جلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے ہدایت کر دی۔وزیراعظم نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے حوالے سے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری ہماری ترجیح ہے۔نجکاری کے تمام عمل کو انتہائی شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ڈسکوز کی نجکاری کے بعدمضبوط ریگولیٹری فریم ورک بنایا جائے۔اجلاس کو ڈسکوز کی نجکاری کے حوالےسے سے پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔ پہلے فیز میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، گوجرانوالا الیکٹرک پاور کمپنی اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری کی جائے گی۔ ان تین ڈسکوز کی نجکاری کے حوالےسے ایکسپریشن آف انٹرسٹ ملکی و بین الاقوامی اخبارات میں دیا جا چکا ہے۔کابینہ کی نجکاری کمیٹی نے ان تین ڈسکوز کی نجکاری کے حوالےسے ٹرانزیکشن اسٹرکچر کی منظوری دے دی ہے۔
بریفنگ کے مطابق سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے روڈ شو اس ماہ سے منعقد کئے جا رہے ہیں، سعودی عرب ، ترکیہ اور چین کے سرمایہ کاروں کے لئے بین الاقوامی سطح پر بھی روڈ شوز منعقد کئے جارہے ہیں۔ اس دوران حکومت 12 جون کو قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ خبروں کے مطابق صدر مملکت آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایوان صدر میں ہونے والی اہم ملاقات میں بجٹ پر اتفاق رائے پیدا ہؤا ہے۔ رپورٹس کے مطابق نہ صرف وفاقی بجٹ کی منظوری کی راہ ہموار ہوئی ہے بلکہ حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور گلگت بلتستان کی نئی سیاسی صورتحال کے تناظر میں بھی کئی اہم امکانات کو جنم دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس ملاقات سے قبل حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ کے حوالے سے دو ادوار پر مشتمل مذاکرات ہو چکے تھے تاہم حکومت پیپلز پارٹی کا مکمل اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے صوبوں کے حقوق، ترقیاتی منصوبوں، عوامی ریلیف اور بجٹ ترجیحات سے متعلق متعدد تحفظات سامنے آئے تھے جس کے باعث بجٹ کی منظوری کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔
تاہم ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات میں دونوں جانب سے مفاہمت اور سیاسی لچک کا مظاہرہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں وفاقی بجٹ اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام سمیت متعدد تجاویز پر اتفاق رائے پیدا ہوا۔ اور ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے بجٹ کی منظوری کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے۔ بعض تکنیکی امور پر مشاورت کے لیے کمیٹیاں اپنا کام جاری رکھیں گی۔