ایران ہٹ دھرمی کی بجائے ہوشمندی سے کام لے!
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 11 / جون / 2026
ایران اور امریکہ کی طرف سے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اپریل کے شروع میں طے پانے والی جنگ بندی عملی طور سے ختم ہو چکی ہے۔ اگرچہ یہ فرق نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ امریکی صدر اب ایران کو نیست و نابود کرنے کا اعلان کرنے کی بجائے کسی اچھی ڈیل کی بات کرتے ہیں اور حتمی معاہدہ سے پہلے آبنائے ہرمز کھولنے کی شرط پر ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے راضی ہوچکے ہیں۔
لگتا ہے ایران ایک بار پھر کسی جنگ بندی و امن معاہدے میں اپنی بعض ناقابل قبول سمجھی جانے والی شرائط منوانے کی پوزیشن کھورہا ہے۔ ورنہ دو روز پہلے ایران پر اسرائیل کے حملوں کے سوال پر صدر ٹرمپ کے سخت رد عمل کے بعد ایران کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آکر امریکی حکومت کو اپنی مرضی کی کچھ باتیں ماننے پر مجبور کرتا۔ امریکہ اب صرف آبنائے ہرمز غیرمشروط طور سے کھولنے اور جوہری ہتھیار نہ بنانے کے وعدے پر ایران کے ساتھ امن قائم کرنے پر آمادہ ہے۔ ایران کے لیے یہ ایک اچھی بارگیننگ پوزیشن ہے اور اس ماحول میں وہ اپنے بیشتر مطالبے منوا سکتا تھا جن میں سر فہرست معاشی پابندیاں اٹھانا اور ایران کے منجمد اثاثے واپس کرنا ہے۔
لیکن تازہ جنگ جوئی سے ایران ایک بار پھر مزید تباہی کو دعوت دینے کے علاوہ امریکہ کو دیوار سے لگانے کی خواہش میں اسے مزید وحشیانہ طریقے اختیار کرنے پر مجبور کررہا ہے۔ یہ صورت حال جاری رہی تو نہ لبنان میں حزب اللہ باقی رہے گی اور شاید موجودہ ایرانی رجیم کے لیے بھی اقتدار پر قابض رہنا مشکل ہوجائے۔ جنگ خواہشات یا سیاسی امیدوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ برسر زمین طاقت ور کی وحشت کا نشان ثبت کرتی ہے۔ جنگ تاریخ میں لکھے جانے فیصلے سے بے پرواہ ، آج کے نتائج، تباہی اور نقصان کا المیہ رقم کرتی ہے۔ بدقسمتی سے تہران میں اقتدار پر قابض اور فیصلہ سازی کا اہل ٹولہ اس وقت یہ سمجھنے کی غلطی کررہا ہے کہ ایران ، امریکہ کو شکست دے چکا ہے اور اب جنگ بندی یا امن ایران کی بجائے امریکہ کی مجبوری ہے۔
جنگ بند کرنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مجبوری ضرور ہے۔ کیوں کہ اس کے معاشی اثرات پوری دنیا کے علاوہ اب امریکی عوام بھی محسوس کررہے ہیں۔ امریکیوں کی قوت خرید پر مرتب ہونے والے اثرات اس جنگ کے خلاف رائے ہموار کرتے ہیں اور امریکی صدر پر اس تنازعے کو ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ لیکن رائے عامہ کے جائزے یہ طے نہیں کرتے کہ امریکی صدر کسی تنازعہ کے بارے میں کیا فیصلہ کرے گا۔ اسےمجموعی تصویر اور اپنی سیاسی پوزیشن کے حساب سے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ اس حد تک صدر ٹرمپ کو مجبور ضرور سمجھا جاسکتا ہے لیکن ایک جمہوری نظام میں کسی لیڈر کی سیاسی مجبوری کو امریکہ جیسی سپر پاور کی ہزیمت اور شکست باور کرکے اس سے طاقت کے زور پر اپنی بات منوانے کی خواہش کرنا غیر دانشمندانہ طرز عمل ہے۔تہران میں لیڈر اگر امریکہ سے امن کے لیے ایڑیاں رگڑ کر معافی مانگنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں تو انہیں مزید تباہی اور مشکلات کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔
یہ درست ہے کہ دنیا کے بیشتر تجزیہ نگار اس جنگ کو امریکی غلطی اور کسی حد تک جارحیت و ناجائز قرار دے کر یہ کہتے رہے ہیں کہ امریکہ اس جنگ میں ناکام ہؤا ہے۔ جب کوئی غیر جانبدار تجزیہ نگار امریکی ناکامی کی بات کرتا ہے تو اس سے مراد امریکہ کی عسکری شکست سے زیادہ سیاسی و اسٹریٹیجیکل ناکامی ہوتا ہے۔ امریکہ نے جنگ شروع کرتے ہوئے ایران کی جوہری صلاحیت ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ثانوی طور سے تہران میں ملاّ رجیم تبدیل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا ۔ وہ یہ دونوں اہداف حاصل نہیں کرسکا۔ ایران کی اعلیٰ قیادت کو ہلاک کرنے کے باوجود تہران میں اسی ٹولے کی حکمرانی ہے اور نچلی سطح کے زیادہ شدت پسند اور کم تجربہ کار لیڈر اب فیصلہ سازی کی پوزیشن میں آچکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران نے کامیابی سے آبنائے ہرمز کو بند کیا ہؤا ہے ۔ یہ اضافی ہتھکنڈا پہلے اس کے ہاتھ میں نہیں تھا۔ امریکہ کی طرف سے بین الاقوامی قوانین روندتے ہوئے ایران پر حملہ کو انہی اہداف کی روشنی میں دیکھتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ امریکہ اس جنگ میں کامیاب نہیں ہؤا ۔ اسے جنگ ختم کرکے اس سے باہر نکلنا ہوگا۔
تاہم ایسا کوئی تجزیہ ایران کی کامیابی کا سرٹیفکیٹ نہیں ہوتا۔ کسی کو اس بارے میں شبہ نہیں ہے کہ ایران کو بھاری عسکری و معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ اس کا انفرا اسٹرکچر ملبے کا ڈھیر بنایا جاچکا ہے اور رہی سہی کسر قومی غیرت کے نام پر امریکی اہداف اور ہمسایہ ممالک پر میزائل حملے کرکے پوری کی جارہی ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران پہلے اسرائیل اور اس کے بعد امریکہ نے متعدد ایرانی عسکری و معاشی ٹھکانے تباہ کیے ہیں۔ ایران خواہ اس کا انتقام لینے کے لیے جیسے بھی اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرے لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ سوشل میڈیا پر زور دار بیانات جاری کرنے کے باوجود ایرانی لیڈر کسی حملے کو روکنے اور دشمن کے طیاروں یا میزائیلوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس کے برعکس ایران کے بیشتر میزائل یا ڈرون راستے ہی میں تباہ کردیے جاتے ہیں۔ امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے یہی پہلو دیکھا جاتا ہے کہ امریکہ نے کس بنیاد پر اپنے حلیف ممالک کواس مشکل سے دوچار کیا ہے۔ اس جنگ کی بھاری مالی قیمت امریکہ اور دیگر عرب ممالک ادا کررہے ہیں لیکن یہ صورت حال کسی بھی طرح ایران کی کامیابی نہیں ہے۔ وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو ایران تو درحقیقت اسی روز جنگ ہار گیا تھا جب وہ اپنے سپریم لیڈر کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا اور دشمن کے میزائیلوں نے علی خامنہ ای کو ان کے ہیڈ کوارٹر میں ہی ہلاک کردیا۔ اس ’کارکردگی‘ پر جنگ میں سرخرو ہونے اور امریکہ کو شکست دینے کے دعوے جھوٹے خواب سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔
ایران کے پاس اپریل کے شروع میں جنگ بندی کے بعد امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کا نادر موقع تھا لیکن اسلام آباد مذاکرات میں امریکہ کے نائب صدر کی شرکت کو ایران نے عزت افزائی سمجھنے کی بجائے امریکہ کی کمزوری سمجھ لیا اور ایک کے بعد دوسری شرط کے ذریعے اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ اس کے بعد سے مسلسل یہ صورت حال موجود ہے۔ چند روز پہلے لبنان جنگ کو عذر بناکر اسرائیل پر حملے اور اس کے بعد ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرانے کی کارروائی درحقیقت جنگ بندی توڑنے اور امریکی صبر آزمانے کی اوچھے حرکت تھی۔ صدر ٹرمپ جب اپنے دیرینہ حریف نیتن یاہو کو خاموش کراکے ایران کے ساتھ معاہدہ کی بات کررہے تھے ، اس وقت تہران کے لیڈر یہ قیاس کرنے لگے کہ اب امریکہ کو مزید چوٹ پہنچا کر ایران کی کامیابی کا اعلان کرایا جاسکتا ہے۔ حالانکہ ایران نے امریکی غلطیوں کے باوجود ہمسایہ عرب ممالک پر مسلسل حملے کرکے خود کو اس علاقے میں یک و تنہا کر لیا ہے۔ ایرانی لیڈر یہ سمجھنے میں ناکام ہورہے ہیں کہ امریکہ تو شاید چند ہفتے یا ماہ بعد اس جنگ کو سمیٹ کر واپس چلا جائے لیکن ایران کو تو اسی خطے میں انہی ممالک کے ساتھ زندہ رہنا ہے۔ اس کے وسیع تر مفادات کا تقاضہ ہے کہ وہ امریکہ کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے نام پر خود ہمسایہ ملکوں کے خلاف جارحیت کا مرتکب نہ ہوتا۔
ایرانی حکمت عملی نے اس جنگ کو وسیع کیا اور پیچیدہ بنایا ہے۔ اس سے اگر یہ امید کی جائے کہ جنگ کے بعد ایران کو خطے کی منی سپر پاور تسلیم کرلیاجائے تو یہ احمقوں کی جنت میں رہنے جیسا ہوگا۔ ایران کی اصل کامیابی یہ ہوسکتی ہے کہ وہ اس جنگ کو عذر بنا کر اب امریکہ کے ساتھ ایسا معاہدہ کرے جس کے تحت اس پر سے معاشی پابندیاں ختم ہوں اور وہ اپنی تیل کی دولت آزادی سے عوام کی بہبود اور ملک کی تعمیر نو پر صرف کرے۔ کسی کو اس پالیسی پر اعتراض نہیں ہوگا ۔لیکن جب تک تہران حزب اللہ جیسے جنگجو گروہوں کے ذریعے اپنی طاقت منوانے اور اسرائیل کو ختم کرنے جیسے بے بنیاد اور غیر حقیقی نعروں پر خارجہ و سکیورٹی پالیسی استوار کرتا رہے گا، وہ نہ خود امن سے رہ سکے گا اور نہ ہی اس کے ہمسایہ ملکوں کو چین نصیب ہوگا۔ امریکہ و عرب ممالک شاید اس غیر یقینی کو برداشت کرنے کی زیادہ معاشی و عسکری صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ایران کے لیے جنگ کی وجہ سے بڑھتا ہؤا معاشی دباؤ تادیر برداشت کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
ایرانی قیادت کوخطے کی ناانصافیاں اور امریکی تسلط ختم کرنے کی بجائے اپنے عوام کی بہبود پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر بنیادی وسائل سے محروم ایرانی عوام کی صورت حال کو پیش نظر رکھا جائے تو ایران مزید ایک دن بھی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ لیکن کیا ایرانی لیڈر بھی اپنے ملک میں رائے عامہ کا ویسا احترام کرسکتے ہیں جو امریکی عوام کی ناراضی کی صورت میں امریکی صدر کو دکھانا پڑتا ہے؟