جنگ کے دو متوالوں کے درمیان پھنسے صدرٹرمپ
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 08 / جون / 2026
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال سے تو یہی لگتا ہے کہ ایران اور اسرائیل جنگ کا شوق پورا کرنا چاہتے ہیں لیکن امریکی صدر ٹرمپ سفید جھڈا اٹھائے کبھی نیتن یاہو کو ڈانٹ کر باز آنے کا حکم دیتے ہیں تو کبھی ایرانیوں سے کہتے ہیں کہ اب بھی موقع ہے مذاکرات کی میز پر واپس آجاؤ۔ البتہ دونوں ہی امریکی صدر کی بات سننے پر آمادہ نہیں۔
ایران اسرائیلی حملوں کو امریکی ساز باز قرار دیتا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل امریکی اشارے کے بغیر کوئی جنگی کارروائی نہیں کرسکتا۔ تو دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اگر ایران حملہ کرے گا تو اسرائیل لازمی جواب دے گا۔ کیوں کہ یہ اسرائیل کے وجود و سلامتی کا سوال ہے۔ اسرائیل کے لیے مشرق وسطیٰ میں ایرانی حکومت کی ڈکٹیشن قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہی ہے کہ ایران نہ صرف اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اس کے وجود کو ناجائز قرار دے کر اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور امن کی کوششوں کے درمیان اس دعوے کو دہرانا ضروری سمجھا ہے۔
ایران نے گزشتہ روز جب اسرائیل میں مختلف اہداف پر میزائل حملے کیے تھے تو اسی وقت دو باتیں واضح ہوگئی تھیں۔ ایک یہ کہ اسرائیل لازمی ان حملوں کا جواب دے گا۔ دوسرے یہ کہ دونوں ملکوں کی باہمی جھڑپیں طویل نہیں ہوسکیں گی کیوں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی طرح اس جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور ایرانی حملوں کے بعد انہوں نے اسرائیل کو یہی مشورہ دیا تھا کہ وہ جوابی وار کرنے سے باز رہے ۔ تاہم اسرائیلی لیڈروں نے امریکی صدر کی حکم نما درخواست کو قبول کرنا گوارا نہیں کیا۔ تل ابیب اگر یہ بات مان لیتا تو مستقبل کے لیے یہ اصول طے ہوجاتا کہ اگر اسرائیل پر حملہ ہوگا تو مخصوص حالات میں اسرائیلی حکومت کو اسے برداشت کر نا پڑے گا ۔جبکہ اسرائیل نے یہ واضح پالیسی بنا رکھی ہے کہ اگر اس پر ایک میزائل بھی پھینکا جائے تو وہ مخالف کے خلاف بھرپور کارروائی کرکے اسے شدید نقصان پہنچانے کے بعد ہی دم لیتا ہے۔ اسی اسرائیلی حکمت عملی کی وجہ سے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائی شدید سے شدید ہورہی ہے اور امریکی و عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیل یہ جنگ بند کرنے پر تیار نہیں ہے۔ ایرانی حملوں کی وجہ بھی اسرائیل کی یہی ہٹ دھرمی بنی تھی۔
ایران گزشتہ چند روز سے اشارے دے رہا تھا کہ لبنان میں شروع کی گئی جنگ بھی اپریل میں پاکستان کے کہنے پر شروع ہونے والی جنگ بندی کا حصہ ہے اور اسے بند ہونا چاہئے۔ امریکہ نے اگرچہ دو ٹوک الفاظ میں اس ایرانی مؤقف کی تائید نہیں کی لیکن صدر ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنانی حکومتوں کو مذاکرات پر آمادہ کیا اور ان کے درمیان عبوی جنگ بندی کروائی گئی۔ تاہم اصل مسئلہ حز ب اللہ کے جنگجوؤں کا ہے جو نہ تو اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی اسرائیل پر اکا دکا میزائل پھینکنے سے باز آتے ہیں۔ ایرانی لیڈروں کو حزب اللہ کی یہ یک طرفہ شرارت تو دکھائی نہیں دیتی البتہ اس کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں پر انہیں سخت تکلیف ہے ۔کیوں کہ پوری دنیا میں تنہا ہونے کے بعد حزب اللہ جیسے گروہ ہی موجودہ حالت جنگ میں اکڑ دکھانے کے لیے اس کا واحد سہارا ہیں۔
لبنان میں اسرائیلی کارروائی ہر حد سے غیر معمولی اور انتہا پسندانہ ہے۔ اس نے جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں کو خالی کراکے وہاں دوبارہ قبضہ کرلیا ہے اور اس کی بمباری سے ایک طرف لاکھوں لوگ بے گھر ہوکر ہر قسم کی سہولتوں سے محروم ہوچکے ہیں تو دوسری طرف اس جنگ میں چار ہزار شہری اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاہم گزشتہ چند دنوں کے دوران اسرائیل نے بطور خاص بیروت پر حملے کرکے صورت حال کو کشیدہ کیا ہے۔ اسرائیل ، ایران کے ساتھ امریکی مصالحت یا جنگ بندی کے خلاف ہے۔ اسی لیے اس نے لبنان میں جنگ کو ٹرمپ کے امن منصوبے کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ دو روز قبل بیروت پر حملوں سے پہلے صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو ایسی کارروائی سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔ بادی النظر میں یہ وارننگ تہران سے موصول ہونے والے اشاروں کی وجہ سے دی گئی تھی اور خبروں کے مطابق ٹرمپ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران نیتن یاہو پر ناراض بھی ہوئے تھے۔ اس کے باوجود اسرائیل وزیر اعظم نے بیروت پر فضائی حملے کیے اور اسی کے نتیجے میں گزشتہ روز ایران نے اسرائیل میں متعدد اہداف پر میزائل پھینکے۔
مغربی مبصرین کی اکثریت قیاس کررہی تھی کہ اب یہ جنگ مزید پھیلے گی اور اسرائیل تہران کو شدید نقصان پہنچائے بغیر جنگ بند نہیں کرے گا۔ البتہ یہ قیاس آرائیاں اسرائیل امریکہ تعلق کے تناظر میں درست نہیں تھیں۔ اسرائیل نے ضرور صدر ٹرمپ کی بات فوری طور سے نہیں مانی لیکن وہ امریکہ کی مرضی کے بغیر مشرق وسطیٰ میں کسی طویل جنگ کا متحمل بھی نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح ایران بھی اگرچہ جنگی حالات برقرار رکھنا چاہتا ہے لیکن وہ بھی اسرائیل یا امریکہ کے ساتھ کسی طویل المدت نئی جنگ کا بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، تہران کے لیڈروں کو بخوبی علم ہوگا کہ ایسی کوئی جنگ ایرانی عوام کی زندگیوں کو مزید ابتر کرے گی اور ایسا بوجھ شاید کسی انہونی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ایرانی لیڈر حامی ہجوم کی تصویریں اور ویڈیو جاری کرکے اس جنگ کو عوام کی جنگ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکنانہیں اگر حقیقی عوامی غم و غصہ کا سامنا کرنا پڑا تو وہ شاید اقتدار پر قابض نہ رہ سکیں۔ موجودہ ایرانی رجیم کے لیے یہ جنگ اور جنگی حالات درحقیقت اقتدار پر تسلط جاری رکھنے ہی کے لیے ضروری ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ حالات پر نگاہ رکھنے والوں کو دکھائی دے رہا تھا کہ صدر ٹرمپ کی واضح مخالفت کے بعد اسرائیل اور ایران چند حملوں کے بعد دھمکیاں دیتے ہوئے جنگ بند کردیں گے۔ لہذا پہلے ایران کی اعلیٰ عسکری کمان خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز نے اسرائیل پر حملے نہ کرنے کا اعلان کیا تاہم متنبہ کیا کہ لبنان میں جنگ بند نہ ہو ئی تو مزید خوفناک کارروائی ہوگی۔ اس کے تھوڑی دیر بعد نیتن یاہو نے ایرانی حملوں کے جواب کو جائز قرار دیتے ہوئے مزید حملے نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح ایک بار پھر جنگ بندی قائم ہوچکی ہے لیکن لبنان میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ البتہ اسرائیل شاید بیروت پر براہ راست حملے کرنے سے گریز کرے۔ یوں ایران اور اسرائیل ایک غیر تحریر شدہ معاہدے کے تحت حملوں سے باز رہیں اور دھمکیوں پر گزارا کریں۔
لبنان میں اگرچہ مسلمان آبادی 68 فیصد ہے لیکن ملک میں 32 فیصد عیسائی بھی آباد ہیں۔ لبنان کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے اور اسے سیکولر نظام کے تحت چلایا جاتا ہے۔ لیکن حزب اللہ کی عسکری طاقت کی وجہ سے لبنان کی سرکاری فوج کا دفاعی معاملات میں کنٹرول محدود ہوچکا ہے۔ اسی طرح بیروت کی حکومت حزب اللہ کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی۔ دوسری طرف حزب اللہ طاقت ور عسکری گروہ ہونے کے باوجود لبنان کی سرکاری فوج نہیں ہے بلکہ اسے ایک پرائیویٹ ملیشیا کی حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے یہ مان لینے میں حرج نہیں ہے کہ اس ملیشیا گروہ نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے عوام کی بڑی اکثریت کو یرغمال بنایا ہؤا ہے۔ حزب اللہ اگر اسرائیل کے خلاف جنگ جوئی کو لبنان کی سرکاری پالیسی تسلیم کرانا چاہتی ہے اور خود کو مسلمان آبادی کا غیرمتنازعہ نمائیندہ سمجھتی ہے تو اسے مسلمان اکثریت کی بنیاد پر سیاسی طاقت حاصل کرکے حکومت بنانے کا اقدام کرنا چاہئے ۔تاکہ لبنان سرکاری طور پر اسرائیل سے دشمنی کا اعلان کرے۔ پھر شاید حزب اللہ بھی اسرائیل کے ساتھ مسلسل چھیڑ چھاڑ سے باز رہے۔ اس کے برعکس حزب اللہ مشرق وسطی میں ایران کی پراکسی کے طور کام کررہی ہے اور فلسطینی کاز کو سیاسی نعرے یابلنڈر کے طور پر استعمال کیاجاتا ہے۔
ان حالات میں لبنان کے خلاف اگر اسرائیل کی کارروائی رک بھی گئی تو تھوڑے عرصے بعد ہی یہ فساد دوبارہ شروع ہوجائے گا۔ مکمل امن اور ہمہ قسم تشدد کے خاتمہ کے لیے فلسطینیوں کے حقوق سمیت دیگر تمام مسائل کا حل ضروری ہے۔ امریکہ اپنے مفادات کے حصار میں زمینی حقائق کی مکمل تصویر دیکھنے پر تیار نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے فروری کے آخر میں اسرائیل کے بہکاوے میں ایران کے خلاف بلا اشتعال حملہ کیا ۔ اب وہ کسی بھی طرح اس جنگ کو کسی ایسے انجام تک پہنچانے کے لیے بے چین ہیں جس میں وہ فاتح دکھائی دیں۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ ایران ہی نہیں اسرائیل بھی ان کا یہ خواب پورا نہیں ہونے دیں گے۔