آزاد کشمیر میں ہڑتال اور بداعتمادی کی فضا
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 10 / جون / 2026
آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی اپیل پر شروع ہونے والی ہڑتال کی وجہ سے زندگی دو روز سے معطل ہے اور ہزاروں مظاہرین راولا کوٹ کے قرب میں جمع ہیں لیکن حکومت انہیں دارالحکومت مظفر آباد پہنچنے سے روکنے کے انتظامات کررہی ہے۔ شہروں میں کرفیو کی صورت حال ہے اور مساجد سے اعلان کرایا جارہا ہے کہ لوگ گھروں میں رہیں۔ پورے خطے میں بداعتمادی اور تصادم کی تکلیف دہ صورت حال موجود ہے۔
اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی کے مصداق اس معاملہ میں بھی مظاہرین اور حکومت پر یکساں ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ حکومت نے نہایت عجلت میں دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگا دی اور اس کے لیڈروں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف بغاوت کے مقدمات چلانے کا اقدام شروع کیا گیا ہے۔ دوسری طرف جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس معاملہ پر سیاسی یا قانونی راستہ اختیار کرنے کی بجائے 9 جون سے عام ہڑتال کرنے اور ایک بڑے جلوس کی صورت میں دارالحکومت جمع ہونے کا اعلان کیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اعلان کے مطابق یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت مہاجر کشمیریوں کی بارہ نشستوں کے بارے میں اس کا مطالبہ نہیں مان لیتی۔
آزاد کشمیر اسمبلی میں 12 نشستوں کا معاملہ یوں تنازعہ کا سبب بنا ہے کہ یہ سیٹیں ایسے لوگوں کے ووٹوں سے پر کی جاتی ہیں جو مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے آزاد کشمیر آئے تھے لیکن ریاست میں مناسب سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے انہیں پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد کیاگیا تھا۔ اب وہ مستقل طور سے وہاں رہتے ہیں اور بہت سی صورتوں میں پاکستان کے شہریوں کی تمام سہولتیں بھی حاصل کرتے ہیں لیکن انہیں آزاد کشمیر کی سیاست پر اثر انداز ہونے کا سیاسی حق حاصل ہے۔ ان کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی کی کل 53 نشستوں میں سے 12 مختص کی گئی ہیں۔ اب ایکشن کمیٹی احتجاج اور مظاہروں کے ذریعے ان نشستوں کو ختم کرانا چاہتی ہے۔ اس کامطالبہ ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی کو ریاست میں رہنے والے شہریوں کے ووٹوں سے منتخب ہونا چاہئے۔ ریاست سے باہر رہنے والے خواہ کشمیری مہاجر ہی کیوں نہ ہوں ، انہیں یہاں کی سیاست میں دخیل ہونے کا حق نہیں ہونا چاہئے۔
کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں پر منتخب ہونے والے نمائندوں کو متعدد بار کشمیر میں حکومت گرانے اور وزرائے اعظم تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے جبکہ مقامی وسائل کے بے دریغ ضیاع میں ان مہاجرین کا نام استعمال کیا جاتا ہے۔ ان حلقوں کو حکومت پاکستان آزاد کشمیر میں عدم استحکام کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اس لیے ان حلقوں کو فوری ختم کیا جائے اور خطے کے اندر رہائش پزیر مہاجرین کو اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔ واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیے 27 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے، اس لیے 12 نشستیں سیاسی جوڑ توڑ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ مہاجر کشمیریوں کا آزاد کشمیر اسمبلی میں سیاسی کردار اور موجودگی مسئلہ کشمیر کی روح کے مطابق ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ریاست سے باہر رہنے والے کشمیریوں کو کوئی سیاسی حق حاصل نہیں ہے تو اس سے پاکستان کا مقبوضہ کشمیر میں ریفرنڈم کا مؤقف سیاسی و سفارتی طور سے کمزور ہو گا۔
اس دوران آزاد کشمیر کے صدر کی طرف سے بھیجے گئے ریفرنس پر رائے دیتے ہوئے آزاد کشمیر سپریم کورٹ طے کرچکی ہے کہ ان بارہ نشستوں کے مستقبل کا فیصلہ آئین میں ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ عدالت کی رائے میں یہ حق آئیندہ منتخب ہونے والی اسمبلی کو حاصل ہوگا کہ وہ آئینی ترمیم کے ذریعے یہ انتظام تبدیل کردے۔ البتہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نہ عدالتی فیصلہ مانتی ہے اور نہ ہی وہ سیاسی طور سے راہ ہموار کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ وہ زور ذبردستی کاروبار بند کرانے اور چند ہزار لوگوں کے ذریعے دارالحکومت میں دھرنا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ، اس لیے حکومت کو اس کی ہر بات ماننی پڑے گی۔ گزشتہ سال ایسے ہی ایک احتجاج کے بعد ہونے والے معاہدے میں آزاد کشمیر میں سستا آٹا اور سستی بجلی دینے کے مطالبے مان لیے گئے تھے۔
البتہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجر کشمیریوں کی نمائیندگی کا معاملہ زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہے۔ اس کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ آزاد کشمیر کے معاملات اگر واقعی کسی جمہوری نظام کے تحت چلائے جائیں گے تو اہم آئینی معاملات کا فیصلہ احتجاج، ہڑتال یا دھرنوں سے نہیں ہوسکتا۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی بھی گروہ اپنی اسٹریٹ پاور کی بنیاد پر من مانی کرنے کے لیے میدان میں نکل آئے اور اس کی بات مان لی جائے۔ اس طرح انارکی اور لاقانونیت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ ایکشن کمیٹی کا مطالبہ خواہ کتنا ہی اصولی اور جائز کیوں نہ ہو، لیکن احتجاج اور کاروبار بند کرنے کی دھمکی کے ذریعے اسے پورا کرانے کا طریقہ بہر طور قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ اس پر مستزاد اس وقت آزاد کشمیر سے تشدد کی جو اطلاعات سامنے آئی ہیں، ان میں ایکشن کمیٹی کے پرجوش کارکنوں کا بھی اتنی ہی حصہ ہے جتنا شاید انتظامیہ کا ہوسکتا ہے۔ اس وقت تک مختلف حصوں میں ہونے والی جھڑپوں میں ایک درجن کے قریب لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں چار پولیس والے بھی شامل ہیں۔ مبینہ طور پر ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے پولیس پر فائرنگ کی تھی۔ کسی بھی احتجاجی گروہ کی طرف سے تشدد کا مظاہرہ حالات کو بہتر بنانے کی بجائے خرابی کی طرف لے جائے گا۔ ایکشن کمیٹی اگر واقعی کشمیر ی عوام اور کشمیر کی آزادی کی کاز کے لیے کام کررہی ہے تو اسے اس قسم کے کارکنوں کی سرپرستی سے گریز کرنا چاہئے۔
اسی طرح جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے لیڈروں نے انتہائی اشتعال انگیز اور پاکستان دشمن تقاریر اور بے بنیاد الزامات کا راستہ اختیار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس گروہ کی حمایت کرنے والے اس صورت حال کا مقابلہ بھارت کے مقبوضہ کشمیر سے کرتے ہوئے پاکستانی فوج پر الزام تراشی کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کے حقوق کی جد و جہد کی ہے اور حکومت پاکستان کی کوششوں ہی کی وجہ سے اس وقت عالمی سطح پر کشمیر کا معاملہ زندہ ہے۔ اس پر کشمیر کی نمائیندگی کر نے والے کسی گروہ کو بھی پاکستان کو بھارت جیسا ثابت کرکے سیاسی دکان چمکانے کی افسوسناک کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ اس سے پاکستان سے زیادہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا۔
پاکستان کی حکومت اور سیاسی پارٹیوں سے یہ غلطی ضرور ہوئی ہے کہ کشمیر کا معاملہ بھارت سے علیحدہ ہوجانے والے علاقے کے عوام کے سپرد کرنے کی بجائے، انہوں نے سرپرست اعلیٰ بن کر انہیں اپنا شہری اور شراکت دار ماننا شروع کردیا۔ شروع سے آزاد کشمیر کو علیحدہ خود مختار ملک کے طور پر تسلیم کرکے وہاں کی حکومت کو اخلاقی، سفارتی اور عسکری مدد فراہم کرنی چاہئے تھی تاکہ کشمیری خود اپنے معاملات کے نگہبان ہوتے اور خود ہی عالمی سطح پر اپنے محکوم کشمیری بھائیوں کا مقدمہ لڑتے۔ پاکستان کی سیاسی پارٹیوں نے اس کے برعکس آزاد کشمیر کو سیاسی اکھاڑہ بنا لیا اور وہاں باقاعدہ انتخابات میں حصہ لینا شروع کردیا۔ اس سے سیاسی بداعتمادی میں اضافہ ہؤا ہے جو آج ایکشن کمیٹی جیسے گروہوں کی صورت میں دکھائی دینے لگا ہے۔
اس مشکل سے نکلنے کے لیے فریقین کو مل بیٹھ کر معاملات طے کرنے چاہئیں۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی ایک آئینی سوال پر ہڑتال کرنے کی بجائے قانونی و سیاسی راستہ اختیار کرے اور اعتماد سازی کے لیے آزاد کشمیر حکومت جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عائد کی گئی پابندی ختم کرے اور مذاکرات کا آغاز کرے۔ ایکشن کمیٹی کو بھی اپنی عوامی قبولیت کا دستاویزی ثبوت فراہم کرنے کے لیے سیاسی جماعت کے طور رجسٹریشن کرانی چاہئے تاکہ انتخابات میں وہ اپنی سیاسی حیثت ثابت کرسکے۔
فریقین نے اگر ضد ختم کرکے تصادم سے گریز کا راستہ اختیار نہ کیا تو اس سے اسمبلی میں نمائیندگی کا معاملہ تو شاید طے نہیں ہوسکے گا لیکن آزاد کشمیر کی تاریخ میں ایک نئے خونیں باب کا اضافہ ضرور ہوسکتا ہے۔ حکومت کے ساتھ ایکشن کمیٹی پر بھی اشتعال انگیزی روکنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔