اردو کے سیرت لٹریچر میں اہم اضافہ
- تحریر خورشید ندیم
- جمعرات 11 / جون / 2026
نبیﷺ کی سفارت کاری کیسی تھی؟ آپﷺ کے ہدایت یافتہ خلفانے کیسے آپ کے نقوشِ پا کی پیروی کی؟اگر آپ کو ان سوالات سے دلچسپی ہے تو میں ایک ایسی کتاب کا تعارف آپ سے کرانا چاہوں گا جو ان سوالات کے جواب بلاواسطہ و تبصرہ آپ کو فراہم کر سکتی ہے۔
یہ اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ اور خلفائے راشدین کے خطوط، معاہدوں اور وثیقہ جات کا مجموعہ ہے۔ ’الوثائق السیاسیہ‘ کے عنوان سے انہیں بیسویں صدی کی نادرِ روزگار شخصیت ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم نے مرتب کیا ہے۔ یہ ابتدائی صورت میں ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ تھا جو فرانسیسی زبان میں ہے۔ پھر انہوں نے اس کو کتابی شکل میں عربی زبان میں شائع کرایا۔ اس کا عربی متن پہلی مرتبہ کم وبیش ستر برس پہلے شائع ہوا۔ اس کے بعد اس کے آٹھ ایڈیشن شائع ہو چکے۔ پانچویں ایڈیشن تک وہ اس میں اضافہ کر تے رہے۔ طویل عرصہ پہلے شائع ہو نے والی اس کتاب کا آج اس لیے تذکرہ کیا جا رہا ہے کہ اتنے طویل عرصہ بعد اب اس کا پہلا مستند اور مکمل اردو ترجمہ شائع ہوا ہے۔
یہ سعادت ڈاکٹر سید عزیز الرحمن صاحب کے حصے میں آئی۔ اس سے پہلے 1960میں اس کا پہلا اردو ترجمہ شائع ہوا۔ یہ پہلے ایڈیشن کا ترجمہ تھا۔ پہلے ایڈیشن کے بعد ڈاکٹر صاحب نے اس میں جو اضافے کیے، اس سے اس کی ضخامت دُگنا ہو گئی۔ ڈاکٹر عزیز الرحمن صاحب کا تاثر ہے کہ اس ترجمے میں بھی کئی کمزوریاں تھیں۔ جیسے بعض عبارات کا ترجمہ ادھورا رہ گیا۔ اس لیے اردو میں ایک مکمل اور قابلِ بھروسہ ترجمے کی ضرورت موجود تھی۔ سید عزیز الرحمن صاحب نے اس ضرورت کو پورا کر دیا۔ سیرتِ پاک برسوں سے ان کی تحقیق وجستجو کا مرکز ہے اور اس حوالے سے ان کی کئی تحقیقی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ سیرت کے باب میں ان کی یہ خدمت غیر معمولی ہے۔
ڈاکٹر حمیداللہ،اگر میں یہ کہوں کہ دورِ جدید میں ہماری روایت میں اپنی طرز کے واحد آدمی تھے تو شاید اس میں کوئی مبالغہ نہ ہو۔ اگر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ تحقیق کس کو کہتے ہیں وہ ان کا تتبع کرے۔ وہ جامعہ عثمانیہ سے وابستہ رہے اور پھر عمر کا ایک بڑا حصہ پیرس میں گزارا۔ جہاں وہ اپنی روایت سے واقف تھے، وہاں تحقیق کی مغربی روایت کو بھی جانتے تھے۔ انہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ مغربی جامعات سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ اردو دان طبقے کے لیے ان کا تعارف ’خطباتِ بہاولپور‘ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا اس سے اعلیٰ علمی کام دوسری زبانوں میں ہے۔ مثال کے طور پر انہیں پہلی مرتبہ فرانسیسی میں قرآن کے ترجمے کی سعادت نصیب ہوئی۔ ’صحیفہ ہمام ابن منبہ‘ کی دریافت ان کی تحقیق کا ایک اور مظہر ہے جو حدیث کے اولین مجموعوں میں شمار ہوتا ہے۔ ’مجموعۃ الوثائق السیاسیہ‘ بھی ان کا ایسا ہی ایک علمی کارنامہ ہے۔ اس میں انہوں نے عہدِ نبوی سے عہدِ خلافتِ راشدہ کے اختتام تک، تمام وہ دستاویزات مرتب کر دیں جو خطوط اور معاہدوں کی صورت میں موجود تھیں۔
یہ معلومات کا ایک غیر معمولی خزانہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کے مقدمے میں بتایا ہے کہ اصلی حالت میں دو یا تین خطوط دستیاب ہیں۔ ایک رسالت مآبﷺ کا مقوقس کے نام خط۔ اسے ایک مسیحی فرانسیسی مستشرق بار تیلمی نے مصر سے دریافت کیا۔ دوسرا بھی نبیﷺ کا ایک مکتوب ہے جو منذر بن ساویٰ کو لکھا گیا۔ اس کا فوٹو جرمن مستشرق فلایشر نے شائع کیا۔ (ہماری بے توفیقی دیکھیے کہ جو کام ہمارے کرنے کا تھا، مستشرقین نے کیا) ڈاکٹر حمید اللہ بتاتے ہیں کہ اس طرح کے خطوط اور دستاویزات ایک صندوق میں بند حضرت عمرؓ کے پا س محفوظ تھے۔ 83 ہجری میں یہ دستاویزات خانہ جنگی کے ایک واقعہ میں نذرِ آتش ہو گئیں جو خلیفہ عبدالملک بن مروان اور ان کے ایک باغی گروہ کے درمیان پیش آیا۔ اس گروہ کی قیادت عبدالرحمن بن محمد اشعث کر رہے تھے۔ تاہم قدیم مؤرخین نے انہیں نقل کیا ہے جن کی مدد سے ڈاکٹر حمیداللہ نے ا نہیں یکجا کر دیا۔
نبیﷺ اور خلفائے راشدین کی طرف ان دستاویزات کی نسبت کتنی مبنی بر صحت ہے؟ ڈاکٹر حمیداللہ نے اس سوال کو بھی مقدمے میں موضوع بنایا ہے۔ ان کی رائے کا خلاصہ یہ ہے کہ اس میں ہر طرح کی روایات شامل ہیں۔ وہ بھی جن پر اعتبار کیا جا سکتا ہے اور وہ بھی جو صحت کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ مثال کے طور پر ایسی دستاویزات کا سب سے بڑا ماخذ ’طبقات ابن سعد‘ ہے۔ اس کے مؤلف کے بارے میں ان کی رائے ہے کہ روایات جمع کرتے وقت، انہوں نے ان کی صحت کا زیادہ خیال نہیں رکھا۔ ڈاکٹر صاحب بعض روایات کو موضوع بھی قرار دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں نجاشی کے نام آپﷺ سے منسوب وہ خط جس میں آپﷺ کا نکاح سیدہ ام حبیبہؓ سے کروانے کی بات کی گئی ہے یا وہ مکتوب جس میں مسلمان مہاجرین کو مدینہ بھیجنے کے لیے کہا گیا، دونوں خود ساختہ ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے محققانہ دیانت کے ساتھ، روایات کے باب میں اپنی رائے کا اظہار کر دیا۔ اس کمزوری کے باوصف جس سے حدیث یا تاریخ کی کوئی کتاب خالی نہیں، یہ عہدِ نبوی اور دورِ خلافتِ راشدہ کی تفہیم میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ اس سے ایک طرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبیﷺ کی سفارت کاری کیسی تھی اور دوسرا یہ کہ خلفائے راشدین نے کیسے آپﷺ کی پیروی کی۔ مثال کے طور پر نجران کے مسیحیوں کے ساتھ جو معاہدہ نبیﷺ نے کیا، چاروں خلفا نے اسے باقی رکھا اور اس کی تجدید کی۔ جب سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے بعد وہ سیدنا علیؓ کے پاس آئے تو آپ نے ان کو ایک تحریر لکھ کر دی اور اس میں لکھا: ’تم میرے پاس اللہ کے نبیﷺ کا تحریری امان نامہ لے کر آئے۔ اس میں تمہاری جان ومال کی ذمہ داری لی گئی ہے۔ میں محمدﷺ، ابوبکرؓ اور عمرؓکی شرائط کا ایفا کرتا ہوں‘۔
اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ نبیﷺ اور صحابہ کرام کا ایک مشن تھا اور وہ دینی تھا۔ نبیﷺ اپنے مخاطبین پر حجت قائم کرنے آئے تھے اور صحابہ نے بھی اسی جذبے سے سیاسی نظام کو چلایا۔ ان معاہدوں سے نبیﷺ کی وہ رحمت صاف جھلکتی دکھائی دیتی ہے جو عالمگیر ہے۔ سید نا سلمان فارسیؓ کے خاندان اور اعزہ کو جس طرح مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی وہ بتاتی ہے کہ مسلم تہذیب میں مذہبی آزادی کی کیا اہمیت ہے۔ ان سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کا اسلوبِ سیاست کیا تھا اور کیسے اللہ کی رضا اور مخلوق کے حقوق کا احترام ان کے پیشِ نظر تھا۔ اس سے یہ بھی جانا جا سکتا ہے کہ ان کے باہمی تعلقات محبت سے مملو تھے۔ بطور خلیفہ، عُمال کے نام سیدنا عثمانؓ کا پہلا خط آج کے ٹیکس وصول کرنے والوں کے لیے بھی نصیحت ہے۔ فرمایا: ’اللہ نے حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ عوام کے محافظ بنیں، صرف ٹیکس وصول کرنے والے نہ بنیں۔ اس امت کے ابتدائی لوگ محافظ پیدا کیے گئے تھے نہ کہ (ٹیکس) وصول کرنے والے‘۔
یہ کتاب اردو کے دینی ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ ڈاکٹر سید عزیز الرحمن نے جس احتیاط اور محبت کے ساتھ اس کا ترجمہ کیا ہے وہ اس پر تحسین کے مستحق ہیں۔ یہ اردو زبان کی بھی بڑی خدمت ہے۔ سیرت کا کوئی سنجیدہ طالب علم اس کتاب سے مستغنی نہیں ہو سکتا۔ دعا ہے کہ اللہ کے حضور میں بھی مترجم کی یہ خدمت شرفِ قبولیت سے نوازی جائے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)