ایران امریکہ امن معاہدہ کے روشن امکانات

  • منگل 09 / جون / 2026

بی بی سی نے سینئر عرب ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران، امریکہ اور خطے کی صورتحال سے متعلق ایک ممکنہ معاہدہ قریب دکھائی دیتا ہے۔ تاہم مغربی سفارت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ مذاکرات میں شامل فریقین ’حد سے زیادہ خوش فہمی‘ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پیش رفت کے امکانات کو زمینی حقائق سے زیادہ مثبت انداز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس وقت جس معاملے پر بات چیت ہو رہی ہے وہ کوئی حتمی امن معاہدہ نہیں بلکہ آئندہ مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک یا ایجنڈا ہے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے طریقۂ کار جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔

آبنائے ہرمز کی بندش اب بھی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ جوں جوں وقت گزر رہا ہے، اس کے معاشی اثرات مزید شدید ہوتے جا رہے ہیں اور یہ صورتحال صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

امریکہ میں موسمِ گرما کے دوران ایندھن کی طلب بڑھنے کے ساتھ ساتھ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک اہم سیاسی اور معاشی تشویش کا باعث ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اب اس بحران کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کو خدشہ ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے نتیجے میں جنگ کے دوران ایران کی حاصل کردہ سٹریٹجک برتری کو عملی طور پر تسلیم کر لیا جائے گا اور تہران ایک طرف جبکہ امریکہ اور اسرائیل دوسری طرف خطے میں طاقت کے ایک نئے توازن اور ایک نئی صورتحال کو قبول کرنا پڑے گا۔

ادھر عام ایرانی شہری جو امید کر رہے تھے کہ یہ تنازع سیاسی تبدیلی یا ان کے حالاتِ زندگی میں بہتری کا باعث بنے گا، ان کے لیے فی الحال ایسی کسی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوموار کے روز بی بی سی کی شمالی امریکہ کی ایڈیٹر سارہ سمتھ سے گفتگو کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے امکانات اور ایران و اسرائیل کے درمیان کشیدگی پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کو ایران پر حملے روکنے کے لیے کیسے آمادہ کیا تو ٹرمپ نے جواب دیا ’میں نے صرف اتنا کہا کہ ہمیں عقل و دانش سے کام لینا ہوگا۔ ہم ایک بہت طاقتور اور بہت اچھے معاہدے پر دستخط کرنے کے انتہائی قریب ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’نہ جوہری ہتھیار ہوں گے اور نہ ہی ایسی کوئی اور چیز۔ آپ جانتے ہیں، ہمیں بہت زیادہ عقل مندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ سب کچھ ٹھیک تھا۔‘ ٹرمپ سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ نیتن یاہو نے ایران کے حملوں کے جواب میں کارروائی کی، حالانکہ انھوں نے اسرائیل سے جوابی میزائل حملے نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔

اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ’نہیں، نہیں۔ وہ حملے پہلے ہی کر چُکے تھے۔ وہ پہلے ہی ایران پر حملے کے لیے راستے میں تھے۔‘

اسرائیلی وزیرِاعظم کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے بی بی سی سے کہا کہ ’اگر میں ان سے کوئی کام کرنے کو کہوں تو وہ وہی کرتے ہیں۔‘