اسرائیلی اقدامات کا ذمہ دار امریکہ ہے: ایران

  • سوموار 08 / جون / 2026

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے ہے کہ اسرائیل امریکی اجازت کے بغیر خطے میں کوئی حرکت نہیں کرسکتا، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جو کچھ بھی ہوا اس کا ذمہ دار امریکہ ہے۔

تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ موجودہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی براہِ راست ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے، اسرائیل کے اقدامات کو امریکی پالیسیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی مان نہیں سکتا کہ اسرائیل امریکہ کے ساتھ کے بغیر خطے میں حرکت کرسکتا ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسمائیل بقائی نے کہا کہ ’لبنان میں جنگ کا خاتمہ معاہدے کا حصہ تھا، جب جنگ بندی کی شق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو سفارتی ٹریک بھی متاثر ہوتا ہے۔‘ امریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے اب تک سفارتی راستے کو متاثر کیا ہے، ہم انتہائی بے اعتمادی کے ماحول میں امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کر رہے تھے۔ 24 گھنٹوں کے دوران جو کچھ ہوا اس سے سفارتی عمل میں مزید مشکل پیدا ہو جائے گی۔

گزشتہ روز سے ایران اور اسرائیل کے درمیان میزائل و فضائی حملوں کا تبادلہ ہؤا ہے۔  موجودہ حملوں کا آغاز ایران کی طرف سے ہؤا جس نے بیروت پر حملوں کے جواب میں اسرائیل کو نشانہ بنایا۔ اس د وران  تہران سے متعدد دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں، تاہم فوری طور پر ان کی نوعیت اور مقام کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایران کی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر اسرائیلی حملے کے جواب میں حیفہ کی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر میزائل حملہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شہری اہداف اور تیل و توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک خطرناک کھیل ہے جو پورے خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والی تنصیبات میں ماہشہر میں واقع کارون پیٹروکیمیکل کمپنی بھی شامل تھی، اگرچہ پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں اس کا نام براہِ راست نہیں لیا گیا۔ پیٹروکیمیکل سپیشل اکنامک زون آرگنائزیشن کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اپنے بیان میں کہا کہ کارون پیٹروکیمیکل کمپنی پر دو حملے کیے گئے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور نقصانات کی نوعیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ماہشہر کے پیٹروکیمیکل کمپلیکس میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ حملے کے بعد ماہشہر سپیشل اکنامک زون کی انتظامیہ نے بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ پیٹروکیمیکل سپیشل اکنامک زون کے اعلیٰ حکام برائے سول دفاع اور مینجمنٹ کے فیصلے کے تحت تمام ڈیوٹی پر موجود ملازمین کو فوری طور پر علاقے سے نکال لیا گیا ہے۔

اسرائیلی دفاعی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں سٹریٹجک دفاعی نظام کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے مکمل کر لیے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ایک نئے بیان کے مطابق وسطی اور مغربی ایران میں ہونے والی کارروائیوں میں اسرائیلی فضائیہ کے درجنوں جنگی طیاروں نے حصہ لیا۔ ان حملوں کے دوران ایران کے متعدد دفاعی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر انہیں غیر مؤثر کر دیا گیا ہے۔