معاہدے سے قبل پابندیاں ختم ہوں گی نہ ہی منجمد اثاثے بحال ہوں گے: ٹرمپ

  • اتوار 07 / جون / 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ باقاعدہ امن معاہدہ طے پانے تک نہ پابندیاں ختم کی جائیں گی اور نہ ہی منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے۔

امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی اثاثوں کی بحالی صرف کسی حتمی معاہدے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ فی الحال تہران کے ساتھ کسی قلیل مدتی معاہدے میں لبنان کی شمولیت کا مطالبہ نہیں کر رہے۔

دوسری جانب ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے مشیر محسن رضائی کے مطابق گزشتہ تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی جانب سے منجمد کیے گئے 24 ارب ڈالر کے اثاثوں کی واپسی ناگزیر ہے اور تہران اس مطالبے پر قائم ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی وزارتِ خزانہ ایران کے ان منجمد اثاثوں کو خلیجی اتحادی ممالک کے نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک خصوصی ٹیم کو ایران کے حالیہ ڈرون اور میزائل حملوں کے نتیجے میں کویت اور بحرین میں ہونے والے مالی اور مادی نقصانات کا تخمینہ لگانے کی ہدایت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ مستقبل میں ممکنہ نقصانات کے ازالے کے لیے بھی ان اثاثوں کے استعمال پر غور کر سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق واشنگٹن کا یہ نیا منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان جاری نازک جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کے لیے ایک نئی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو امریکہ ایران کے ساتھ مل کر افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ہٹانے اور تلف کرنے میں مدد کرے گا۔ بصورت دیگر امریکہ فوجی طاقت سے ایسا کرے گا۔ امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ ان (ایران) کے ساتھ یا اس کے بغیر کرنے جا رہے ہیں۔ لیکن ہم انہیں اپنے اوپر گولی چلانے نہیں دیں گے، ہم انتہائی سخت فوجی کارروائی کے ساتھ سب سے پہلے انہیں باہر نکالیں گے۔‘

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ خلا سے ایرانی اقدامات کی نگرانی کر رہا ہے۔ ’ہمارے پاس ہر جگہ کیمرے لگے ہوئے ہیں۔ ہم آپ کے کالر پر لکھا نام بھی پڑھ سکتے ہیں۔‘ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران معاہدے پر دستخط کے بہت قریب ہیں۔’ہمارے ذہن میں کچھ چیزیں ہیں جو شاید بہت اہم نہیں لگتی۔ اُن کا کہنا تھا کہ میں ابھی مطمئن نہیں ہوں لیکن میں اس بات کو یقینی بنانے کے مزید ضمانتیں چاہتا ہوں کہ ایران معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرے۔