امریکہ کی جنگیں: طاقت، غرور اور ناکامی
- تحریر توقیر حسین
- بدھ 10 / جون / 2026
’جنگ اختیار کی چیز، امن مجبوری کی ضرورت‘ محض ایک دلکش جملہ نہیں بلکہ یہ واشنگٹن کی ایک بڑی غلطی کا خلاصہ ہے۔ امریکہ کے جنگی مقاصد میں سے کوئی بھی حاصل نہیں ہوا۔ ایرانی حکومت اب بھی قائم ہے، اس کے پاس جوہری مواد کا ذخیرہ بھی موجود ہے، میزائل صلاحیتیں بھی برقرار ہیں، اور خطے میں اثر و رسوخ قائم رکھنے کی طاقت بھی۔
مزید یہ کہ آبنائے ہرمز پر کامیاب کنٹرول کے ذریعے ایران نے اپنی دفاعی صلاحیت کو ایک نئی سطح تک پہنچا دیا ہے۔ ایران سے آگے دیکھیں تو روس نے نمایاں جغرافیائی سیاسی اور معاشی فوائد حاصل کیے ہیں۔ چین کی سفارتی حیثیت نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی مزید مضبوط ہوئی ہے۔ اور بہت سی درمیانی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئے اتحاد اور گروہ تشکیل دے رہی ہیں۔ حال ہی میں گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ کی سابق عہدیدار میرا ریپ ہوپر نے اس جنگ کو ’ایک سپر پاور کی خودکشی‘ قرار دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس نہ کوئی واضح منصوبہ تھا، نہ حکمتِ عملی، اور نہ ہی جنگی مقاصد کا کوئی گہرا اور سوچا سمجھا خاکہ۔ انہیں نہ صرف ایران کے بارے میں محدود معلومات حاصل ہیں بلکہ وہ موجودہ دنیا کی پیچیدگیوں کو بھی کم سمجھتے ہیں۔ گزشتہ سال وینیٹی فیئر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز نے کہا تھا کہ ٹرمپ کی شخصیت ایک شرابی شخص جیسی ہے جو خود پر کسی قسم کی پابندی محسوس نہیں کرتا اور یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ کچھ بھی کر سکتا ہے اور اسے کوئی روک نہیں سکتا۔
ٹرمپ کا طاقت کا تاثر، اور خارجہ امور کو شخصی، من مانے اور مفاد پرستانہ انداز میں چلانا بذاتِ خود خطرناک ہے۔ لیکن جب اسے امریکہ کے اس تاریخی رجحان کے ساتھ ملا دیا جائے کہ وہ مسائل کے حل کے لیے سب سے پہلے جنگ کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو ناکامی تقریباً یقینی ہو جاتی ہے۔ امریکہ کی بے پناہ فوجی اور معاشی طاقت اسے اتنی گنجائش اور تحفظ فراہم کرتی ہے کہ پالیسی سازی میں محتاط غور و فکر متاثر ہو جاتا ہے۔ غرور اور جہالت کا امتزاج ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اسی لیے امریکہ اکثر فوجی طاقت کو ہی کامیابی کے مترادف سمجھتا ہے۔
سپر پاور بننے کے بعد سے امریکہ بار بار جنگوں میں داخل ہوا اور جلد بازی میں ان سے نکلا، جس کے نتائج اسے خود اور اس کے اتحادیوں کو بھگتنا پڑے۔ ان جنگوں کی ایک وجہ اپنی فوجی طاقت پر حد سے زیادہ فخر اور اندرونی سیاسی مفاداتی گروہوں کا دباؤ تھا، جیسا کہ جیک سنائیڈر نے اپنی کتاب Myths of Empire: Domestic Politics and International Ambition میں وضاحت کی ہے۔
امریکی تاریخ کو دیکھتے ہوئے جنگ کا راستہ اختیار کرنا ان کے لیے تقریباً فطری امر بن چکا ہے۔ گویا امریکی جنگ اپنی تعریف کے مطابق ہی ’حق بجانب‘ سمجھی جاتی ہے۔ حالیہ تاریخ میں، طاقت کے بے مثال احساس اور یک قطبی دنیا کے غرور، اور پھر 11 ستمبر کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والے صدمے کے زیرِ اثر، امریکہ نے ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز کو حد سے زیادہ سادہ اور مسخ شدہ انداز میں دیکھا اور یکطرفہ اقدامات کا سہارا لیا۔ نتیجہ افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ میں ناکام جنگوں کی صورت میں نکلا۔ ان نہ ختم ہونے والی جنگوں نے بیرونِ ملک ناراضی اور اندرونِ ملک بے چینی کو جنم دیا۔
اشرافیہ کے زیرِ قیادت کمزور ہوتے نظام نے اب عوامی سیاست کے ساتھ مل کر نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اس سے سیاست پر دولت اور میڈیا کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔ امریکہ میں اب پالیسی کا محور سیاست ہے، اور سیاست کا محور طاقت۔ اسی تناظر میں امریکہ کی اسرائیل کے لیے حمایت میں اضافہ ہوا، جس سے واشنگٹن پر اسرائیل کا اثر مزید مضبوط ہوا اور امریکی پالیسی سازی کا عمل مزید کمزور پڑ گیا۔ اسرائیل کا اثر اس قدر ہے کہ ایران کے معاملے میں ٹرمپ نے احتیاط کا مشورہ دینے والے اپنے انٹیلی جنس اور فوجی سربراہان کے بجائے بنیامین نیتن یاہو کی بات کو ترجیح دی۔
ڈونلڈ ٹرمپ اب جنگ سے اس لیے نہیں نکل رہے کہ انہیں اخلاقیات یا دانشمندی کا احساس ہو گیا ہے، بلکہ اس لیے کہ جنگ کی معاشی قیمت عام امریکیوں کے لیے ناقابلِ قبول بنتی جا رہی ہے اور اس کی مقبولیت کم ہو رہی ہے۔ چنانچہ افغانستان، عراق اور ویتنام کی جنگوں کی طرح اس بار بھی امریکہ اندرونی سیاسی دباؤ کے باعث جنگ سے نکل رہا ہے۔ اسی لیے امریکی عوام شاید کبھی پوری طرح نہ جان سکیں کہ یہ جنگیں آخر ناکام کیوں ہوئیں۔ یہی طرزِ عمل مستقبل میں بھی نئی جنگوں میں داخل ہونے اور پھر ان سے نکلنے کا سبب بن سکتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے خود جن جنگوں کا آغاز کیا، ان میں سے کوئی بھی واشنگٹن کی واضح فتح پر ختم نہیں ہوئی اور نہ ہی اس کا خاتمہ کسی باوقار امن معاہدے پر ہؤا۔ صرف انخلا کے معاہدے ہوئے۔ ایران کے ساتھ بھی غالباً کسی نہ کسی نوعیت کا معاہدہ ہوگا، لیکن وہ جزوی، نامکمل اور طویل المدت ہوگا۔ شاید یہی واحد طریقہ ہے جس سے ڈونلڈ ٹرمپ ناکامی کے تاثر کو دھندلا سکیں۔
تاہم ایک احتیاطی نوٹ ضروری ہے۔ ایران کی جنگ سے بہت بڑے اور حتمی نتائج اخذ کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے۔ ممکن ہے امریکہ کی بالادستی کمزور پڑ رہی ہو لیکن عالمی سیاست اور معیشت میں اس کی غالب حیثیت، جو اب چین کے ساتھ مشترک ہے، برقرار رہے گی۔ چین اب بھی اپنے پُرامن عروج پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اور کچھ عرصے تک اپنے قریبی جغرافیائی دائرے سے باہر فوجی مداخلت سے گریز کرے گا۔
اگر امریکہ چاہے تو اب بھی عالمی بھلائی میں کردار ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس کے پاس ایسے خطرات کا مقابلہ کرنے کا جواز موجود ہے جو امریکی اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اور اس کے پاس اب بھی اتنی صلاحیت ہے کہ وہ بین الاقوامی نظام کے باقی ماندہ ڈھانچے کو درپیش چیلنجز کو روک سکے، خواہ اس کے پاس ایسا کرنے کا ارادہ ہو یا نہ ہو۔ طاقت کا استعمال بعض اوقات ضروری ہوتا ہے، جس طرح بعض جنگیں بھی ناگزیر اور جائز ہو سکتی ہیں۔ امریکہ پر مکمل انحصار کرنا شاید غلطی ہو لیکن اسے نظر انداز کرنا اس سے بھی بڑی غلطی ہوگی۔
(مصنف ایک سابق سفیر اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں ایڈجنکٹ پروفیسر ہیں)
(بشکریہ: روزنامہ ڈان)