بجٹ کی الجھنیں
- تحریر عارفہ نور
- منگل 09 / جون / 2026
بجٹ سر پر ہے۔ ایک سرکاری عہدیدار نے ٹویٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ جلد اسے پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں جماعتیں ۔۔۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ۔۔۔ تمام مالی معاملات پر متفق ہو چکی ہیں۔
ملاقاتیں اب بھی جاری ہیں کیونکہ وہ اس بات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ صوبے وفاق کو مقررہ سرپلس کے علاوہ کیا تعاون فراہم کریں گے جو گزشتہ چند برسوں سے معمول بن چکا ہے۔ اسلام آباد میں چہ مگوئیاں مختلف تجاویز اور ’حلوں‘ کے گرد گھوم رہی ہیں، جن میں قابلِ تقسیم مالیاتی پول (Divisible Pool) کے فارمولے میں تبدیلی، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو صوبوں کے حوالے کرنا یا صوبائی حکومتوں سے وزارتِ داخلہ کے اخراجات برداشت کروانا شامل ہیں۔ تاہم بیشتر مبصرین کا خیال ہے کہ اب این ایف سی میں آئینی ترمیم کے ذریعے تبدیلی لانے کے لیے وقت بہت کم ہے۔ لہٰذا فیصلے دوسرے ذرائع سے ہی کرنے ہوں گے۔ چنانچہ ایک ’اتفاقِ رائے‘، ایک ہائبرڈ انداز میں، پیدا کیا جائے گا۔
اسی لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ملاقاتیں جاری ہیں۔ یہ حقیقت کہ اسحاق ڈار، جنہیں اکثر اتحادیوں کو مطمئن کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے، مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ یہ واضح نہیں کہ مسئلہ حل ہو چکا ہے یا اب بھی مزید بحث و مباحثے کا متقاضی ہے، لیکن یہ طے ہے کہ اس پر کوئی نہ کوئی حل نکال لیا جائے گا۔ اور اتنا ہی یقینی ہے کہ پیپلز پارٹی بدلے میں اپنی قیمت ضرور وصول کرے گی۔
مگر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی یہ صرف ایک کڑی ہے۔ وی لاگز، ٹویٹس، افواہیں اور ’ذرائع‘ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بڑے پیمانے کی اصلاحات کے لیے اب بھی 28ویں آئینی ترمیم درکار ہے، جس میں مقامی حکومتوں کا نظام، کراچی اور گوادر جیسے علاقوں کی صوبائی حیثیت میں تبدیلی، اور دیگر اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا یہ محض حکومتی جماعتوں کو مالی معاملات میں لچک دکھانے پر مجبور کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی ہے یا واقعی ان تجاویز کے پیچھے سنجیدہ ارادے موجود ہیں۔ شاید بجٹ کے بعد صورتحال زیادہ واضح ہو جائے۔
تاہم اس میں کم ہی شک ہے کہ طاقتور حلقوں کی توجہ اب سفارت کاری اور عالمی امن سے ہٹ کر معیشت اور سیاست جیسے روزمرہ کے معاملات پر مرکوز ہو چکی ہے۔ وزیرِ داخلہ کو پڑوسیوں اور دوستوں تک پیغامات پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جبکہ وزیرِ خارجہ اب اپنی جگہ پر رہ کر اتحادیوں کے ساتھ معاملات چلا رہے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا، افواہوں کی بھرمار ہے۔ ان میں سے ایک بار پھر کابینہ میں ممکنہ ردوبدل کی خبر بھی ہے۔ اس امکان کو معیشت کی حالت اور حکومت کی کارکردگی پر جاری بحث و مباحثے سے تقویت ملتی ہے۔ خارجہ پالیسی کی کامیابیوں پر ہونے والی خوشگوار گفتگو اب پس منظر میں جا چکی ہے اور اس کی جگہ ٹیکسوں، حکومتی معاشی کارکردگی اور دیگر معاملات پر سوالات نے لے لی ہے۔
یہ تنقید صرف ان لوگوں کی طرف سے نہیں آ رہی جو ہر وقت شکایت کرتے رہتے ہیں (جیسا کہ میں خود)، بلکہ ان لوگوں کی جانب سے بھی سامنے آ رہی ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی سوچ بچار کو بہتر انداز میں سمجھتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ سب کو اچانک معیشت کی خراب حالت کا احساس ہو گیا ہے۔ اور بہت سے لوگوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب وزیرِ خزانہ پر تنقید کے دروازے پوری طرح کھل چکے ہیں اور ایک بار پھر ان کی رخصتی کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں (دیگر افراد کے ساتھ)۔
سچ تو یہ ہے کہ وزیرِ خزانہ کو شاید ان کے حصے سے زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ اب ان کا کوئی سیاسی حلقہ یا حمایتی گروہ باقی نہیں رہا۔ مسلم لیگ (ن) نے کافی عرصہ پہلے یہ طے کر لیا تھا کہ وہ ان میں سے نہیں ہیں حالانکہ ابتدا میں کابینہ اور سینیٹ میں ان کی شمولیت کی حمایت کی گئی تھی اور ان کا خاندان بھی پارٹی کے قریب سمجھا جاتا تھا۔ لیکن یہ خوشگوار دور مختصر ثابت ہوا۔ آہستہ آہستہ کئی اہم کمیٹیاں اسحاق ڈار کے سپرد کر دی گئیں۔ نجی محفلوں میں بھی ن لیگی رہنما ان کے زیادہ حامی نظر نہیں آتے تھے۔
اب یہ بھی واضح نہیں کہ دیگر اہم حلقے ان سے مطمئن ہیں یا نہیں۔ تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ان پر ہونے والی بعض عوامی تنقید کا تعلق اسلام آباد کے جڑواں شہر سے نہیں بلکہ ایک سابق وزیرِ خزانہ سے ہے، جنہوں نے ایک بار پھر کیو بلاک (وزارتِ خزانہ) سنبھالنے کی خواہش ترک نہیں کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل مسئلہ (اگر دونوں شہروں میں اتفاق ہو جائے) محمد اورنگزیب کو ہٹانا نہیں بلکہ یہ ہوگا کہ ان کی جگہ کون لے گا۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے شاید اسحاق ڈار کی واپسی کے خواہاں نہ ہوں اور یہ بھی یقینی نہیں کہ وزیرِ اعظم انہیں دوبارہ اس منصب پر دیکھنا چاہتے ہوں۔ اور مجھ جیسے غیر متعلقہ افراد کو یہ بھی معلوم نہیں کہ راولپنڈی کی رائے کیو بلاک کے حوالے سے کیا ہے۔ اگر وہ قابلِ قبول نہیں تو پھر متبادل کیا ہیں؟ حکمران جماعت کے پاس اپنی سینئر قیادت میں زیادہ انتخاب موجود نہیں جو بذاتِ خود اس جماعت کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے جو کبھی اچھی حکمرانی کے حوالے سے مشہور تھی۔ نوجوان قیادت میں چند ممکنہ امیدوار موجود ہیں لیکن ان کے لیے اس عہدے کے سرکاری چیلنجز اور ان کے خلاف ہونے والی سازشوں سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔
ممکن ہے کہ کسی مناسب متبادل کی عدم موجودگی موجودہ وزیرِ خزانہ کو کچھ مہلت دے دے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ تنقید اور غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی۔ اسی کے ساتھ کابینہ میں دیگر تبدیلیوں کے امکانات بھی موجود ہیں۔ لیکن ایک بار پھر ’اہل‘ متبادل افراد کے بارے میں کوئی واضح تصویر سامنے نہیں آتی۔ کیونکہ ایک حد کے بعد افراد پر توجہ مرکوز کرنا اس حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے کہ مسائل بنیادی طور پر نظام اور ساختی نوعیت کے ہیں۔ اگرچہ زیادہ مؤثر اور قابل افراد فرق ڈال سکتے ہیں لیکن وہ سیاسی عزم کی کمی کا علاج نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر جائیداد یا زراعت پر ٹیکس نہ لگانے کا ذمہ دار کسی ایک فرد کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اسی طرح ناقص انٹرنیٹ اور ٹیلی فون خدمات کی فراہمی بھی کسی ایک شخصیت کا مسئلہ نہیں۔
تاہم اس بجٹ اور ممکنہ کابینہ ردوبدل کے درمیان حکومت (اور اس کے حمایتیوں) کے لیے نتائج دینے کی فوری ضرورت مزید بڑھ جائے گی۔ ان کے اپنے حلقے بھی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑی معیشت کو ’مستحکم‘ کرنے کا عذر قبول نہیں کریں گے۔ عوام تو کافی عرصہ پہلے اس دلیل کو قبول کرنا چھوڑ چکے ہیں۔ تو کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے؟ کاش مجھے معلوم ہوتا۔
(بشکریہ: روزنامہ ڈان)