عدم برداشت کا رویہ
- تحریر نسیم شاہد
- جمعرات 11 / جون / 2026
ایک دوست بتا رہے تھے کہ میں موٹروے کے راستے لاہور سے ملتان آ رہا تھا۔ ایک قیام و ط عام پر رکنے کے لئے میں نے لائن تبدیل کی، اپنی لائن میں چلتے ہوئے نیچے کی طرف گاڑی موڑی تو پیچھے سے ایک گاڑی والے نے بے تحاشہ ہارن دینے شروع کر دیئے۔
صورتِ حال ایسی تھی کہ اسے راستہ بھی نہیں دیا جا سکتا تھا۔ اندر داخل ہو کر جب میں گاڑی پارک کر رہا تھا تو وہی گاڑی میری کار کے ساتھ آکر پارک ہوئی، میں بس یہ پوچھنے کی غلطی کر بیٹھا کہ جب میں قیام و ط عام ایریا میں مڑ رہا تھا تو آپ ہارن کیوں دے رہے تھے؟ یہ سنتے ہی وہ نوجوان آپے سے باہر ہو گیا۔حالانکہ اس کے ساتھ فیملی بھی تھی، غالباً ماں باپ موجود تھے۔ اس نے مجھے بلاوجہ دوچار گالیاں دیں اور مارنے کو لپکا، میں نے خود کو بڑی مشکل سے بچایا۔ وہ مسلسل کہہ رہا تھاجب میں نے ہارن دیئے تو تم نے گاڑی سائیڈ پر کیوں نہیں کی تم بدمعاش بنتے ہو۔ وہ میری بات ہی نہیں سن رہا تھا۔ خیر وہاں لوگ اکٹھے ہو گئے اور اسے پکڑ کر دور لے گئے۔ میں حیران تھا کہ اس کے والدین گاڑی میں بیٹھے ہیں اور ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ میں نے کہا شکر ہے تم بچ گئے ہو۔ یہ زمانہ نہیں کہ کسی کو اس کی غلطی کا احساس دلایا جائے یا اس کے ساتھ دلیل کی کوئی بات کی جائے۔ میں نے اسے اپنا ایک شعر سنایا:
سنبھل کر بات کرنا یہ عجب لوگوں کی بستی ہے
ذرا سی بات پر اس معاملے میں سر اُترتے ہیں
روزانہ کوئی ایسا واقعہ سامنے آجاتا ہے جو پاکستانی معاشرے میں بڑھتے ہوئے عوامی برداشت کے کلچر کی نشاندہی کرتا ہے ۔یہ ہمیں آخر کیا ہو گیا ہے اور بات کرنے پر نافذ کرنے کی عادت ہم نے کیسے بنا لی ہے۔ جب سے رحیم یارخان میں داماد کے گاڑی تلے کچلے جانے والے سسر کی ویڈیو دیکھی ہے، عجیب قسم کی کیفیت ہے۔ یہ اتنا خوبصورت رشتہ اور اس قدر خونخواری۔ سسر اگر گھر آئے داماد کی گاڑی کے آگے کھڑا ہے تو لازماً یہ چاہتا ہوگا وہ روٹھ کر نہ جائے، ڈیڑھ سال جس کی بیٹی میکے بیٹھی ہوئی ہو، اس باپ کی خواہش تو یہی ہوگی کہ وہ اپنے گھر واپس چلی جائے۔بس چھوٹا موٹا اختلاف ہوگا جسے دور کیا جا سکتا تھا اورپھر ایسی کون سی بات تھی کہ اگر سسر جوباپ کے برابر ہوتا ہے، گاڑی کے آگے کھڑا ہو گیا ہے تو اسے اتر کر قائل کرنے کی بجائے گاڑی سے کچل دیا جائے اور کئی گز تک اسے اسی حالت میں گھسیٹا جاتا رہے۔ اس میں عدم برداشت اور اپنے اندر کے وحشیانہ غصے کی کئی صورتیں نکلتی ہیں۔ معاشرتی وجود میں سرایت کر جانے والا یہ وہ زہر ہے جس نے رشتوں ناتوں اور ہمدردی کے جذبات کو بھی نگل لیا ہے۔
ملتان کے پروفیسر محی الدین پیرزادہ کا قصہ تو آپ سن ہی چکے ہیں، جنہیں ہمدردی کرنے کی پاداش میں گولی کا نشانہ بنا دیا گیا۔ لاہور کے ایک دوست ذوالفقار علی نے اپنے مشاہدے پر مبنی ایک اور تھسیز بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں لاہور اس وقت بدترین طبقاتی تقسیم کی زد میں ہے۔ ایک طرف پوش علاقے ہیں اور دوسری طرف غریبوں کی بستیاں۔ دونوں میں ترقی کا فرق ہی نہیں بلکہ ذہنی اور نفسیاتی فرق بھی بہت گہرا ہو چکا ہے۔ بڑی کالونیوں میں رہنے والوں کی ذہنی کیفیت اس شخص جیسی بن گئی ہے جو بڑی گاڑی پر بیٹھ کے باقی سب لوگوں کو کیڑے مکوڑے سمجھتا ہے۔ دوسری طرف غریب طبقوں میں بھی بڑی گاڑی والوں اور عالیشان گھروں میں رہنے والوں سے نفرت بڑھ رہی ہے۔ آئے روز ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جب کہیں امیر زادوں نے کسی سڑک پر صرف رکشہ یا ریڑھی گاڑی کے آگے لانے پر تشدد کیا ہوتا ہے۔ جواب میں اگر گرمی، غربت اور پریشانی کا ذرا وہ شخص کچھ کر بیٹھے تو الٹا اس کی مزید شامت آجاتی ہے۔ میں نے اسے ایک بات بتائی جو میں نے پروفیسر نعیم اشرف سے سنی تھی۔ انہوں نے کہا تھا یہ وہ زمانہ ہے جس میں آپ کو کسی ایسے شخص سے نہیں الجھنا چاہیے جو غربت اور تنگدستی میں اپنا خاندان پال رہا ہو۔ وہ اس قدر پریشان ہوتا ہے کہ ذرا سی چنگاری اسے شعلہ بنا دیتی ہے۔ پھر وہ نتائج کی پروا کئے بغیر وہ سب کچھ کرگزرتا ہے جو عام حالات میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔
پروفیسر نعیم اشرف نے ایسے کئی واقعات سنائے جب کسی گاڑی میں بیٹھے شخص نے کسی ٹھیلے والے یا راہ چلتے غریب کو صرف راستہ نہ دینے پر بُرا بھلا کہا یا فحش مغلظات دیں۔ ایسے میں جب اس غریب کا پارہ ہائی ہو گیا تو پھر یا وہ مرتا ہے یا مار دیتا ہے۔ انہوں نے دو دن پہلے کا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ وہ واک کرکے گھر واپس آ رہے تھے،انہوں نے دیکھا ایک ردی والا جو ریڑھی پر کاٹھ کباڑ لادے کھڑا تھا، کار والے کے ساتھ شدید توتکار میں مشغول ہے۔ جواب میں کار میں بیٹھے ایک ادھیڑ عمر شخص کی حالت بھی غیرہو رہی ہے اور وہ گالیاں دیئے جا رہا ہے۔ نعیم اشرف بتاتے ہیں میں نے دیکھا کہ کباڑیئے نے ہاتھ میں ایک لوہے کا راڈ اٹھا لیا ہے۔ کوئی بعید نہیں تھا کہ وہ کار والے کی طرف جاکر اس کا سرکھول دیتا یا پھر اس کی ونڈ سکرین توڑ دیتا۔ وہ کہتے ہیں میں آگے بڑھا اور ریڑھی والے کے سامنے ہاتھ جوڑدیے۔ میں نے پوچھا یہ آپ نے کیوں کیا، اسے تو سرزنش کرنی چاہیے تھی۔ نعیم اشرف جو ہمیشہ باریک سطح پر جاکر سوچتے ہیں۔ کہنے لگے اول تو کار میں بیٹھے ہوئے شخص کو مری بات سمجھ نہیں آنا تھی کیونکہ وہ تو اسی آگ میں جل رہا تھا کہ ایک ریڑھی والے کی جرات کیسے ہوئی میرے سامنے بولے۔ دوسرا اس وقت ریڑھی والے کا پارہ جتنا گرم ہو چکا تھا اسے ٹھنڈا کرنے ے لئے اس کی انا کو تسکین دینا ضروری تھا۔ اس پر نعیم اشرف نے یہ پیغام دیا کہ آج کل عافیت کا راستہ یہی ہے کہ چپ کر دڑ وٹ جا کے نظریے پر عمل کرکے اپنی راہ لی جائے۔
عدم برداشت کے کلچر کی یہ تو ایک انتہا ہوئی ہے کہ بھائی بھائی کو مار دے اور بیٹاباپ یا باپ بیٹے کو مار رہا ہو۔یوں لگتا ہے جیسے جن کے پاس نیا نیا پیسہ آیا ہے ،وہ اپنی اوقات بھول گئے ہیں اور جن کے پاس نہیں ہے، غریب ہیں، ان کے اندر صبرکا مادہ جواب دے گیاہے جن معاشروں میں عزت ذلت کا معیار پیسہ بن جاتا ہے، وہاں سماج کے اندر ایک خوا مخوا کی لکیر حائل ہو جاتی ہے۔ یورپ نے اس لکیر کو مٹا دیاہے۔ وہاں سب کو یکساں حقوق اور عزت حاصل ہے۔ یہاں پیسے والوں کو دفاتر اور تھانوں میں کرسیاں اور غریبوں کو دھکے ملتے ہیں، پھر عدم برداشت تو پیدا ہوگی ہی۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)