منافقت یا مجبوری؟
- تحریر فہیم اختر
- سوموار 08 / جون / 2026
انسانی تاریخ میں منافقت ہمیشہ سے ایک ایسا رویہ رہی ہے جس نے معاشروں کو نقصان پہنچایا، اعتماد کو مجروح کیا اور اصول و اقدار کو کمزور کیا۔ منافقت کی سادہ تعریف یہ ہے کہ انسان زبان سے کچھ اور کہے، عمل میں کچھ اور کرے، یا حالات اور مفادات کے مطابق اپنے اصول بدلتا رہے۔
منافق شخص یا گروہ کے نزدیک حق اور باطل کا معیار اصول نہیں بلکہ فائدہ ہوتا ہے۔ جب مفاد ایک طرف ہو تو ایک موقف اختیار کیا جاتا ہے اور جب مفاد دوسری جانب نظر آئے تو وہی لوگ اپنے گزشتہ بیانات اور دعووں کو فراموش کر دیتے ہیں۔ تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے حکمران اور سیاسی جماعتیں اقتدار حاصل کرنے کے لیے ایک نعرہ بلند کرتی ہیں اور اقتدار ملنے کے بعد اسی نعرے کے برعکس اقدامات کرتی ہیں۔ برصغیر کی سیاست میں بھی ہم نے کئی مرتبہ دیکھا کہ جن شخصیات کو ایک دور میں غدار، باغی یا قوم دشمن قرار دیا گیا، بعد میں انہی کے ساتھ اتحاد کر لیا گیا اور ان کی تعریفوں کے پل باندھے گئے۔ یہ رویہ صرف کسی ایک ملک یا جماعت تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کی سیاست میں وقتاً فوقتاً نظر آتا ہے۔
اسی تناظر میں مغربی بنگال کے معروف سیاسی رہنما ہمایوں کبیر کا معاملہ بھی غور طلب ہے۔ کچھ عرصہ قبل جب ہمایوں کبیر نے ایک مسجد کی تعمیر کا اعلان کیا جسے ’بابری مسجد‘کے نام سے منسوب کیا جا رہا تھا تواس وقت ریاست کی حکمراں جماعت کے کئی رہنماؤں نے سخت اعتراضات اٹھائے۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ مذہبی جذبات کو بھڑکا رہے ہیں، سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ایسے اقدامات سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔ مختلف بیانات میں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور بعض حلقوں نے ان کے اقدام کو نامناسب قرار دیتے ہوئے سخت زبان استعمال کی۔لیکن سیاست کے بدلتے موسم شاید اصولوں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ آج جب ہمایوں کبیر کو کولکاتا کی معروف قومی فٹبال ٹیم محمڈن اسپورٹنگ کلب کا صدر منتخب کیا گیا ہے تو وہی سیاسی حلقے اور شخصیات مبارک باد پیش کرتے نظر آ رہے ہیں جو کل تک ان پر تنقید کر رہے تھے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمایوں کبیر بدل گئے ہیں؟ کیا ان کے خیالات یا ان کی شخصیت میں کوئی بنیادی تبدیلی آ گئی ہے؟ اگر نہیں، تو پھر رویے کی اس تبدیلی کو کیا نام دیا جائے؟ اصول پسندی، سیاسی مصلحت، یا پھر کھلی منافقت؟یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ عام مسلمان ووٹر اور عوامی حلقے اکثر سیاسی بیانات کو سچ سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ جب کوئی رہنما کسی شخصیت کو اسلام، مسلمانوں یا سماج کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے تو لوگ اس بات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ لیکن جب چند ماہ بعد وہی رہنما اسی شخصیت کے ساتھ تصویر کھنچواتا، اسے مبارک باد دیتا اور اس کے ساتھ سیاسی یا سماجی تعلقات استوار کرتا نظر آتا ہے تو عوام کے ذہن میں فطری طور پر شکوک پیدا ہوتے ہیں۔اس سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بعض ایسے مسلم نامی رہنما بھی اس طرزِ عمل کا حصہ بن جاتے ہیں جن سے مسلمانانِ بنگال بڑی امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔ یہ حضرات بظاہر مسلمانوں کے حقوق، مذہبی تشخص اور مسائل کی بات کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر اکثر ان کی ترجیحات ذاتی مفادات، سیاسی عہدوں یا وقتی فائدوں کے گرد گھومتی ہیں۔ جب انہیں اپنے سیاسی مستقبل کا سوال درپیش ہو تو وہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، اور جب انہیں عوامی حمایت درکار ہو تو مذہبی جذبات کو ابھارنے لگتے ہیں۔
مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ،یہ ہے کہ آخر کب تک وہ جذباتی نعروں، مذہبی جذبات کے نام پر کی جانے والی سیاست اور موقع پرست قیادت کے جھانسے میں آتے رہیں گے؟ ہر انتخاب کے موقع پر مسلمانوں کو بڑے بڑے وعدے سنائے جاتے ہیں۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ فلاں رہنما ان کا محافظ ہے، فلاں جماعت ان کی واحد نمائندہ ہے اور فلاں شخصیت ان کے مسائل حل کر سکتی ہے۔ لیکن انتخابی نتائج کے بعد اکثر یہی وعدے فائلوں، بیانات اور تقریروں میں دفن ہو جاتے ہیں۔ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال میں ایک طویل عرصے سے بعض مسلم نامی رہنما خود کو مسلمانوں کا نمائندہ، محافظ اور ترجمان بنا کر پیش کرتے رہے ہیں۔ ہر انتخاب سے قبل یہ حضرات مسلمانوں کے مذہبی جذبات، شناخت اور تحفظ کے مسائل کو نمایاں کرتے ہیں، جذباتی تقاریر کرتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہی قوم کے حقیقی خیر خواہ ہیں۔ لیکن جب انتخابات ختم ہو جاتے ہیں تو مسلمانوں کی تعلیم، روزگار، معاشی پسماندگی، سیاسی نمائندگی اور سماجی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جو رہنما مسلمانوں کے ووٹ اور اعتماد کے ذریعے سیاسی مقام حاصل کرتے ہیں، انہی سے سوال کرنے کی جرات بہت کم لوگ کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے ایک طبقے میں یہ خوف پیدا کر دیا گیا ہے کہ اگر ان نام نہاد مسلم رہنماؤں پر تنقید کی گئی تو اس کا فائدہ مخالف سیاسی قوتوں کو پہنچے گا۔ یہی سوچ ان رہنماؤں کو احتساب سے بچاتی ہے اور انہیں اپنی سیاست جاری رکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ مسلمان حق اور باطل کو بھول گیا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان نے حق بات کہنے اور اپنے ہی حلقے کے غلط کرداروں کا محاسبہ کرنے کی عادت کھو دی ہے؟ اسلام کی تعلیم یہ نہیں کہ صرف دوسروں کی غلطیوں پر آواز بلند کی جائے اور اپنے لوگوں کی خامیوں پر خاموشی اختیار کر لی جائے۔ اگر کوئی رہنما مسلمانوں کے نام پر سیاست کرتا ہے، ان کے جذبات سے فائدہ اٹھاتا ہے اور پھر ان کے مسائل کو فراموش کر دیتا ہے تو اس سے سوال کرنا بھی ایک دینی، اخلاقی اور جمہوری ذمہ داری ہے۔ قوموں کی ترقی اندھی عقیدت سے نہیں بلکہ شعور، احتساب اور اصول پسندی سے ہوتی ہے۔ جب تک مسلمان شخصیت پرستی سے اوپر اٹھ کر کارکردگی اور کردار کو معیار نہیں بنائیں گے، تب تک کچھ مفاد پرست مسلم نامی رہنما ان کے جذبات کو استعمال کرکے اپنا سیاسی الّو سیدھا کرتے رہیں گے جبکہ عام مسلمان مسائل کے اسی دائرے میں گھومتا رہے گا۔
دھوکے باز اور مفاد پرست رہنما اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے اندر جذباتی وابستگی کا عنصر مضبوط ہے۔ اسی لیے کبھی مذہب کے نام پر، کبھی خوف کے نام پر اور کبھی تحفظ کے نام پر ان کے ووٹ حاصل کیے جاتے ہیں۔ عوام کی اصل ضرورتیں، جیسے تعلیم، روزگار، صحت، سماجی ترقی اور معاشی استحکام، اکثر پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ برسوں گزر جاتے ہیں مگر عام مسلمان کی زندگی میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آتی، جبکہ سیاسی رہنماؤں کے عہدے، اثر و رسوخ اور مفادات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
ہمایوں کبیر کے معاملے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ سیاست میں اصول اہم ہیں یا مفادات؟ اگر بابری مسجد کے نام پر مسجد بنانا واقعی اتنا بڑا جرم تھا تو آج مبارک بادوں کا سلسلہ کیوں جاری ہے؟ اور اگر وہ اقدام اتنا غلط نہیں تھا جتنا اس وقت بتایا جا رہا تھا تو پھر عوام کو گمراہ کیوں کیا گیا؟ یہ سوالات صرف ایک فرد یا ایک جماعت سے متعلق نہیں بلکہ پوری سیاسی ثقافت سے جڑے ہوئے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان جذبات کے بجائے شعور کی بنیاد پر فیصلے کریں۔ کسی بھی رہنما کو صرف اس کے نام، لباس، مذہبی نعروں یا جذباتی تقریروں کی بنیاد پر اپنا نمائندہ نہ مانیں۔ اس کے کردار، ماضی، کارکردگی اور عوامی خدمات کو دیکھیں۔ یہ جانچیں کہ اس نے اقتدار یا اثر و رسوخ ملنے کے بعد اپنی برادری اور معاشرے کے لیے کیا عملی کام کیا ہے۔ جو رہنما ہر موسم میں اپنا موقف بدل لے، جو کل کسی کو برا کہے اور آج اسی کی تعریف کرے، اس کے دعوؤں کو احتیاط سے پرکھنا چاہیے۔مسلمانوں کی ترقی کا راستہ باشعور قیادت کے انتخاب، تعلیم کے فروغ، سماجی اتحاد اور سیاسی بصیرت سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر قوم اپنے رہنماؤں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرے گی تو موقع پرست عناصر خود بخود بے نقاب ہو جائیں گے۔ بصورت دیگر منافقت اور مفاد پرستی کا یہ کھیل جاری رہے گا اور نقصان ہمیشہ عام عوام ہی کا ہوگا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان شخصیت پرستی کے بجائے اصول پسندی کو اختیار کریں، نعروں کے بجائے کارکردگی کو معیار بنائیں اور اپنے ووٹ اور اعتماد کو ایک امانت سمجھتے ہوئے ایسے رہنماؤں کا انتخاب کریں جو واقعی قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں۔ یہی رویہ انہیں سیاسی استحصال سے بچا سکتا ہے اور ایک بہتر مستقبل کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔