ولدیت کا مسئلہ
- تحریر سہیل وڑائچ
- سوموار 08 / جون / 2026
ہائبرڈ نظام کی خوبیوں پر دفتر کے دفتر لکھے جا سکتے ہیں کیونکہ اس سے سیاستدانوں اور مقتدرہ کی کشمکش اور سازشوں، اسکینڈلوں سے وقتی ریلیف ملا ہوا ہے۔
اگر اس نظام کے مثبت پہلو پر بات کی جائے تو یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ اس نظام میں سیاسی اور مقتدر اسٹیک ہولڈرز ذمہ داری، حکمرانی اور خوبیاں، خامیاں شیئر کر رہے ہیں مگر اصل مسئلہ سیاسی کریڈٹ کا ہوتا ہے۔ اگر خوبیاں ایک حصہ دار کے ذمہ میں آئیں اور خامیاں دوسرے کے حصے میں تو نظام کے اندر اشتراک کی بجائے انتشار پیدا ہو جاتا ہے۔ اپوزیشن کی اسٹریٹ پاور نہ ہونے اور عمران خان پارٹی کی تنظیم بکھرنے کے باوجود حکومت کے حق میں زور دار بیانیہ نہ بننے کی وجہ سیاسی ولدیت کا ابہام ہے۔ سیاسی ولدیت دراصل Political Owner Ship کا صحیح اردو مطلب بنتا ہے۔ عام طور پر اسے سیاسی ذمہ داری یا سیاسی سرپرستی کہا جاتا ہے مگر اس ترجمہ سے بات سمجھ نہیں آتی۔ ہائبرڈ نظام میں سیاسی ولدیت واضح نہیں ہوتی۔ جنگ جیتنے کا کریڈٹ حکومت اور مقتدرہ دونوں کا ہے۔ ایران امریکہ ثالثی کا کریڈٹ بھی مقتدرہ اور سیاسی حکومت دونوں کا بتایا جاتا ہے۔ سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کی بابت کہا جاتا ہے کہ یہ وزیراعظم اور مقتدرہ کا مشترکہ کریڈٹ ہے مگر سیاست میں مشترکہ کریڈٹ نہیں چلتا۔ جس طرح کسی ایک شخص کی دو ولدیتیں نہیں ہو سکتیں، اسی طرح سیاسی لغت میں کریڈٹ اور ڈس کریڈٹ میں والد ایک ہی ہوتا ہے۔
اگر اس حوالے سے کنفیوژن ہو تو ق لیگ اور جنرل مشرف کے سیاسی ورثے کے ان کے اقتدار کے بعد ختم ہونے کی مثال دی جا سکتی ہے۔ جنرل مشرف کے کریڈٹ کبھی ق لیگ کے کھاتے میں نہ پڑ سکے اور ق لیگ کا سیاسی جوڑ توڑ کبھی جنرل مشرف کو مضبوط اور مقبول نہ کرسکا۔ ایوب خان اور کنونشن لیگ کے معاملےمیں بھی دونوں کا عروج و زوال اکٹھا ہی ہوا۔ ایوب خان اپنی کامیابیاں کنونشن لیگ کے کھاتے میں نہ ڈال سکے اور کنونشن لیگ بھی ایوب خان کے بعد زیادہ دیر تک زندہ نہ رہ سکی۔ حالانکہ ایک زمانے میں وہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تھی جس میں ذوالفقار علی بھٹو، چوہدری ظہور الٰہی اور نواب آف کالا باغ جیسے بڑے نام شامل تھے۔ جنرل ضیا الحق اور میاں نواز شریف کے اشتراک کا معاملہ البتہ دوسرا ہے۔ کیونکہ نواز شریف نے جنرل ضیاالحق کے بعد ان کے ورثے کی بجائے اپنے سیاسی ورثے کو نہ صرف فروغ دیا بلکہ اپنے خیالات میں تبدیلی کے بعد جنرل ضیا الحق کے ماڈل سے علیحدہ شاخت بنالی۔ انہوں نے جنرل ضیاالحق کی ولدیت کی بجائے اپنی پارٹی پر اپنی ولدیت کی مہر لگائی اور اپنی پارٹی کا نام بھی مسلم لیگ نواز رکھ کر اس تاثر کو تقویت دی کہ ان کی مسلم لیگ صرف ان کےہی نظریات کی پابند ہے۔ ماضی میں جب بھی ہائبرڈ یا اس جیسا سول اورمقتدراشتراک ہوا، سیاسی ولدیت کے حوالے سے کنفیوژن رہی۔ اگر برا نہ مانا جائے تو یہی کنفیوژن اب بھی موجود ہے۔ اگرچہ اس بار مقتدرہ بھی فراخدلی سے ہر کامیابی کا کریڈٹ سیاسی حکومت اور وزیراعظم کو دیتی ہے اور وزیر اعظم بھی انکساری اور عجز سے ہر کامیابی کا کریڈٹ مقتدرہ کو دیتے ہیں۔ مگر ان خوشگوار اشاروں اور رویوں کے باوجود سیاسی بیانیہ میں ولدیت کا مسئلہ اب بھی برقرار ہے۔
آئینی نقطہ نظر سے اوپر دی گئی مثالوں کو اس بنا پر رد کیا جا سکتا ہے کہ جنرل ضیا، جنرل ایوب اور جنرل مشرف کے دور میں مارشل لا نافذ تھا اور اب مارشل لا نہیں، آئینی نظام روبہ عمل ہے جس میں واضح طور پر وزیر اعظم ہی ملک کاچیف ایگزیکٹو ، باس اور سیاسی والد ہے۔ موجودہ مقتدرہ نے کبھی آئینی حدود عبور نہیں کیں مگر آئین اور قانون سے ہٹ کر عام فہم تاثر اور رویہ یہی ہے کہ سب کچھ مقتدرہ ہی کر رہی ہے ۔ سیاسی حقیقت یہ ہے کہ ہر واقعہ کا کریڈٹ یا ڈس کریڈٹ کسی نہ کسی کوتو ملنا ہوتا ہے۔ عوامی سیاست اور لیڈر شپ کے معاملے میں دوئی نہیں یکتائی کا راج ہوتا ہے۔ اپوزیشن کو لاکھ سمجھایا جائے کہ یہ سول حکومت ہے اور مقتدرہ آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کر رہی ہے، اپوزیشن ہر بات پر مقتدرہ کا نام لیتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ عمران خان، وزیر اعظم شہباز شریف اور سیاسی حکومت سے مذاکرات تک پر تیار نہیں۔ ان کی جماعت اور وہ خود بار بار کہہ چکے ہیں کہ ہم جب بھی کریں گے مقتدرہ سےہی مذاکرات کریں گے۔ اس طرح کی متنازعہ سیاسی فضا میں اگر عمران مخالف کیمپ میں سیاسی ولدیت کنفیوژڈ رہےگی تو ان کے حامی بھی کنفیوژڈ ہی رہیں گے اور کوئی واضح بیانیہ بن نہیں پائے گا۔ ہائبرڈ نظام بہت اچھا تجربہ ہے۔ مخلوط حکومت بہترین حل ہے۔ مگر بھان متی کے کنبے میں سیاسی ولدیت ایک نہ ہو تو حامیوں اور مخالفوں کیلئے ہر وقت مشکل ہی بنی رہتی ہے۔
ولدیت کا مسئلہ تو درپیش ہے ہی، اب بجٹ اور اقتصادی مسئلہ بھی دروازے پر آن کھڑے ہیں ۔ تاجروں پر فکسڈ ٹیکس اچھا اقدام ہے مگر اس کے باوجود اقتصادی خسارے میں کمی اور شرح نمو میں اضافے کا امکان کم ہے۔ ملک میں معاشی جمود طاری ہے، نہ بیرونی سرمایہ کاری آ رہی ہے اور نہ برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صورتحال ایسی ہے کہ وفاقی حکومت عوام کو کوئی بڑا ریلیف دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ تین سال سے ٹیکسوں اور مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن حکومت بیرونی قرضوں کے اس قدر دباؤ میں ہے کہ وہ کوئی معاشی ڈھیل دے ہی نہیں سکتی۔ وفاقی حکومت سیاست کرنا بھی چاہے تو اپنے معاشی ہاتھ بندھےہونے کی وجہ سے عوام کا سامنا نہیں کر سکتی۔ وفاق کا ترقیاتی بجٹ سکڑ کر رہ گیا ہے۔ کہاں جونیجو اور جنرل ضیا کے زمانے میں اراکین قومی اسمبلی کو اپنےسیاسی کِلّے مضبوط کرنے کیلئے وافر فنڈ ملتے تھے اور کہاں آج کے بے اختیار اراکین اسمبلی۔ یہ سیاست کریں بھی تو کس بات پر کریں؟
مسلم لیگ ن کا پنجاب میں مسئلہ یہی ہے کہ نہ اراکین صوبائی اور نہ ہی اراکین قومی اسمبلی اقتدار میں ماضی کی طرح شریک ہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں ایسا کوئی امکان نظر آرہا ہے۔ یہی وجہ ہے گراؤنڈ ورک اور ترقیاتی کاموں کی نچلی سطح پر کوئی ولدیت لینے کو تیار نہیں ۔ پنجاب میں ستھرا پنجاب اور سستی ٹرانسپورٹ کے کامیاب منصوبے داد پا رہے ہیں مگر مقامی سطح کی سیاسی قیادت ان منصوبوں سے دور رکھی گئی ہے۔ اس لئے وہ لا تعلق ہے۔ یوں گراس روٹ پر بڑے سیاسی منصوبوں کی ولدیت کوئی نہیں لیتا۔ ان کا کریڈٹ بہرحال براہ راست صرف اور صرف صوبائی وزیراعلیٰ کو جاتا ہے مگر مقامی لوگوں نے تو مقامی لیڈر اور سیاسی قیادت سے ہی ملنا ہوتا ہے۔ اس لئے ان میں ن لیگی قیادت کے کامیاب ترین منصوبوں کیلئے بھی اپناپن محسوس نہیں ہوتا۔
اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ جنگ میں کامیابی، بین الاقوامی طور پر اہمیت اور اسلامی ممالک میں بڑھتے ہوئے رسوخ کے باوجود مقبولیت میں اضافہ کیوں نہیں ہو رہا۔ حکومت کا بیانیہ کیوں نہیں بن رہا ۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں مگر سیاسی ولدیت کی کنفیوژن اور دوئی کا اہم ترین کردار ہے۔ اہل سیاست کو اس پر غور کی ضرورت ہے کہ ایسا کیا کیا جائے کہ سیاسی کریڈٹ یا ڈس کریڈٹ تقسیم ہونے کی بجائے کسی ایک متفقہ شخصیت کو ملے۔ اگر موجودہ دوئی اور کنفیوژن جاری رہی اور سیاسی ولدیت کے بارے میں واضح پالیسی نہ اپنائی گئی تو پھر کامیابیوں کے سیاسی فوائد حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)