راولا کوٹ میں پُرتشدد جھڑپیں، چار پولیس اہلکار اور پانچ شہری جاں بحق
آزاد کشمیر کے ضلع راولا کوٹ میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن بدستور احتجاج کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز پُرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کم از کم نو ہو چکی ہے۔ ان میں چار پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار جبکہ پانچ عام شہری شامل ہیں۔
حکام کے مظاہرین کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (شیخ خلیفہ بن زاید ہسپتال) کے باہر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارکن شاہ زیب کی میت کے ہمراہ دھرنا دیے ہوئے ہیں تاہم پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر میں پیٹرولنگ کر رہے ہیں۔
یاد رہے جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 9 جون (منگل) کو کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے اور اس ضمن میں راولا کوٹ میں صورتحال اُس وقت کشیدہ ہوئی جب شاہ زیب نامی نوجوان کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔ راولا کوٹ پولیس نے اس واقعے کی ایف آئی آر نامعلوم مسلح نقاب پوش افراد کے خلاف درج کی ہے تاہم مظاہرین کا الزام ہے کہ شاہ زیب پولیس کے ہاتھوں مارا گیا۔ تاہم پولیس اس کی تردید کرتی ہے۔
کمشنر راولا کوٹ کا کہنا ہے کہ ابتدائی پولیس رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں میں ایک سب انسپکٹر کے رینک کا افسر بھی شامل ہے۔ مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 50 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین ہسپتال کے باہر شاہ زیب کی لاش کو رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا جاتا اس وقت تک وہ لاش کو نہیں دفنائیں گے۔
کمشنر راولاکوٹ کا کہنا تھا کہ جھڑپوں میں مجموعی طور پر 13 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ان اہلکاروں کو گولیاں لگنے کے باعث زخم آئے ہیں۔ ان کے مطابق ہلاک اور زخمی پولیس اہلکاروں کا تعلق آزاد کشمیر کی پولیس سے ہے۔
یاد رہے کہ کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے نو جون کو احتجاج کی کال کے پیشِ نظر دارالحکومت مظفر آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور وہاں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پولیس کی گاڑیوں اور مساجد سے انتظامیہ کی جانب سے اعلانات کروائے جا رہے کہ شہری دفعہ 144 کی پابندی کریں اور والدین اپنے بچوں کو باہر نہ نکلنے دیں۔
مظفر آباد میں سرکاری دفاتر آج کھلے ہوئے ہیں مگر وہاں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ شہر میں واقع پیٹرول پمپ بند کروائے جا رہے ہیں۔
راولا کوٹ اور مظفر آباد میں انٹرنیٹ سروس بھی گزشتہ دو روز سے معطل ہے جبکہ ان شہروں میں پیرا ملٹری فورس اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ یاد رہے کہ جمعہ کی شب آزاد کشمیر حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تھا جس کے بعد سے اب تک درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
کشمیر حکومت نے 12 نشستیں ختم کرنے کے مطالبے پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ سے رائے طلب کی تھی، جس پر عدالت نے قرار دیا کہ ان نشستوں کو ختم کرنے سے متعلق فیصلہ آئندہ اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے اور اس ضمن میں الیکشن کمیشن نے شیڈول کا اعلان بھی کر دیا ہے۔