جنگ بندی بے معنی ہوچکی ہے: ایران
ایران کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کے تازہ حملوں نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کو ’عملاً بے معنی‘ بنا دیا ہے۔ ایک بیان میں وزارت نے امریکہ کی جانب سے کیے گئے ’غیر قانونی اور مجرمانہ حملوں‘ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کشیدگی میں اضافے کے نتائج کی ذمہ داری امریکی قیادت پر عائد ہو گی۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ اس نے بدھ کے روز جنوبی ایران میں فوجی، نگرانی اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے ’حق دفاع‘ کے تحت حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کی ہے۔ ادھر ایران نے بھی حملے کیے جن میں بحرین، کویت اور اردن میں پورے خطے میں پھیلے امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔
دریں اثنا پالاؤ کے پرچم بردار سیٹّی بیلو نامی آئل ٹینکر پر امریکی حملے میں تین انڈین ملاح ہلاک ہو گئے ہیں جسے انڈیا کے وزیرِ جہاز رانی نے ’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیا ہے۔ بدھ کے روز امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ اس نے آئل ٹینکر کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ اس ٹینکر پر آبنائے ہرمز کی بحری گزرگاہ کی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
انڈیا کی حکومت نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ تین انڈین ملاح لاپتہ ہیں اور 21 انڈین عملے کے ارکان کو بچا لیا گیا ہے۔ ادھر عمان میں انڈین سفارت خانے نے کہا ہے کہ وہ ایک علیحدہ واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے جس میں عمان کی بندرگاہ کے قریب ایک جہاز شامل تھا۔ یہ واقعہ جمعرات کی صبح پیش آیا۔ یہ اس ہفتے عمان کے ساحل کے قریب کام کرنے والے جہازوں پر حملوں کی سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔
بدھ کے روز مسلسل دوسرے دن دونوں امریکہ و ایران کے درمیان حملوں کا تبادلہ ہوا اور دونوں نے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ حملوں میں اس اضافے کے باوجود ایران کے تین ذرائع نے آج صبح روئٹرز کو بتایا کہ سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں اور مذاکرات منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی کے گرد مرکوز ہیں۔
دریں اثنا پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لائیں اور جنگ بندی کی طرف بڑھیں۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ خطے میں حالیہ پیش رفت باعثِ تشویش ہے اور پاکستان سمجھتا ہے کہ دشمنی پر مبنی اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان بدستور سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے مؤقف پر قائم ہے۔