ایران امریکہ معاہدے کے بارے میں متضاد دعوے

  • جمعہ 12 / جون / 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے پر ایک ’بہترین معاہدہ‘ طے کر ہوگیا ہے۔ اب دستاویزات کو ’حتمی شکل دینے کے مرحلے‘ میں داخل ہو رہے ہیں۔ ایران نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔

اوول آفس میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں دستاویزات کو حتمی شکل دینے کا مرحلہ ’اگلے چند دنوں میں مکمل ہو جانا چاہیے۔ ہم شاید یورپ میں اس پر دستخط کریں گے اور یہ ایک اچھی پیش رفت ہوگی۔‘  اس سے قبل ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی ایران کی اعلی ترین قیادت سے منظوری کے بعد وہ ایران کے خلاف آج کے طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کر رہے ہیں۔

اوول آفس میں بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسا معاہدہ ہو رہا ہے، جس کے تحت ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں حاصل کر سکے گا۔ معاہدے پر جلد ہی دستخط ہوں گے اور دستاویزات تقریباً حتمی شکل میں ہیں۔

انہوں نے اس موقع پر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف بھی کی اور کہا کہ وہ اسرائیل، قظر متحدہ عرب امارات، سعودی عرب بحرین، کویت اور دیگر ممالک کے رہنماؤں سے بات کر چکے ہیں اور اب ترکی کے صدر اردوان سے بھی بات کریں گے۔’سب بہت خوش ہیں، اور مشرقِ وسطیٰ بھی بہت خوش ہے۔‘

ایک صحافی نے ٹرمپ سے پوچھا کہ وہ اس بات کے بارے میں کتنے پُراعتماد ہیں کہ اس ہفتے کے آخر تک ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جائے گا؟ ٹرمپ نے جواب دیا: ’یہ جلد ہی ہوگا، شاید اسی ہفتے کے آخر میں۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے اس معاہدے سے اتفاق کر لیا ہے، تو ٹرمپ نے کہا: ’میری معلومات کے مطابق جواب ہاں میں ہے۔‘

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جیسے ہی معاہدے پر دستخط ہوں گے، آبنائے ہرمز پر امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر اٹھا لی جائے گی۔ اس موقع پر ایک صحافی نے ذکر کیا کہ ٹرمپ ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اور ایران کسی معاہدے کے قریب ہیں تو اس بار کیا بات مختلف ہے؟

ٹرمپ نے جواب دیا: ’کیونکہ انہوں نے سخت نقصان اٹھایا ہے۔ انہوں نے ایسا نقصان اٹھایا ہے جو بہت کم لوگ ہی برداشت کر سکتے ہیں اور وہ میرے مقابلے میں معاہدہ کرنے کے کہیں زیادہ خواہش مند ہیں۔‘

ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جو چیز بدلی ہے وہ معاہدے کے لیے ایران کا ’جوش و جذبہ‘ ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ابتدائی معاہدے پر دستخط ممکنہ طور پر اس ہفتے کے اختتام پر یورپ میں ہوں تاہم وہ اس تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔ بی بی سی فارسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اس تقریب میں شرکت کریں گے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھی امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس نے کی تھی۔

دریں اثنا ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ قطر اور پاکستان کی بطور ثالث کوششوں کے باوجود امریکہ کے اقدامات کی وجہ سے مذاکراتی عمل متاثر ہوا ہے۔

اسماعیل بقائی نے زور دے کر کہا کہ معاہدے کے متن کے بیشتر حصے پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے تاہم امریکہ کے متضاد مؤقف نے معاہدے تک پہنچنے کے عمل میں عدم استحکام اور رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک انٹرویو میں معاہدے کے وقت اور مقام سے متعلق دعوؤں کو ’محض میڈیا کی قیاس آرائیاں‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک متعلقہ حکام معاہدے کے متن کے ہر ایک جز پر حتمی نتیجے تک نہیں پہنچتے، تب تک دستخط کے وقت اور مقام کے بارے میں بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔