آزاد کشمیرمیں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مرکزی دفتر سیل کردیا گیا
آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مار کر اسے سیل کردیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہاں سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔
ادھر راولا کوٹ کے کمشنر سردار وحید نے بی بی سی کو بتایا کہ کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن شاہ زیب کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ اُن کے بقول مظاہرین ابھی علاقے میں احتجاج کر رہے ہیں۔
سردار وحید کا مزید کہنا تھا کہ حساس مقامات پر رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں تین مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔
مظفر آباد پولیس کا کہنا ہے کہ مظفر آباد میں اس وقت حالات معمول کے مطابق ہیں سڑکوں پر ٹریفک ہے جبکہ دکانیں اور مارکیٹیں بھی کھلی ہیں۔ گیسٹ ہاؤسز اور ہوٹلوں میں مقیم سیاحوں کو واپس جانے کے احکامات دے دیے گئے ہیں۔
دریں اثنا پاکستان پیپلز پارٹی کشمیر کے رہنماؤں نے پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی ہے اور انہیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی صورت حال کے بارے میں بتایا ہے۔
اس حوالے سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بلاول بھٹو نے اس معاملے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔
اجلاس کے دوران بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وہ شہباز شریف سے ملاقات کر کے مسائل کا حل بات چیت اور اسمبلی کے ذریعے نکالنے پر زور دیں گے۔