کشمیر کا المیہ

عجیب حکومت ہے ۔ جن کے ساتھ مذاکرات کرتی ہےاور پھر ایک تحریری معاہدہ بھی کرتی ہے، کچھ عرصے کے بعد انہیں دہشت گرد قرار دے دیتی ہے ۔ اُن پر پابندی لگا دیتی ہے۔ آزاد جموں وکشمیر حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کا معاملہ دراصل خود حکومت کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

میرے سامنے ایک دستاویز موجود ہے ۔ یہ حکومت اور جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان 4اکتوبر 2025 کو طے پانے والا ایک معاہدہ ہے جس پر موجودہ وفاقی حکومت کے پانچ وزرا سمیت آزادکشمیر کے موجودہ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھوراور ایکشن کمیٹی کے تین رہنماؤں راجہ امجد ، شوکت نواز میر اور انجم زمان اعوان کے دستخط موجود ہیں ۔ جن وزرا نے اس معاہدے پردستخط کئے، وہ اب ایکشن کمیٹی کو دہشتگرد قرار دے رہے ہیں ۔ لوگ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ اس حکومت کو آٹھ ماہ پہلے کیوں پتہ نہ چلا کہ ایکشن کمیٹی والے دہشت گرد اور ملک دشمن ہیں؟

اب تو یہ معاملہ برطانوی پارلیمنٹ تک پہنچ گیاہے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر گروپ کے سربراہ عمران حسین نے 30 دیگر ارکان کے دستخطوں سے حکومت پاکستان کو مشترکہ خط بھیجا ہے جس میں آزادکشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال پرتشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ عمران حسین اور ان کے کشمیر گروپ سے بھارت ہمیشہ نالاں رہا ہے کیونکہ انہوں نے کشمیریوں پر بھارت کے ظلم وستم کے خلاف ہمیشہ بھرپورآواز اٹھائی ہے ۔آج وہی عمران حسین آزادکشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں ۔ کیا اب عمران حسین کو بھی بھارتی ایجنٹ قرار دیا جائے گا؟ پچھلے ایک سال میں پاکستان نے بھارت کو فوجی اور سفارتی میدان میں پسپا ہونے پر مجبور کیا لیکن اب ایسے غلط سیاسی فیصلے کیے جا رہے ہیں جن کا بھارت فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔

آزادجموں وکشمیرمیں موجود حالیہ بے چینی کو تاریخی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اس خطے میں جب بھی کوئی اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھاتا ہے تو وہ غیر ملکی ایجنٹ قرار پاتا ہے ۔ تحریک آزادی کے ہر اہم موڑ پر کشمیری قیادت آپس میں لڑنے لگتی ہے اور ان کی جدوجہد پر منفی اثر پڑتا ہے ۔ مت بھولیے کہ پاکستان 14 اگست 1947 کو قائم ہوا اور کشمیریوں کی موجودہ تحریک آزادی 13 جولائی 1931 کو شروع ہوئی ۔ 13 جولائی آج بھی یوم شہدائے کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ کشمیریوں کی مزاحمت قیام پاکستان سے قبل شروع ہو چکی تھی ۔ 24 اکتوبر 1947 کو سردار ابراہیم خان کی سربراہی میں قائم ہونے والی آزادکشمیر کی پہلی عبوری حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ہمارا اصل مقصد پوری ریاست کو ڈوگرہ خاندان کے تسلط سے نجات دلانا ہے ۔

افسوس کہ کشمیری قیادت نے آزادکشمیر میں حکومت قائم ہونے کے چند ماہ بعد ہی آپس میں لڑنا شروع کر دیا ۔ 1948 میں مسلم کانفرنس کے سربراہ چوہدری غلام عباس جموں جیل سے رہا ہوکر پاکستان آئے تو سردار ابراہیم کے ساتھ اُن کی چپقلش شروع ہو گئی ۔ چوہدری غلام عباس مہاجر تھے ۔ سردار ابراہیم مقامی تھے ۔ چوہدری غلام عباس کے پاس مسلم کانفرنس کی قیادت تھی ۔ سردار ابراہیم کے پاس آزاد کشمیر کی حکومت تھی ۔ اُس وقت کے وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان نےچوہدری غلام عباس کا ساتھ دیا اور 1950 میں سردار ابراہیم کی حکومت ختم کر دی گئی۔ مسلم کانفرنس تین دھڑوں میں بٹ گئی ۔ ایک دھڑا چوہدری غلام عباس کا تھا جوجموں کے مہاجروں کا نمائندہ تھا ۔ دوسرا دھڑا سردار ابراہیم کا تھا جو مقامی قبائل میں اثرورسوخ رکھتا تھا اور تیسرا دھڑا میر واعظ یوسف شاہ کا تھا جو وادئ کشمیر کے مہاجروں کا نمائندہ تھا ۔ سردار ابراہیم نے اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد آزادکشمیر کےکچھ علاقوں میں اپنی متوازی حکومت قائم کر لی۔ چوہدری غلام عباس نے راولپنڈی میں ان کے خلاف ایک جلسہ کیا جہاں سردار ابراہیم کے حامیوں نے ہنگامہ کر دیا اور ایک کشمیری مہاجر خواجہ غلام دین وانی مارا گیا۔

وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان نے سردار ابراہیم کی متوازی حکومت کو ختم کرنے کیلئے راولاکوٹ میں فوجی آپریشن کا حکم دیا ۔ فوج اور مقامی قبائل میں لڑائی ہو گئی ۔ یہ لڑائی کافی عرصہ جاری رہی ۔ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد آنیوالی حکومتوں نے سردار ابراہیم خان کے ساتھ مفاہمت کرلی اور انہیں اقتدار واپس مل گیا۔ پونچھ میں ایک اور بغاوت 1955 میں ہوئی۔ اس بغاوت میں خان آف منگ کے نام سے مشہور کرنل خان محمد خان نے باغ میں اپنی حکومت قائم کرلی۔ اس بغاوت کی وجہ مقامی انتظامیہ کی طرف سے کی جانے والی وعدے خلافیاں تھیں ۔ بعد میں خان آف منگ نے گرفتاری دے دی ۔ اُنہیں غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا گیا لیکن عدالت میں ان پر کوئی الزام ثابت نہ کیا جا سکا ۔ 1958 میں جنرل ایوب خان نے مارشل لا لگا دیا اور سردار ابراہیم خان کی حکومت ختم کرکے ایک کشمیری مہاجر کے ایچ خورشید کو ریاست کا صدر بنا دیا گیا۔ کے ایچ خورشید زیادہ دیر ایوب خان کے ساتھ نہ چل سکے ۔ جب محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن لڑا تو کے ایچ خورشید ما درملت کی انتخابی مہم کے نگران تھے ۔

مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے ایک اور مہاجر مقبول بٹ نے بھی ما درملت کی انتخابی مہم میں حصہ لیا لیکن مادر ملت کی شکست کے بعد وہ پاکستان کی سیاست سے مایوس ہو گئے ۔ اُن کا خیال تھا کہ ریاست جموں وکشمیر کو بھارت کے قبضے سے آزادی دلوانے کا واحد راستہ مسلح مزاحمت ہے ۔ وہ مسلح مزاحمت کو منظم کرنے سرینگر چلے گئے اور وہاں گرفتار ہو گئے ۔ 1968 میں وہ سرینگر جیل سے فرار ہو کر واپس آزادکشمیر آئے تو یہاں گرفتار کرلیے گئے ۔ اُنہیں بھارتی جاسوس قرار دے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ 1971 میں بھارتی طیارے گنگا کے اغوا کے بعد اُنہیں دیگر ساتھیوں سمیت لاہور کے شاہی قلعے میں تشدد کا سامنا کرنا پڑا ۔ عدالت میں ان پر بھارتی جاسوس ہونے کا الزام ثابت نہ ہوا ۔ باعزت رہائی کے بعد انہیں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے آزادکشمیر کی صدارت پیش کی گئی لیکن وہ صدارت ٹھکرا کر واپس مقبوضہ کشمیر چلے گئے۔ وہاں پھر گرفتار ہو گئے اور 1984 میں انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی ۔ ان کا جسد خاکی آج بھی تہاڑ جیل میں دفن ہے۔

مقبول بٹ کا المیہ دراصل کشمیر کی تحریک آزادی کا المیہ ہے ۔ بھارت انہیں ہمیشہ پاکستان کا ایجنٹ کہتا رہا اور پاکستان انہیں بھارتی ایجنٹ قرار دیتا رہا ۔ آزادکشمیر میں نظر آنے والی حالیہ بے چینی کا نکتہ آغاز 5 اگست 2019 کا بھارتی اقدام ہے جب مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی اور پاکستان کچھ نہ کر سکا ۔ 7 ستمبر 2019 کو جے کے ایل ایف نے راولاکوٹ میں احتجاج کیا اور لائن آف کنٹرول کی طرف لانگ مارچ شروع کر دیا جسے روکنے کیلئے مظاہرین پر شیلنگ کی گئی ۔ پھر 23 اکتوبر 2019 کو مظفرآباد میں بہت بڑا احتجاج ہوا جسے روکنے کیلئے شیلنگ اور لاٹھی چارج کا استعمال ہوا ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ احتجاجی مظاہرے بھارت کے خلاف شروع ہوئے تھے لیکن بعد میں ان کا رخ پاکستانی حکمرانوں کی طرف کیسے مڑ گیا؟

2022 میں اس بے چینی نے عوامی حقوق کی تحریک کا رنگ اختیار کیا جو دراصل سیاسی جماعتوں کی قیادت پر عدم اعتماد تھا کیونکہ اس وقت آزادکشمیر میں تحریک انصاف کی حکومت بھی ایکشن کمیٹی کو غیر ملکی ایجنٹ کہتی تھی۔ پاکستان کے حکمرانوں اورکشمیری قیادت کو اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے ۔ آپس میں مت لڑیں ۔ مذاکرات کی طرف واپس آئیں ۔ ایک دوسرے کو غیر ملکی ایجنٹ کہنا بند کریں۔ کشمیری عوام اور پاکستانی حکمران آپس میں الجھیں گے تو فائدہ بھارت اٹھائے گا۔ آج جس عوامی ایکشن کمیٹی کو بھارتی ایجنٹ کہا جا رہا ہے صرف آٹھ ماہ قبل ان بھارتی ایجنٹوں کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے والوں کے بارے میں ہم کیا کہیں ؟

کل کو آپ اسی ایکشن کمیٹی کے ساتھ پھر مذاکرات کریں گے جسے دہشت گرد قرار دیا گیا۔ یہ صرف کشمیر کا نہیں پاکستان کے اہل سیاست کا بھی المیہ ہے جو مختلف اوقات میں ایک دوسرے کو ملک دشمن قرار دیتے رہے ہیں اور پھر ایک دوسرے کے اتحادی بن جاتے ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)