایس سی اور بعض اوقات تو ایم فل اساتذہ جن میں خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، رکھے جاتے ہیں۔ خود ان سکولوں کی فیس پانچ دس ہزار فی سٹوڈنٹ سے کم نہیں ہوتی مگر یہ اساتذہ کو چند ہزار روپے معاوضہ دیتے ہیں۔ بعض تو کئی کئی ماہ تنخواہ ہی نہیں دیتے تاکہ ٹیچر کہیں چھوڑ نہ جائے۔ اب گرمیوں کی چھٹیاں ہوئی ہیں تو ان تعلیمی اداروں نے اپنے تمام اساتذہ تین ماہ کے لئے بغیر تنخواہ کے گھر بھیج دیئے ہیں، جبکہ دوسری طرف انہوں نے بچوں سے تین ماہ کی فیس پیشگی وصول کر لی ہے۔

اب بیان تو وزیر موصوف کو یہ دینا چاہیے تھا کہ اساتذہ کا جو استحصال ہو رہا ہے، اس کے خلاف حکومت کارروائی کرے گی، جن تعلیمی اداروں نے باصلاحیت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کو پندرہ ہزار روپے ماہانہ پر رکھا ہوا ہے،انہیں اس زیادتی کی اجازت نہیں دیں گے مگر اس کے بجائے موصوف ایک بھری تقریب میں یہ کہہ گئے کہ پندرہ ہزار تنخواہ لینے والے لاکھ روپے تنخواہ لینے والوں سے اچھا پڑھاتے ہیں۔ ارے ٹھیک ہے وہ اچھا پڑھاتے ہیں لیکن کیا اس بات کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ جن کی تنخواہ شرمناک حد تک کم ہے وہ اچھے ٹیچر ہیں۔ کوئی مطابقت، کوئی معیار، کوئی موازنہ بھی تو کسی منطق کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اب رانا سکندر حیات کی اس شاہانہ بقراطی سے تو نجی سکولوں کے مالکان کو ہلہ شیری مل گئی۔ اب تو وہ فخر سے یہ بتا سکیں گے دیکھو ہم اساتذہ کو 15ہزار تنخوا ہ دیتے ہیں مگر وہ ایک لاکھ روپے تنخواہ لینے والوں کی نسبت زیادہ اچھا پڑھاتے ہیں۔ وزیر صاحب اگر تھوڑی سی ذہانت سے کام لیتے اور یہ کہہ دیتے کہ جو اساتذہ 40ہزار روپے ماہانہ پر پڑھاتے ہیں، وہ لاکھوں روپے تنخواہ لینے والے اساتذہ سے بہتر پڑھاتے ہیں تو پھر بھی کچھ لاج رہ جاتی۔ انہوں نے تو سیدھا پانچ سو روپے روزانہ والے اساتذہ کو قابلیت کی سند جاری کر دی۔

کیا وزیر موصوف کو یہ معلوم نہیں سرکاری شعبے کے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ملا جلا کے چند لاکھ اساتذہ ہیں جبکہ اس ملک میں اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی تعداد تو اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔جب سے یہ حکومت آئی ہے اساتذہ کی بھرتیوں پر  پابندی ہے بلکہ ہزاروں پوسٹیں ختم کر دی گئی ہیں۔ حکومت نے جو سکول آؤٹ سورس کئے ہیں،انہیں لینے والی پرائیویٹ شخصیات نے اساتذہ کی تنخواہیں کم کر دی ہیں اور وزیر تعلیم کے فارمولے کے مطابق پندر ہ ہزار روپے والے اساتذہ رکھ رہے ہیں۔ یہ استحصال کی ایک ایسی شکل ہے جو تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اس پورے نظام سے بے زار کر رہی ہے۔ ڈگریاں لے کر نوکری کی تلاش میں دربدر بھٹکنے والے نوجوانوں کو اگر حکومت روزگار نہیں دے سکتی تو کم از کم نجی شعبے کے استحصال سے بچا سکتی ہے۔ جب کم سے کم اجرت کا قانون موجود ہے تو یہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے پندرہ ہزار ماہانہ پر اساتذہ کیسے رکھ سکتے ہیں، جن کی وزیر تعلیم نے مثال دی ہے۔ ایسے اداروں نے محکمہ تعلیم کے حکام کی ملی بھگت سے تنخواہوں کے دو دور جسٹر رکھے ہوئے ہیں۔ ایک میں حقیقی سیلری درج ہوتی ہے اور دوسری میں فرضی۔ جو اساتذہ دستخط کرنے سے انکار کرے اسے اگلے دن سکول نہ آنے کا کہہ دیا جاتا ہے۔ اب ایسے تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو اگر وزیر تعلیم ہیرو اور ماڈل بنا کر پیش کررہے ہیں تو اس  سے بڑا ظلم نوجوانوں پر کیا ہو سکتا ہے۔

حکومت کے عمال کو کہنا تو یہ چاہیے کہ ہم اساتذہ کو اچھی سے اچھی تنخواہ دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ معاشی مسائل سے بے پرواہ ہو کر نوجوانوں کی تعلیم پر توجہ دیں، مگر اس کی بجائے یہ وزیر تعلیم ان اساتذہ کو نکمے، نااہل اور کند ذہن ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں جو لاکھ روپیہ تنخواہ لیتے ہیں۔اس دور میں لاکھ روپیہ تنخواہ میں بھی کیا گزارا ہوتا ہے۔ وزیروں مشیروں، ارکان اسمبلی، ججوں، بیورو کریٹس سب کی تنخواہیں کئی کئی لاکھ یک مشت بڑھ جاتی ہیں، ایسے میں پندرہ ہزار والے اساتذہ کو شاباش دینے والا بے حسی اور ڈھٹائی کو ظاہر کرتا ہے۔ پانچ سو روپے روزانہ میں کون سا استاد گھر سے سکول اور واپس گھرجا سکتا ہے۔ چار سو روپے لٹر تو پٹرول ہو گیا ہے۔ اگر اس کے آنے جانے پر، خاص طور پر خواتین اساتذہ کے کنوینس پر اگر کم از کم پانچ سو روپے روزانہ خرچ ہو جاتے ہیں تو باقی مہینہ وہ کیا ہوا کھا کے گزارا کریں۔

ہم جس سماج میں رہتے ہیں،اس میں کتنا تفاوت ہے، چنداں اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ سترھویں گریڈ میں جو لیکچرر منتخب ہوتا ہے، اس کی تنخواہ کو دیکھیں اور سترھویں گریڈ میں اسسٹنٹ کمشنر بننے والے کی تنخواہ و مراعات پر غور کریں تو اندازہ ہو جائے گا ہم نے اساتذہ کو وطن عزیز میں کتنی عزت و اہمیت دی ہوئی ہے۔ تعلیم کا شعبہ ویسے بھی ہماری حکومتوں کے لئے ایک بوجھ رہا ہے،بجٹ کا صرف نمک اس شعبے پر خرچ کیا جاتا ہے، آٹا، باقی محکمے کھا جاتے ہیں۔ اس وقت بھی یونیورسٹیاں مالی بحران کا شکار ہیں۔ ان کے پاس ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ وہ فیسیں بڑھا دیں۔ ظاہر ہے یہ بوجھ بھی غریب طالب علموں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اتنی بھاری فیسوں کے بعد جب وہ ڈگری لے کر باہر آتے ہیں تو آگے پندرہ ہزار روپے والی نوکری ان کا منہ چڑا رہی ہوتی ہے۔ آج تک محکمہ تعلیم نے کبھی اس حوالے سے سنجیدہ کوشش نہیں کی کہ نجی شعبے کی یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں کے اساتذہ کو دی جانے والی تنخواہوں کا فرا نزک سروے کرائے۔

معلوم تو ہو کہ اربوں روپے سالانہ کمانے والی یہ فیکٹریاں اپنے مزدور اساتذہ کو دے کیا رہی ہیں۔ یہاں تو یہ حال ہے کہ وزیر تعلیم بالواسطہ طور پر پندرہ ہزار روپے تنخواہ دینے والے تعلیمی اداروں کی حمایت کررہے ہیں۔ ناطقہ سریہ گریباں ہے اسے کیا کہیے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)