’سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے‘

اسحاق ڈار ایک سے زیادہ بار یہ کہہ چکے ہیں  کہ ہم نے متحارب ممالک پر واضح کر دیا ہے کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے اور اسے ’نو گو ایریا‘ سمجھا جائے۔  ایک طالب علم کے طور پر میرے پیش نظر سوال یہ ہے کہ پاکستان جب یہ کہتا ہے کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے تو اس کا مطلب کیا ہوتا ہے؟

پاکستان نے یہ بات کسی سرسری سے پیرائے میں کی ہوتی ہو تو معاملہ اور ہوتا لیکن پاکستان کی جانب سے یہ بات تکرار کے ساتھ ہو رہی ہے۔ اس تکرار میں ایک معنویت ہے۔ ہو سکتا ہے میں غلط ہوں، لیکن جہاں تک میں بات کو سمجھ پایا ہوں، وہ یہ ہے کہ اس جنگ کے کسی فریق نے بھی، جی ہاں کسی نے بھی، بھلے وہ دوست ہو یا دشمن ہو، بھلے وہ  ایران ہو یا اسرائیل ہو، اگر اس ریڈ لائن کو پامال کیا تو پاکستان کسی اگر مگر یا چونکہ چنانچہ میں نہیں پڑے گا بلکہ اس کے اگلے ہی لمحے پاکستان اس جنگ میں کود پڑے گا۔ وہ پھر ثالث نہیں ہو گا۔ وہ فریق ہو گا۔

اس مرتی مارتی دنیا کے سفارتی اور تزویراتی زمینی حقائق کی روشنی میں، یہ تھوڑا عجیب سا لگتا ہے کہ پاکستان جو آخری حد تک اپنی جنگوں سے بھی اس وقت تک اجتناب کرتا ہے، جب تک کہ وہ مسلط نہ  کر دی جائیں، وہ پاکستان کسی دوسرے ملک کی خاطر کسی جنگ میں کیوں اترے گا؟  بظاہر یہ سوال درست ہے لیکن پاکستان اور سعودی عرب کا معاملہ کچھ مختلف ہے اور اس کی نوعیت ایسی ہے کہ پاکستان جنگ میں اترے گا، کسی توقف کے بغیر اترے گا اور اس کے باوجود اترے گا کہ اس جنگ کی بہت بڑی  قیمت ہو گی۔ یہ کوئی جذباتی بات نہیں ہے۔ یہ بین الاقوامی سیاست کے جبر سے جڑی جمع تقسیم ہے جو اس تجزیے کی بنیاد ہے۔

ریڈ لائن کی یہ حساسیت کسی اور ملک کے تناظر میں ہوتی تو اس کا مفہوم مختلف ہو سکتا تھا۔ اس صورت میں پاکستان کا جوابی قدم زیادہ سے زیادہ سفارتی ہی ہوتا۔ جارحیت اسرائیل نے کی ہوتی تو پاکستان اس کی مذمت کرتا، وہ احتجاج کرتا۔ اور اگر ایران نے کی ہوتی تو وہ برادر اسلامی ملک سے احتجاج ریکارڈ کرانے کے ساتھ ساتھ  اپنا سفارتی عملہ واپس بلا لیتا یا ان کا سفیر نکال دیتا۔ لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے۔ یہ معاملہ نازک بھی ہے اور پیچیدہ بھی۔ ایران پڑوسی بھی ہے اور برادر اسلامی ملک بھی۔ باہمی تعلقات بھی احترام پر مبنی ہیں۔ ان ہی تعلقات کی وجہ سے خیر گزری ہے اور ابھی تک ایران اور عرب دنیا کی جنگ نہیں ہو سکی۔ یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی اور تزویراتی کامیابی ہے۔

اسی لیے پاکستان جہاں خیر خواہی کے ساتھ ثالثی کروا رہا ہے، وہیں تکرار کے ساتھ یہ بات بھی دہرائے جا رہا ہے کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے اور اس کو نو گو ایریا سمجھا جائے۔ یہ ریڈ لائن کراس ہو گئی تو ساری ترتیب بدل جائے گی۔ یقیناً یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں ہو گا، بے شک اس کے سخت نتائج ہوں گے۔ بلاشبہ پاکستان کی توازن والی دیرینہ خارجہ پالیسی کا حلیہ بدل جائے گا۔ لیکن پاکستان یہ کہہ رہا ہے کہ اگر نوبت وہاں تک گئی تو پھر حلیہ بدلتا ہے تو بدل جائے، پھر نتائج کی پروا نہیں ۔ اسی لیے پاکستان بار بار کہہ رہا ہے کہ  ہماری حساسیت کو سمجھا جائے، ہم آپ کے لیے بھی سراپا خیر ہیں تو ہماری خیر خواہی کا بھرم رکھا جائے۔ نوبت یہاں تک نہیں آنی چاہیے کہ ہماری سعودیہ والی ریڈ لائن کراس کرکے ہمیں کسی امتحان سے دوچار کر دیا جائے۔ لیکن اگر ایسا ہو گیا، آپ نے ہماری حساسیت کا احترام نہ کیا تو پھر ہم اس امتحان کے لیے تیار ہیں۔

ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجوہات مذہبی بھی ہیں مگر یہ صرف مذہبی ہی نہیں ہیں۔  زمینی حقائق کی جمع تقسیم بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ مذہبی وجوہات تو سب کو معلوم ہیں، مقامات مقدسہ کی حسیاست کو کسی تکرار کی حاجت نہیں۔ زمینی حقائق کی جمع تقسیم پر البتہ نگاہ ڈال لینی چاہیے ۔ پاکستان کی سفارتی صف بندی میں سعودیہ کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ مسلم دنیا میں سعودیہ کا ایک مقام  اور ایک حیثیت ہے۔ پاکستان اسے نظر انداز نہیں کر سکتا۔ مسلم دنیا کی سفارتکاری میں سعودیہ کے ساتھ کھڑے ہونا، امکانات کا جہاں آباد کرتا ہے ۔

  پاکستان کی معاشی حالت پیچیدہ ہے۔ پاکستان کی ایکسپورٹس بہت کم ہیں۔ ڈالر کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ تارکین وطن کی ترسیلات زر ہیں۔ سعودی عرب میں قریب 35 لاکھ پاکستانی کام کر رہے ہیں۔ سعودی عرب دنیا میں پاکستان کے لیے سب سے بڑی لیبر مارکیٹ ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ رقوم سعودی عرب میں موجود پاکستانی، اپنے وطن بھیجتے ہیں۔ قریب 9 ارب ڈالر۔ یہ معمولی رقم نہیں ہے۔ یہ پاکستان کی کل ترسیلات زر کا 25 فی صد ہے۔ پاکستان اپنی ترسیلات زر کے 25 فی صد سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔  پاکستان اپنی سب سے بڑی لیبر مارکیٹ سے بھی بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ ایک ایک ارب ڈالر کے لیے پاکستان کو دن میں 10 بار آئی ایم ایف کی در پر دستک دینا پڑتی ہے تو پاکستان 9 ارب ڈالر سالانہ سے کیسے بے نیاز ہو سکتا ہے۔

سعودیہ پر حملہ ہوتا ہے تو اس کی معیشت تو شاید یہ جھٹکا برداشت کر لے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہو گا؟ یہ 30-35 لاکھ پاکستانی جو اچانک بے روزگار ہو جائیں گے، یہ کہاں جائیں گے۔ ان 9 ارب ڈاالر سالانہ کا متبادل کیا ہو گا؟ سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کرنے کے باوجود اگر پاکستان ایسی کسی صورت حال میں لاتعلق رہتا ہے تو اس کی زد میں صرف پاک سعودی تعلقات نہیں آئیں گے، خیلج میں جتنے ممالک سعودی اثر میں ہیں، ان سے تعلقات میں تناؤ آ سکتا ہے۔ اس منظر نامے کی معاشی جمع تقسیم کرکے دیکھیے۔  بات پھر صرف 30-35 لاکھ پاکستانیوں کے بے روزگار ہونے تک نہیں رہے گی، یہ دگنی بھی ہو سکتی ہے۔ کیا پاکستان اس کا متحمل ہو سکتا ہے؟

پاکستان پر مشکل آتی ہے، سعودیہ سب سے پہلے مدد کو آتا ہے۔ اس وقت بھی اس کے اربوں ڈالر پاکستان میں ڈپازٹ ہیں۔ مؤخر ادائیگیوں پر وہ ہمیں پیٹرول دیتا ہے اور ہم  فوری طور پر ڈالر خرچ کرنے کے بوجھ سے بچ جاتے ہیں، زر مبادلہ پر دباؤ نہیں آتا۔ اگر یہ سب داؤ پر لگ جاتا ہے تو پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ سکتی ہے۔ اگر سعودی عرب پر کسی حملے کا نتیجہ پاکستان کے لیے اتنا سنگین ہے تو پھر پاکستان اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ سعودی عرب پر حملہ ہو تو پاکستان فریق بن کر تو شاید کچھ بچا لے، غیر جانبدار رہ کر تو سب کچھ گنوا دے گا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان بار بار، تکرار کے ساتھ، ہر ایک کو یہ بات سمجھا رہا ہے کہ ہمارا مسئلہ اور ہماری پوزیشن سمجھیے، ہم خیر خواہ ہیں، ہم ثالث ہیں، ہم امن کے داعی ہیں۔ لیکن پلیز یہ بات ذہن میں رکھیے کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ ریڈ لائن پامال ہوئی تو صف بندی کی ترتیب بدل جائے گی۔

(بشکریہ: وی نیوز)