کشمیر ایکشن کمیٹی کیا چاہتی ہے؟

گڈ گورننس کے مسائل تیسری دنیا کے تمام ممالک میں ہیں۔ ان مسائل کی بنیاد پر جب کوئی تحریک اٹھتی ہے تو پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مسائل اس تحریک کی وجہ (ریزن) ہیں یا یہ مسائل اس تحریک کا بہانہ (ایکسکیوز) ہیں۔ یعنی یہ تحریک ان مسائل کی وجہ سے چل رہی ہے یا ان کو بہانہ بنا کر چلائی جا رہی ہے ۔

آزاد کشمیر کی حالیہ تحریک کا بیانیہ بتا رہا ہے کہ بات وجہ یعنی ریزن کی نہیں ہے بلکہ معاملہ بہانے یعنی ایکسکیوز کا ہے۔ جو زبان اس تحریک میں استعمال ہو رہی ہے، وہ حقوق کے حصول کا بیانیہ ہی نہیں ہے ، وہ انتشار اور تخریب کا بیانیہ ہے۔ مسائل کتنے ہی حقیقی کیوں نہ ہوں، ان کے حصول کی کوشش کسی آئینی دائرہ کار کے اندر رہ کر ہی ہوتی ہے۔ یہاں معاملہ کچھ اور محسوس ہو رہا ہے۔ کچھ عناصر ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کو سینگوں پر لینے پر تلے بیٹھے ہیں۔ یہ حقوق کے حصول کی نہیں، داخلی انتشار کی کوشش ہے۔

جو واردات عرب سپرنگ کے نام پر عرب معاشروں میں کی گئی، اس کے بعد انتہائی ضروری ہو چکا ہے کہ جذبات، اشتعال، مسائل کی بنیاد پر ایسی کسی تحریک کا ایندھن بننے سے پہلے اس کا جائزہ لے لیا جائے کہ اس کے منطقی اور اصل اہداف کیا ہیں۔ عرب معاشرے کو بھی حقوق کے نام پر ایسے ہی چاؤ چڑھے تھے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ ہمارے سامنے ہے۔ کشمیر ایک حساس علاقہ ہے۔ یہاں شورش برپا کرنے کے مقاصد صرف داخلی سیاست سے جڑے نہیں رہتے، ان کا ایک تزویراتی پہلو بھی ہے۔ یہاں ریاست سے لوگوں کو الجھانے میں کامیابی کا مطلب یہ بھی ہے کہ بھارت کو یہ کہنے کا موقع ملے کہ مقبوضہ کشمیر کی بات کرنے والا پاکستان آزاد کشمیر میں کیا کر رہا ہے۔ جس شدت اور اشتعال انگیز بیانیے کے ساتھ یہ تحریک چلائی جا رہی ہے اور جس طرح بیرون ملک بیٹھے لوگ اس پر تیل پھینک رہے ہیں اس سب کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

اس طرح مسائل کی بنیاد پر اگر اشتعال انگیز بیانیہ کھڑا کرکے تحریک چلانا ہو تو پنجاب میں کون سا دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ پنجاب بھی کہہ سکتا ہے کہ اگر منگلا ڈیم کی بنیاد پر کشمیر میں بجلی 3 روپے فی یونٹ ہے تو پنجاب کا آٹا کشمیر میں پنجاب سےبھی سستا کیسے مل رہا ہے اور کیوں مل رہا ہے۔ پنجاب میں کیا کم مسائل ہیں؟ پنجاب کا بنیادی انحصار زراعت پر ہے لیکن بیج اچھا نہیں ملتا، پانی کا بحران ہے، بجلی مہنگی ہے، کھادیں دستیاب نہیں، فصلیں تیار ہو جائیں تو قیمت نہیں ملتی، مڈل مین کسان کا استحصال کرتے ہیں تو کیا پنجاب بھی اسی طرح ریاست اور اس کی اکائیوں اور اس کے اداروں کو گالیاں دیتا ہوا سڑکوں پر آ جائے؟

مسائل کہاں نہیں ہوتے۔ پورے ملک میں مسائل ہیں۔ کشمیر میں بھی ہیں اور بلاشبہ بہت ہیں۔ لیکن ان کے حل کی تحریک اگر انتشار اور داخلی عدم استحکام کی طرف بڑھ رہی ہو تو پھر یہ سوال پیدا ہونا فطری امر ہے کہ کیا وجہ ہے کہ جو جو علاقے پاکستان کے لیے تزویراتی اہمیت کے حامل ہیں وہاں انتشار کی کیفیت پپدا کی جا رہی ہے؟

پاکستان میں دو بڑے مسئلے ہیں۔ پہلا یہ کہ پاکستان میں ایک طبقے کو ہر وقت احتجاج آیا ہوتا ہے۔ کچھ وہ ہیں جو اپنی افتاد طبع سے مجبور ہیں، انہیں زندہ رہنے کے لیے تماشا چاہیے۔ کچھ پاپولزم کا شکار ہیں، ریٹنگ کے لیے چی گویرے بنے رہتے ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو اپنے سیاسی مسائل کی وجہ سے جہاں موقع ملتا ہے حساب برابر کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ کچھ وہ بھی ہیں جن کی قوم پرستی موقع کی تلاش میں ہوتی ہے کہ ریاست کو کہنی مار سکیں۔ نواب زادہ نصر اللہ خان کہا کرتے تھے: اگے بھابھو نچنی اتوں ڈھولاں دے گھٓمکار۔ تو یہ سب عناصر بھی انتطار میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ کہیں ڈھول بجے اور یہ میدان میں آ جائیں۔ دوسرا یہ کہ یہاں ایسا ملامتی طرز فکر وجود میں آ چکا ہے کہ ہمیشہ ریاست کٹہرے میں رہتی ہے۔ مثلا شیخ مجیب تو اچھا تھا، بس ریاست غلط تھی۔ بلوچ عسکریت پسند تو دودھ کے دھلے تھے، بس ریاست نے انہیں دیوار سے لگا دیا۔ فلاں تو اچھا تھا ساری غلطی ریاست کی ہے۔ یہ طرز فکر ہی غلط ہے۔ نہ تو ریاست ہمیشہ غلط ہوتی ہے نہ ہی ریاست کسی ولن کا نام ہے۔

حقوق کی تحریک ہو یا کوئی اور ، ہر مطالبہ نہیں مانا جا سکتا۔ یہاں بھی حکومت کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستوں والا مطالبہ نہیں مانا جا سکتا۔ اس کا تعلق تحریک آزادی کشمیرا ور استصواب رائے سے ہے۔ مہاجر طلبا کا کوٹہ بھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ٹیکسوں والا معاملہ بھی پیچیدہ ہے۔ حکومت کا موقف قابل فہم ہے کہ کشمیر کی آمدن 60 ارب ہے اور بجٹ 300 ارب۔ یہ اضافی 240 ارب وفاق دیتا ہے۔ ٹیکس بھی ختم کر دیے جائیں تو کشمیر کی آمدن صرف 15 ارب رہ جائے گی۔ ایسا بی نہیں کہ ان کا کوئی مطالبہ نہیں مانا گیا۔ کافی سارے مطالبات مانے بھی جا چکے۔ ترقیاتی کام بھی بے شک مثالی نہیں لیکن کام ہو رہا ہے۔

بجلی 3 روپے فی یونٹ مل رہی ہے، آٹا پنجاب کی قیمت پر دستیاب ہے، 5 کلو واٹ تک ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی جا چکی ہے۔ سرچارج معاف ہو چکے ہیں، بقایا جات کی ادائیگی کے لیے 36 قسطوں کی سہولت دی گئی ہے۔ حکومت پاکستان کا صحت کارڈ کشمیریوں کے لیے بھی دستیاب ہے، منگلا ڈیم ریزنگ پراجیکٹ کے بجلی بلوں کے بقایا جات معاف ہو چکے۔ آپٹیکل فائبر پر کام جاری ہے، ایم آئی آر مشینوں کے لیے ساڑھے 5 ارب کا پی سی ون منظور ہو چکا ہے۔ ٹی ایچ کیو اسپتالوں میں آپریشن تھیٹرز اور نرسریوں کے لیے پونے 3 ارب کا پی سی ون بھی منظور ہو چکا ہے۔ کہوڑی اور چلپانی میں 2 ٹنلز کی فزیبیلٹی پر این ایچ اے کا کام شروع ہے، گلپور پلوں کی تعمیر کے لیے 824 ملین کے پی سی ون کے تحت ٹینڈرز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ 10 اضلاع میں واٹر سپلائی اسکیموں کے لیے 90 ملین کا پی سی ون منظور ہو چکا ہے اور ٹینڈر جاری کیے جا چکے ہیں۔ بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب کا پی سی ون منظوری کے لیے پلاننگ کمیشن کے پاس بھیجا جا چکا ہے۔ وزارت آبی وسائل نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیے معاہدے کا حتمی مسودہ تیار کر چکی ہے۔

مزید بہتری بھی ہونی چاہیے اور کوئی بیٹھ کر بات کرنا چاہے تو ضرور کرنی چاہیے۔ احتجاج میں کچھ باتیں مانی جاتی ہیں، کچھ منوائی جاتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ وہ چنگیز خان کے لشکر کی طرح آئے گا اور ریاست ہاتھ باندھ کر اس کے حضور پیش ہو جائے گی تو یہ نہ ہو سکتا ہے نہ ہونا چاہیے۔

(بشکریہ: وی نیوز)