ایک مرد جلانے والا، ایک مرد بچانے والا
- تحریر یاسر پیرزادہ
- بدھ 10 / جون / 2026
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کوئی اِس قدر سفاک کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی عورت کے چہرے پر تیزاب پھینک دے! یہ انسان نما حیوان ہمارے معاشرے میں کہاں سے آ گئے ہیں، کون اِن کی تربیت کر رہا ہے، کیسے یہ جنونی بن جاتے ہیں!
ڈاکٹر ماہ نور کوئٹہ کے سول اسپتال کے سرجری وارڈ میں اپنی ڈیوٹی پر موجود تھیں جب اسی ہسپتال کا ایک لفٹ آپریٹر، ہمایوں شاہ، وہاں آتا ہے اور اچانک ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینک دیتا ہے۔ جب ڈاکٹر ماہ نور چیختی چلاتی ہوئی کمرے سے باہر بھاگتی ہیں تو اُسی اسپتال کا ایک زیر تربیت ملازم، عبدالرزاق، جان کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھتا ہے اور اپنا ایپرن اتار کر خاتون ڈاکٹر کو ڈھانپ دیتا ہے تاکہ تیزاب کے اثرات کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے اور اُس کی حُرمت قائم رہے۔ اِس کوشش میں عبدالرزاق خود بھی زخمی ہو جاتا ہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور کو کراچی کے آغا خان اسپتال کے برن سینٹر میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اُن کا علاج جاری ہے۔ عبدالرزاق کے لیے حکومت بلوچستان نے سول ایوارڈ کا اعلان کیا ہے جبکہ ملزم ہمایوں شاہ کو پولیس مقابلے میں مار دیا گیا ہے۔
ہمارے ملک کے بھی ففٹی شیڈز آف گرے ہیں۔ ایک مرد جلانے والا، ایک مرد بچانے والا۔ ایک مرد عورت کے منہ پر تیزاب پھینکتا ہے، دوسرا مرد اپنی جان پر کھیل کر اسے بچاتا ہے۔ جان بچانے والے کو حکومت تمغے سے نوازتی ہے اور ملزم کو آدھے گھنٹے میں تلاش کر کے پولیس مقابلے میں پار کر دیا جاتا ہے۔ بندہ کس بات کی تعریف کرے اور کس اقدام کی مذمت! ایک عورت نے اپنی پوری زندگی کتابوں کے نام کر دی، میڈیکل کالج کی راتیں جاگ کر گزاریں، والدین نے خون پسینہ ایک کر کے اسے ڈاکٹر بنایا اور ایک جاہل مرد کو یہ حق مل گیا کہ وہ اس کی پوری زندگی کو ایک بوتل میں بند تیزاب کے ذریعے جہنم بنا دے۔ وہ تو شکر ہے میڈیکل سائنس کا کہ ڈاکٹر ماہ نور کی جان بچ گئی اور وہ ڈیڑھ دو ماہ میں صحت یاب بھی ہو جائیں گی مگر میں نے بطور کرائم رپورٹر میو اسپتال، لاہور کا برن سینٹر دیکھا ہوا ہے اور عورتوں کو جھلسے ہوئے چہرے مجھے یاد ہیں، جس اذیت، کرب اور تکلیف میں وہ ہوتی تھیں اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تیزاب پھینکنے کا عمل دراصل مرد کی اُس ذہنی پستی کو ظاہر کرتا ہے جہاں وہ کسی عورت کی ’ناں‘ کو برداشت نہیں کر پاتا یا جہاں وہ عورت کو اپنے سے برتر مقام پر دیکھ کر حسد کی آگ میں جلنے لگتا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن رو رہی ہے کہ سیکیورٹی ناقص تھی، انتظامیہ غافل تھی، لیکن سچ یہ ہے کہ سیکیورٹی کا مسئلہ بعد میں آتا ہے، پہلے ہمارے ذہنوں کی وہ سڑاند آتی ہے جو ایسے مجرموں کو جنم دیتی ہے۔
اب آتے ہیں کہانی کے اس حصے کی طرف جہاں پولیس نے ’پھرتی‘ کا عالمی ریکارڈ توڑ کر ملزم کو نہ صرف بس میں فرار ہوتے ہوئے جا لیا بلکہ موقع پر ’انصاف‘ کرتے ہوئے اسے ہلاک بھی کر دیا۔ ملزم کا مارا جانا بظاہر ایک فوری اور سستا انصاف نظر آتا ہے، سوشل میڈیا پر لوگ تالیاں بجا رہے ہیں کہ ”اچھا ہوا، کتے کی موت مارا گیا، عدالتوں کے چکر کاٹنے سے بہتر ہے کہ وہیں حساب برابر ہو گیا ’یہ انصاف نہیں ہے، یہ قانون کی ناکامی کا اعتراف ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا عدالتی اور تفتیشی نظام اتنا بوسیدہ ہو چکا ہے کہ خود ریاست کو بھی معلوم ہے کہ اگر یہ مجرم عدالت گیا تو شاید برسوں تک مقدمہ لٹکا رہے گا، یا کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے وہ بچ نکلے گا، اس لیے اسے سڑک پر ہی ڈھیر کر دو۔ اس درندے کو زندہ گرفتار کیا جانا چاہیے تھا تاکہ اسے عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا اور تفتیش کی جاتی کہ اس نے یہ تیزاب کہاں سے خریدا، اس کے پیچھے کیا محرکات تھے، کیا اسپتال میں اسے کسی کی پشت پناہی حاصل تھی؟ جب وہ قانون کے مطابق عمر قید یا سزائے موت پاتا اور میڈیا پر اس کی تذلیل ہوتی تو وہ دوسرے مجرموں کے لیے نشانِ عبرت بنتا۔ اب کیا ہوا؟ وہ تو مارا گیا مگر وہ سوالات وہیں کے وہیں رہ گئے جن کا جواب ملنا ضروری تھا۔
ہمارے ہاں ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ چونکہ قانون کمزور ہے اِس لیے جرائم ہوتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ تیزاب پھینکنے والوں کے خلاف سخت قانون بناؤ جبکہ پاکستان میں تیزاب کے جرائم کے خلاف انتہائی سخت قوانین پہلے سے موجود ہیں جن کے تحت اگر کوئی شخص کسی پر تیزاب پھینکتا ہے تو اس کی کم سے کم سزا 14 سال قید بامشقت ہے اور یہ سزا عمر قید تک جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ کم از کم دس لاکھ روپے جرمانہ بھی ہے جو مجرم سے وصول کر کے متاثرہ خاتون کے علاج پر لگایا جائے گا۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہ جرم ’ناقابلِ راضی نامہ‘ ہے، یعنی مجرم کا باپ بھی آ جائے تو وہ لڑکی کے خاندان کو پیسے دے کر یا دباؤ ڈال کر صلح نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ یہ جرائم اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تحت دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں جن کی سماعت انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں ہوتی ہے۔ پھر 2018 میں مزید جامع بل پاس کیے گئے جن کے تحت متاثرین کا مفت علاج ریاست کی ذمہ داری قرار پایا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر قانون اتنا ہی سخت ہے تو پھر یہ جرائم رک کیوں نہیں رہے؟ اس کا جواب اُس اصول میں ہے کہ جرائم سخت قوانین بنانے سے نہیں بلکہ اُن پر عمل کرنے سے کم ہوتے ہیں۔ تیزاب کی خرید و فروخت پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ آپ بازار جائیں، چند روپوں میں آپ کو تیزاب کی وہ بوتل مل جائے گی جو کسی کی زندگی تباہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ جب تک ہر تھانے دار اور دکان دار کو یہ معلوم نہیں ہو گا کہ تیزاب بیچنے کی سزا کیا ہے، تب تک یہ بوتلیں اسی طرح سرِعام بکتی رہیں گی اور چہرے جھلستے رہیں گے۔
ایک منٹ کے لیے فرض کر لیں کہ ہم نے قانون بھی سخت کر دیا، تفتیش بھی مثالی کر دی، تیزاب کی دکانیں بھی بند کر دیں۔ کیا پھر یہ جرائم ختم ہو جائیں گے؟ نہیں، کیونکہ ہم اس اصل بیماری کا علاج نہیں کر رہے جو ہمارے اندر چھپی ہوئی ہے۔ وہ بیماری ہے ’مردانہ کمزوری‘ ۔ جن مردوں کو لگا ہے کہ یہاں غلطی سے مردانہ ذہنیت کی بجائے مردانہ کمزوری لکھا گیا ہے وہ یہ جان لیں کہ ایسی بیمار ذہنیت کی عکاسی کے لیے یہ یہی الفاظ مناسب ہیں۔ ہم مرد، چاہے آزاد خیال ہوں یا قدامت پسند، مذہبی رجحان رکھتے ہوں یا غیر مذہبی، جینز پہنتے ہوں یا شلوار قمیض، سٹینفارڈ سے پڑھے ہوں یا مدرسے کے فارغ التحصیل ہوں، عورت کے معاملے میں ہمارے خیالات ’مردانہ‘ ہی رہیں گے۔ انگریزی میں کہتے ہیں Men will always be men
آخری تجزیے میں مرد، عورت کے کردار کا ’فیصلہ‘ اُس کے لباس، اُس کی آزادی اور اُس کی بیباک طبیعت کی بنیاد پر ہی کرے گا۔ ایک مرد اگر فیشن ایبل لباس پہن کر، کسی ہیرو کی طرح کالا چشمہ لگاتے ہوئے ایک مخصوص انداز میں لائٹر سے سگریٹ جلائے اور دبنگ انداز میں مدمقابل کو مخاطب کرے تو لوگ کہیں کہ واہ کیا گھبرو جوان ہے۔ لیکن یہی سب کچھ اگر ایک عورت کرے تو اسے ’ر‘ کے القابات سننے کو ملیں گے۔ ہمایوں شاہ کا ’علاج‘ تو پولیس مقابلے کے ذریعے کر دیا گیا لیکن اِن مردانہ کمزوری کے حامل مردوں کا علاج کیسے ہو گا، کوئی حکیم لقمان یہ بتا دے!
(بشکریہ: ہم سب لاہور)