پاکستان سے انگلستان تک
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- سوموار 08 / جون / 2026
انگلستان کی کل آ بادی تقریباً 6 کروڑ 95 لاکھ ہے جس میں 5 کروڑ 86 لاکھ انگلینڈ، 55 لاکھ اسکاٹ لینڈ، 32 لاکھ ویلز اور 19 لاکھ شمالی آ ئر لینڈ کی ہے۔ کم آ بادی کے باوجود انگلستان کی ایک تاریخی اور تہذیبی اہمیت ہے اور بہت سے ممالک پر آ زادی کے بعد بھی انگلستان کے اثرات نظر آ تے ہیں۔
برطانیہ کو جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے اور یہاں اقدار و روایات پر مبنی آ ئین کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ بہت سی نام نہاد جمہوریتوں کے مقابلے میں یہاں نہ صرف حکومتی اور سیاسی نظام موجود ہے بلکہ انسانی حقوق کی پاسداری میں بھی انگلستان نمایاں نظر آ تا ہے۔ جہاں لوگوں کی رائے کا احترام کرتے ہوئے انسانی حقوقِ کاخاص خیال رکھا جاتا ہے بلکہ جانوروں کے حقوق کا بھی تحفظ کیا جاتا ہے۔ پالتو جانوروں کے ساتھ انسانوں سے بھی بہتر سلوک کیا جا تا ہے۔
ویلز برطانیہ کے چار ممالک میں سے ایک ہے، اور اس کی کئی خصوصیات ہیں۔
یہاں انگریزی کے ساتھ ویلش زبان بھی سرکاری زبان ہے جو یورپ کی قدیم زندہ زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ خوبصورت قدرتی مناظر، پہاڑ، وادیاں، جھیلیں، جنگلات اور طویل ساحلی پٹی ویلز کو سیاحت کے لیے بہت مشہور بناتے ہیں، ویلز میں سینکڑوں قدیم قلعے موجود ہیں جن میں بعض عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہیں۔ رگبی یہاں کا سب سے مقبول کھیل سمجھا جاتا ہے اور قومی شناخت کا اہم حصہ ہے۔
ثقافتی روایات میں موسیقی، شاعری اور ثقافتی میلوں کی وجہ سے ویلز کو لینڈ آف سانگ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ جزیرہ آئرلینڈ کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے۔ اس کا دارالحکومت بلفاسٹ ہے جہاں تک فیری کے زریعے پہنچا جاتا ہے۔ شمالی آئر لینڈ خوبصورت قدرتی مناظر اور اپنی سبز وادیوں، جھیلوں، پہاڑوں اور ساحلی علاقوں کے لیے مشہور ہے۔ ٹائٹینک کی جائے تعمیر بھی بلفاسٹ میں ہوئی تھی، جس کی یاد میں آج ایک معروف سیاحتی مقام ہے۔
مشہور ٹی وی سیریز گیمز آف تھرونس کے بہت سے مناظر شمالی آئرلینڈ میں فلمائے گئے تھے، جس کی وجہ سے یہ سیاحوں میں مزید مقبول ہوا۔ یہاں کی ثقافت آئرش، اسکاٹش اور برطانوی روایات کا حسین امتزاج ہے۔ موسیقی، لوک روایات اور تہوار یہاں کی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔ انگریزی سب سے زیادہ بولی جاتی ہے، لیکن آئرش اور اسکاٹس زبانیں بھی ثقافتی اہمیت رکھتی ہیں۔ گالف، فٹبال، رگبی اور ماہی گیری یہاں بہت مقبول ہیں۔ شمالی آئرلینڈ نے کئی عالمی شہرت یافتہ گالف کھلاڑی پیدا کیے ہیں۔
مختصراً، شمالی آئرلینڈ کی سب سے نمایاں خصوصیات اس کے قدرتی مناظر، ٹائٹینک کی تاریخ، گیم آف تھرونز کے فلمی مقامات، اور منفرد ثقافتی ورثہ ہیں۔
اسکاٹ لینڈ اپنی خوبصورت سرسبز پہاڑوں وادیوں جھیلوں ساحلوں اور دلکش مناظر کی وجہ سے سیاحوں کےلئے جنت ہے۔ راقم کو چین، روس، جنوبی افریقہ ہانگ گانگ، ویت نام، بنکاک، سنگا پور، ترکی اور چند دیگر ممالک کو دیکھنے کا بھی موقع ملا ہے، پر اسکاٹ لینڈ سب سے دلکش لگا ۔
انگلستان کا موسم بھی بہت دلفریب ہے اور ہر دم بدلتا دکھائی دیتا ہے۔ بارش، بادل، دھوپ اور ہوا کے سبھی موسموں سے آشنائی ہوجاتی ہے۔ انگلستان پوری دنیا کے لئے ایک اہم سیاحتی مرکز ہے۔ انگلینڈ کا لیک ڈسٹرکٹ اپنی خوبصورت جھیلوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ ڈیفوڈلز اور دیگر خوب صورت نظموں کے شاعر ولیم ورڈورتھ اور ولیم شیکسپیئر کی بھی پہچان ہے۔ لندن میں بادشاہ ملکہ کا خوبصورت محل، ویسٹ منسٹر ،ہائیڈ پارک، پکاڈلی سرکس،، برٹش میوزیم ٹرفالگر ٹاور، برج اور دریائے ٹمیز کے نظارے دل و نظر کو لھباتے ہیں۔ انگلستان کو گوروں گوریوں اور پریوں کا دیس بھی کہا جاتا ہے۔ مگر اب گوروں سے زیادہ یہاں ایشیائی نظر آ تے ہیں اور گورے نسبتاَ کم معروف اور مضافاتی علاقوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
بریڈ فورڈ، برمنگھم، مانچسٹر اور گلاسکو میں بھی پاکستانیوں کی اکثریت ہے۔۔
انگلستان میں سیاحوں کےلئے کوچز اور کارواں بھی چلتے ہیں۔ ٹرام اور ڈبل ڈیکر آرام دہ بسیں ہیں۔ ٹرین کا سفر ہوائی جہاز سے بھی مہنگا ہے۔ زیر زمین ریلوے کے نظام سے ہزاروں مسافر روزانہ مستفید ہوتے ہیں۔ انگلستان میں اخبار اور کتاب بینی کی اب بھی اہمیت ہے۔ مختلف تاریخی قلعے محلات اور میوزیم سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ صحت اور تعلیم کے نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ یہاں پر بھاری بھر کم بستوں اور غیر ضروری نصاب کا بوجھ نہیں ہے۔ آکسفورڈ، کیمرج۔ لندن یونیورسٹی، گلاسکو اور یونیورسٹی آف ایڈنبرا کا شمار بھی اہم یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔
جنرل پریکٹیشنر کے نظام کی وجہ سے اسپتالوں پر دباؤ نہیں ہے۔ یونین کونسل کی سطح پر قائم جی پی میں عام بیماریوں کا علاج ہوتا ہے اور ایمر جنسی اور خاص نوعیت کی بیماری کے لئے اسپتال اور اسپشلسٹ ڈاکٹروں کوریفر کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مریض اور ڈاکٹر کے درمیان بھی ہم آ ہنگی برقرار رہتی ہے۔ اور ڈاکٹر مرہض پر پوری توجہ بھی دیتے ہیں۔
ڈرائیونگ کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے کی وجہ سے ٹریفک کا نظام مثالی ہے۔ جس کی وجہ سے ٹریفک اہلکار اور ہارن کی ضرورت نہیں رہتی۔ واک ہائیکنگ، کیمپنگ، بوٹنگ اور سائیکلنگ اور دیگر کھیلوں کی وجہ سے موبائل کا استعمال بھی کم دیکھنے میں آ تا ہے۔
کاش ہم انگلستان جیسے کم آ بادی والے ملک کی ان خصوصیات کو اپنے زیادہ آبادی والے ملکوں میں بھی رائج کریں تو ہم بھی بہت سے حکومتی اور سیاسی و معاشرتی مسائل سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ اور ہمارا شمار بھی ترقی یافتہ ممالک میں ہو سکتا ہے۔