نثر نگاروں کا ’طرحی مباہلہ‘

شعیب بن عزیز کی دلآویز شخصیت ہزاروں چاہنے والوں کی محبوب ہے۔ ایسی بے لوث محبت کرنے والا بندہ مجھ ایسے ہیچمدان کو بھی اپنی مجلس میں بٹھا کر عزت دار بنا دیتا ہے ۔

ان سے مل کر یہ حقیقت پوری معنویت کے ساتھ آ شکار ہوتی ہے کہ بڑا آدمی وہی ہوتا ہے جو اپنے پاس بیٹھنے والوں کو احساس کمتری میں مبتلا نہ ہونے دے، بلکہ انہیں بھی توقیر بخشے ۔ شعیب بھائی ہزاروں خوبیوں سے مرصع شان محبوبیت سے مزین منزہ و مطہر ذات والا صفات ہیں جن کی مہکار سانسوں کو عطر بیز کرکے ملنے والوں کو سرشار کرتی ہے ۔ حکمرانوں کو طریق خسروی سے آشنا کرنے والا مرد درویش اقبال کے اس شعر کی عملی تفسیر ہے:
 ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں
فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیق
اس مرد خلیق نے ایک تجویز عام کی ہے جو چشم کشا بھی ہے اور لائق فکر و عمل بھی۔ ملاحظہ فرمائیں: نثر نگاروں کا طرحی مشاعرہ ۔۔۔ ’ہمارے ہاں شاعروں کی اہلیت پرکھنے کے لئے“فی البدیہہ”شعر گوئی کے اہتمام کی روایت موجود ہے۔ مجھے یاد ہے ہمارے اساتذہ کو جب کسی شاگرد کے بارے میں گمان ہوتا تھا کہ اس کی شاعری “ عطائے دیگراں “ ہے تو وہ اس سے اپنی موجودگی میں کسی مصرح طرح پر فی البدیہہ شعر کہنے کی فرمائش کیا کرتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے طفیل سوشل میڈیا پر نثر نگاری کے میدان میں جھنڈے گاڑنے والے کچھ بزرجمہروں کی اصلیت جاننے کے لئے تفتیش و تشخیص کا ایسا ہی کوئی نسخہ بروئے کار لایا جانا ضروری ہو چکا ہے‘۔

مصنوعی ذہانت کے اس دور میں جعلی دانشوروں کی شناخت اور انہیں باقاعدہ بےنقاب کرنے کی ضرورت شدید ہو چکی ہے کیونکہ بقول شعیب بن عزیز "عطائے دیگراں" کے بل پر مشاعروں میں داد و تحسین کے ساتھ ساتھ اعزازیوں پر ہاتھ صاف کرنے والے حضرات جس طرح جینوئن شعرا کا حق غصب کرتے ہیں، اسی طرح جعلی دانشوروں نے بھی اپنی چالاکی سے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر بھی دراز دستی سے بہت سے لوگوں کے رزق پر ڈاکہ زنی سے انہیں ان کے جائز حق سے محروم کر رکھا ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ درجنوں قلم کار جنہیں سوائے لکھنے کے اور کوئی کام بھی نہیں آتا، بیروزگاری کا عذاب بھگت رہے ہیں۔ جبکہ دو نمبری کرنے والے عیش کر رہے ہیں۔

ان کی اصلیت سامنے لانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی اہلیت کا سر عام امتحان لیا جائے کیونکہ انہوں نے اپنے مفادات کے لیے ناموسِ قلم و قرطاس کی دکان سجا رکھی ہے۔ نتیجے میں صحیح اور غلط کی تمیز ختم ہو کر رہ گئی ہے ۔ مجھے یاد ہے ایک صاحب خوشامد و چاپلوسی کے فن میں مہارت رکھنے کی وجہ سے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں کافی کامیاب تھے اور اسی فن کی بدولت شاعری میں "عطائے" دیگراں سے مستفیض ہو کر اندرون و بیرون ملک مشاعروں میں بھی جھنڈے گاڑنے میں بہت آگے تھے۔ ان کی اپنے اخبار کے دفتر میں ایک ساتھی سے تو تو میں میں ہوگئی تو نوجوان صحافی نے انہیں چیلنج دیا کہ آپ شاعر ہونے کے دعویدار بھی ہیں جبکہ میں تو صرف صحافی ہوں۔ چند شاعروں اور صحافیوں کی جیوری بنالیں جو مجھے کوئی نیوز سٹوری یا فیچر لکھنے کا ٹاسک دے اور آپ کو غزل کا طرح مصرع دے کر، سب کے سامنے ایک گھنٹے میں اپنا اپنا ٹاسک مکمل کرنے کے لئے کہے ۔ فیصلہ ہو جائے گا کہ کون صحیح اور کون غلط یا دو نمبر ہے ۔

وہ صاحب اپنی سنیارٹی کا فائدہ اٹھا کر بھاگ گئے ۔ آج بھی اسی طرح کے لوگوں سے میڈیا کو پاک کرنے کے لیے شعیب بن عزیز کی تجویز پر عمل درآمد کرکے آپریشن کلین اپ کیا جائے تو درجنوں شیر کی کھال پہنے گدھوں اور خچروں سے چھٹکارا پا کر حق داروں کی داد رسی کی جا سکتی ہے۔ اور ادب و صحافت کی آبرو ریزی کے گھناؤنے کاروبار کی روک تھام بھی کی جاسکتی ہے ۔ صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے ۔