پاکستان ٹیک آف کر رہا ہے
- تحریر حماد غزنوی
- جمعرات 11 / جون / 2026
کچھ دن سے شہری زندگی سے دل گھبرا رہا ہے، بند کمرے، ٹیلے فون، ٹی وی، وہی گھسے پٹے رات دن، باہر نکلو تو گاڑیاں ہی گاڑیاں، موٹر سائکلیں، جلتے بجھتے اشتہارات اور لوگ ہی لوگ۔ کسی گم نام شاعر کا شعر ہے ’سب لوگ بہت پیارے ہیں اس شہر کے لیکن...تھک جاتے ہیں منہ دیکھ کے ہم ایک طرح کے‘۔
ہم اس کیفیت میں تھے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات آ گئے، ہمارے اندر کے صحافی (جو ان دنوں وینٹی لیٹر پر ہے) نے آنکھیں کھولیں اور سرگوشی کی ’سفر کا بہانہ اچھا ہے‘۔ ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ اسکردو کے ایک انتخابی جلسے کی تصویر نظر سے گزری، خواجہ سعد رفیق جلسے سے خطاب فرما رہے تھے۔ خواجہ صاحب سے ہمارا دیرینہ تعلق ہے، ہمیں اسکردو جانے کی مزید مہمیز ملی۔ خواجہ صاحب کو فون کرکے انہیں اپنے خیالات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے انتخابات اور عمومی فضا پر کچھ اس طرح کی گفتگو فرمائی جس کے نتیجے میں ہم نے بوجھل دل سے ہی سہی، سفر کا ارادہ ترک کر دیا۔ بہرحال، ان کی کچھ باتیں مشتہر کرنا دلچسپ ہو گا۔ پہلی بات تو یہ کہ انہوں نے الیکشن سے ایک ہفتہ پہلے انتخابی نتائج بارے جو پیش گوئی کی وہ من و عن درست ثابت ہوئی۔ انتخابی سیاست کی جزیات کے فہم کی نسبت سے انہیں داد دینا پڑے گی۔ دوسری بات انہوں نے ہمارے ایک سوال کے جواب میں بتائی۔ ہم نے پوچھا عوامی شرکت کے اعتبار سے کس جماعت کے جلسے جلوس سب سے بڑے تھے۔ فرمانے لگے کہ میں نے یہاں گاڑیوں کا ایک طویل جلوس دیکھا، سو ڈیڑھ سو گاڑیوں پر مشتمل، جو جی بی الیکشن کے پس منظر میں بہت بڑا جلوس تھا۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ وہ پاکستان استحکام پارٹی کا جلوس ہے۔ گلگت بلتستان کے الیکشن کی حرکیات پر یہ ایک بلیغ تبصرہ تھا۔
جی بی کے انتخابات کیا کسی تبدیلی کی نوید ہیں؟ ان انتخابات سے وہاں کے عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کی راہیں وا ہوں گی؟ تعلیم پھیلے گی، صحت کی سہولتیں بہتر ہوں گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، مہنگائی کم ہو گی؟ گلگت بلتستان کا معاملہ تو اپنی جگہ، ہم یہی سوال پاکستان کے عام انتخابات پر بھی پوچھتے رہتے ہیں۔ کوئی جواب ہی نہیں آتا۔ اب تو کوئی امید بھی نہیں بندھاتا، خواب بھی نہیں دکھاتا۔ ’یہ یونہی چلتا رہے گا‘۔ اب یہ جملہ زیادہ کثرت سے سننے میں آتا ہے۔ لوگ تھک رہے ہیں، لوگ تھک چکے ہیں، مگر مالکان ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ پہلے بھی پسند نہیں تھی مگر اب تو سیاست میں جذباتیت سے ہمیں چڑ سی ہو گئی ہے۔ ضیاالحق نے 1984 مراکو کاسا بلانکا میں چوتھی اسلامی کانفرنس میں ایک ’روح پرور‘ خطاب کیا تھا جس کا حکومتی میڈیا مشینری نے خوب چرچا کیا۔ ضیاالحق کو امہ کا لیڈر قرار دیا گیا۔ کچھ دن ایمان کے نشے میں گزر گئے، پھر چل سو چل۔
عمران خان نے 2021 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امہ کا کیس انتہائی وفور سے پیش کیا جس کے نتیجے میں ان کے پرجوش حامیوں نے انہیں امہ کا قائد قرار دے دیا تھا۔ کبھی تیل اور گیس کے لا محدود ذخائر دریافت ہونے کا لولی پاپ لہرا دیا جاتا ہے، کبھی سنتے ہیں غیر ملکی سرمایہ کار کئی من ڈالر اونٹوں پر لاد کر پاکستان کی طرف روانہ ہو چکے ہیں، کبھی سرکاری نجومی کسی تاریخ کا اعلان کر دیتے ہیں کہ اُس سال کے اُس ماہ سے پاکستان ٹیک آف کر جائے گا۔ کبھی ایک تماشا کبھی دوسرا، ڈنگ ٹاپتے جاتے ہیں، افتادگانِ خاک کے وبال اپنی جگہ ڈٹے رہتے ہیں۔ روز مرہ کی اذیتیں جاری رہتی ہیں، زندگی جرم رہتی ہے۔
طبیعت ایسی خلائی باتوں سے نفور کرتی ہے۔ ہم سے سیدھی بات کریں، آپ نے شہریوں یعنی کولہو کے بیلوں کیلئے کیا کیا ہے؟ بس! نظریات اور نعروں میں ہماری دلچسپی نہیں رہی۔ معذرت چاہتے ہیں۔ پچھلے سال ہم نے بھارت کی ناک خاک آلودہ کردی یہ سچ ہے۔ اس سے پہلے تمام جنگیں ہم فقط مطالعہ پاکستان کے نصاب میں جیتے تھے (وہ بھی ڈنگ ٹپانے کیلئے )۔ بہت کم باتیں ہوں گی جن پر ہم کارپردازانِ ریاست سے کامل اتفاق رکھتے ہوں، مگر بھارت کی گزشتہ سال کی سبکی کے معاملے میں ہم ریاست سے متفق ہیں۔ اور یہ اتفاقِ رائے عالمی جریدوں اور مبصروں کی رائے کی روشنی میں قائم ہوا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ امریکا ایران ثالثی کے کردار میں پاکستان نے اقوامِ عالم میں توقیر کمائی ہے۔ اب ہم شدید خواہش رکھتے ہیں پاکستان کی ان کامیابیوں کے ثمرات پاکستانیوں تک بھی پہنچیں۔ فی الحال تو پاکستانیوں کو خطے میں جنگ کے اثرات مہنگائی کی صورت میں جھیلنے پڑ رہے ہیں۔ جس خطے میں پاکستان واقع ہے، وہ ایک مزید غیر یقینی دور میں داخل ہو رہا ہے، خلیج کا علاقہ ایک نئے حفاظتی بندوبست کی تلاش میں ہے۔ ایران علاقے میں اثر و نفوز کی جستجو میں ہے، افغانستان اور بھارت باز نہیں آ رہے۔ پچھلے سال پاکستان میں دنیا بھر سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔ اسرائیل اب زیادہ کھل کر پاکستان کی مخالفت کر رہا ہے۔ ہمارے چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔ خلیج سے آنے والےزرِ مبادلہ میں تخفیف کا خدشہ ہے۔
بھارت سے پانی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو ہمیں ناقابلِ برداشت صورتِ حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایسے میں اندیشہ ہے کہ عام آدمی مزید سختی بھگتے گا۔ ہمارے پاس اس ممکنہ صورتِ حال سے نمٹنے کا کوئی منصوبہ ہے؟ کہاں ہے؟ کیا ہے؟ جنگ جیتنا، ثالث کا مرتبہ حاصل کرنا قابلِ فخر ہے اور عام پاکستانی کا خطے میں سب سے پیچھے اور نیچے رہ جانا باعثِ شرم ہے:
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دَوا کرے کوئی
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)