’ہائی برڈ‘ اب قابلِ عمل نہیں رہا
- تحریر نصرت جاوید
- جمعہ 12 / جون / 2026
سہیل وڑائچ مجھے بہت عزیز ہیں۔ہم عصر کالم نگار ہوتے ہوئے مگر بدھ کے روز ان سے بے حد پیشہ وارانہ حسد محسوس ہوا۔ بے شمار صحافی ،قارئین اور چند (یہاں چند پر غور ضروری ہے ) سیاستدان رات گئے تک فون کے ذریعے مجھ سے یہ جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ برادرم نے بدھ کی صبح چھپے کالم میں موجودہ حکومتی بندوبست کے خاتمے کا اعلان کیوں کیا ہے ۔
دیانتداری سے میں ہر شخص کو ایک ہی جواب دیتا رہا اور وہ یہ کہ میری سہیل وڑائچ سے عرصہ ہوا ٹیلی فون پر بھی گفتگو نہیں ہوئی۔ جو دلائل اگرچہ موصوف نے موجودہ حکومتی بندوبست کی خامیوں کو اجاگر کرنے کے لئے بیان کئے ان میں سے اکثر سے اتفاق کرتا ہوں۔ چند حقائق جو موصوف نے بیان کئے وہ گزشتہ کئی مہینوں سے مجھے بھی پریشان کئے ہوئے ہیں۔سہیل وڑائچ کا یہ دعویٰ مثال کے طورپر قطعاًدرست ہے کہ سیاستدانوں نے عوام کے دلوں میں ابلتے جذبات سے آگہی کے لئے اخبار نویسوں سے رابطہ ختم کردیا ہے ۔ گنتی کے چند سیاستدان فقط اپنی جماعتوں کا موقف بیان کرنے کے بجائے سیاسی قائدین کی نگاہ میں رہنے کے لئے ٹی وی کے چند مشہور اینکروں کے ٹاک شوز میں ہفتے میں کم از کم ایک بار شمولیت کے علاوہ کمی کمین صحافیوں سے عموماً دوری اختیار کئے رکھتے ہیں۔ کئی دہائیوں تک آزادی اظہار کے چمپئن رہے سیاستدانوں کی بے پناہ اکثریت نے باہمی اختلافات بھلاکر موجودہ حکومتی بندوبست کے دوران صحافت کا گلا گھونٹنے کے لئے ایسے قوانین بھی پارلیمان سے منظور کروالئے ہیں جن کے اطلاق کی ایوب خان اور جنرل ضیا جیسے فوجی آمروں کو بھی ہمت نہیں ہوئی تھی۔
مجھ جیسے کئی صحافی جسٹس سجاد علی شاہ کے دور ہی سے عدالتی فعالیت سے گھبرانا شروع ہوگئے تھے ۔ افتخار چودھری کے نام نہاد انکار کے بعد ہمارے ہاں آزاد عدلیہ کے ذریعے ریاست کو ماں جیسی بنانے کے وعدے ہوئے تو عوام میں مقبول سوچ کے برعکس میں عدالتوں سے مسیحا تلاش کرنے کی روش کے بارے میں تحفظات کا مسلسل اظہار کرتا رہا۔ عوامی تحریک کے نتیجے میں افتخار چودھری نے چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب پر لوٹتے ہی میرے خدشات درست ثابت کرنا شروع کردئے ۔ منتخب پارلیمان کی مسلسل تحقیر افتخار چودھری نے ہماری اجتماعی سوچ بناڈالی۔ بالآخرنوبت بہ ایں جارسید کہ ایک منتخب وزیر اعظم کو غیر ملکی حکومت کے نام ملک کو بدنام کرنے والی ایک چٹھی نہ لکھنے کے جرم میں گھریلو ملازموں کی طرح چیف ایگزیکٹو کے عہدے سے فارغ کردیا گیا۔ موصوف کے متعارف کردہ رویے کو ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ جیسے لوگوں نے خودپسندی کی انتہا تک پہنچایا۔ سیاستدانوں کا تاریخی جرم یہ ہے کہ اقتدار کے حصول کے بعد وہ ایسے فورم تشکیل نہ دے پائے جہاں تعزیری رویہ اختیار کرنے کے بجائے سنجیدگی سے یہ معلوم کیا جاتا کہ اعلیٰ عدلیہ میں موجود مسیحائی کی تمنا رکھنے والے کس نوعیت کی محلاتی سازشوں میں مصروف رہے اور عدالتی نظام کو ان سازشوں سے محفوظ رکھنے کے لئے کون سے اقدامات درکار ہیں۔
عدالتی فعالیت سے اکتاکر سرکار مائی باپ کے طاقتور ترین ادارے نے بالآخر آئین میں 26اور27ویں ترمیم کی راہ نکالی۔ ان تمام کی تیاری میں ہمارے منتخب سیاستدان عملاًشامل نہیں تھے ۔ انہوں نے محض ان کے مسودے پارلیمان میں پیش ہونے کے بعد تفصیلی مباحث سے گریز اختیار کرتے ہوئے منظور ہے منظور ہے کی صداسے انہیں منظور کرلیا۔ عدالتی فعالیت اور ازخود نوٹسوں کے ذریعے انتظامی معاملات پر کامل کنٹرول کی ہوس یقینا پریشان کن تھی۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم نے مگر عدالتی نظام کو مفلوج بنادیا ہے ۔
فرانس کے ایک مشہور فلاسفر نے ایک ڈرامہ لکھا ہے ۔ انگریزی میں اس کا عنوان عموماً جہنم بنایا جاتا ہے ۔ ژاں پال سارتر نے مگر فرانسیسی زبان میں اس کو جو عنوان دیا اس کا سادہ ترجمہ ہے جب عدالت چھٹی پر گئی ہو۔ اس عنوان تلے لکھے ڈرامے کے تین کردار ایک کمرے میں مقید ہیں۔ وہاں سے باہر نکلنے کی گنجائش نہیں۔ 24گھنٹے ایک ہی کمرے میں قید رہنے کی وجہ سے تینوں کردار ایک دوسرے سے بالآخر نفرت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ عموماً یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ساتر نے اس ڈرامے کے ذریعے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ جہنم درحقیقت دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کی توقع کے مطابق رہنے کی مجبوری کا نام ہے ۔ فرانسیسی میں لیکن اپنے ڈرامے کا جو عنوان اس نے سوچا تھا ، وہ عدالتی تعطیلات یا معاشرے میں عدل میسر نہ ہونے کے عذاب پر توجہ دیتا ہے ۔ ان دنوں حکومتی بندوبست کا حصہ نہ ہوتے سیاستدانوں کی بے بسی دیکھتا ہوں تو اکثر یہ خیال آتا ہے کہ کل کلاں حکومتی بندوبست سے باہر ہوکر یہ سیاستدان جب اپنی بے بسی کا رونا روئیں گے تو عوام ان سے ہم دردی کیوں محسوس کریں گے ۔
سہیل وڑائچ،وضع دار آدمی ہیں۔ پرانے لاہور کے بارہ دروازوں میں پیدااور بڑا ہونے کی وجہ سے لیکن میں ابھی تک اپنی زبان پر کامل کنٹرول کے حصول میں ناکام رہا ہوں۔ نہایت دیانتداری سے اصرار کروں گاکہ ہر متحرک صحافی ان دنوں جیب میں پتھر جمع کررہا ہے اور ان پتھروں کو وہ یقینا ً ان ہی سیاستدانوں پر اچھالنا چاہے گا ،جب وہ اقتدار میں موجود نہیں ہوں گے ۔یہ لکھنے کے بعد کھلے دل سے اعتراف یہ بھی کرنا ہوگا کہ صحافت کو بے وقعت ہمارے ہی چند اہم ناموں نے وقتی فوائد یا راتوں رات شہرت کے حصول کی ہوس میں کیا اور ہم بطور کمیونٹی خود کو ان سے جدا نہ کرپائے ۔ دو ٹکے کے صحافیوں کو ان کی اوقات میں رکھنے کے بعد سیاستدان اب ان ہی افراد سے رابطے کو مرے جاتے ہیں جن کے ساتھ پنجابی محاورے والی گل ہوجائے تو نام نہاد فارم 47فارم 45کے اعدادمبینہ طورپر بدل دیتا ہے ۔
صحافت عوامی رائے کے ساتھ پل کا کام کرتی ہے ۔ اس پل کو نظرانداز کرتے ہوئے سیاستدان جن راہوں پر چل پڑے ہیں وہ فقط محلاتی سازشوں کی جانب لے جاتی ہیں۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر والا حکومتی بندوبست جسے ہائی برڈ کہتے ہوئے توقیر عطا کرنے کی کوشش ہوئی اب قابل عمل نہیں رہا۔ کئی دنوں تک میرے اور آپ جیسے عام شہری کو بے خبر رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے تکنیکی کمیٹیوں کے ذریعے ایک دوسرے سے مشاورت جاری رکھی۔ ہم سے خفیہ رکھی، ان ملاقاتوں کے طفیل 28ویں ترمیم متعارف کروانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ نہ ہی نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں ردوبدل درکار ہوا۔ وفاقی حکومت نے ان کے بغیر ہی اپنی منشا کے مطابق تمام صوبائی حکومتوں کو گرانٹ کے نام پر اپنے خرچ کے لئے رقوم فراہم کرنے کو رضا مند کرلیا ہے ۔
حکمران اشرافیہ خوش ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود ان کے مابین ریاست کے مائیکرو ڈھانچے کو برقرار رکھنے کا فارمولا طے ہوگیا ہے ۔ خلق خدا کا مگر کیا ہوگا جس کی اکثریت خطِ غربت سے نیچے گرنے کے خوف سے کاملاًمایوس و مفلوج محسوس کرنا شروع ہوگئی ہے ۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)