خسارے کا بجٹ ، غربت میں اضافہ
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 12 / جون / 2026
وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے لگ بھگ ساڑھے تین ہزار روپے خسارے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے۔ قومی اخراجات کا تخمینہ 18771 ارب روپے ہے جبکہ کل آمدنی کا اندازہ 15264 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اس بھاری خسارے کا بجٹ پیش کرنے والی کوئی حکومت عوام کے لیے کسی قسم کی سہولت کا وعدہ نہیں کرسکتی اور نہ ہی اس کی امید کرنی چاہئے۔
تاہم پریشان کن بات یہ نہیں ہے کہ بجٹ میں آمدنی اور اخراجات میں فرق ختم نہیں کیا جاسکا بلکہ اس تصویر کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ وزیر خزانہ کو اس معاملے پر کوئی وضاحت دینے اور حکومتی ناکامی کا اعتراف کرنے کا حوصلہ بھی نہیں ہؤا۔ گو کہ پاکستان میں ایسی کوئی روایت بھی موجود نہیں ہے۔ ہر حکومت بجٹ پیش کرتے ہوئے اعداد و شمار کے پیر پھیر سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ اس نے کیسے مشکل اور ناقابل برداشت حالات میں بھی عوام کو سہولت دینے کا راستہ نکالا ہے۔ بظاہر یہ راستہ موجود نہیں ہوتالیکن الفاظ کے جادو سے خبروں کی حد تک اس کا ڈھنڈورا پیٹ کر حکومت اپنا ’فرض منصبی‘ ادا کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔ اس حد تک وزیر خزانہ اورنگ زیب بھی اس فرض سے عہدہ برآ ہوئے۔
انہوں نے قومی پیدا وار میں چار فیصد اضافے کو بھی یوں پیش کیا ہے گویا یہ حکومت کی امیدوں اور اہداف سے کہیں بڑھ کر کارکردگی ہے حالانکہ شہباز حکومت اس بارے میں اپنے ہی اہداف پورے کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ ملک میں بے چینی سے بجٹ کا انتظار کیا جاتا ہے حالانکہ نہ حکومت کے پاس اس میں بتانے کے لیے کوئی نئی بات ہوتی ہے اور نہ ہی سننے والوں کو یقین ہوتا ہے کہ اعلان کردہ سہولتوں کے بعد ان کی زندگی میں کچھ مالی آسودگی پیدا ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی حکومت عوام کو سہولت دینے کے قابل نہیں ہے اور ملک کے جو طبقات حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے اور قومی آمدنی میں اضافہ کے لیے کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں، وہ خود کسی بجٹ میں مزید سہولتیں یا مراعات لینے کے لیے دانت تیز کیے بیٹھے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اس بجٹ میں برآمدات پر عائد محصول کو دو فیصد سے کم کرکے 1،25 فیصد کردیا گیا ہے۔ اس اعلان سے ایک طرف نام نہاد برآمد کنندگان کو خوش کرکے برآمدات میں اضافہ کی خواہش کی گئی ہے تو دوسری طرف پہلے سے خوشحال طبقہ کو ہی سہولت دے کر ملک کے محروم طبقات کو نظر انداز کرنے کی روایت کو قائم رکھا گیا ہے۔
حسب توقع قومی دفاع پر اخراجات میں لگ بھگ ساڑھے سترہ فیصد اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے۔ کسی کو اس اضافہ پر نہ حیرت ہوگی اور نہ ہی کوئی اعتراض ہوگا ۔ بھارت کے ساتھ جنگ کی صورت حال، افغانستان کے ساتھ بگڑتے ہوئے حالات اور ملک میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کے تناظر میں یہ اضافہ ناگزیر محسوس ہوتا ہے۔ اس بات پر اب عمومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ سکیورٹی کی ضمانت کے بغیر عوامی بہبود کا کام بھی نہیں ہوسکتا۔ بجٹ یا حکومت کی مالی پالیسیوں میں بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ دفاعی اخراجات میں اضافہ کرتے ہوئے ، اس بات کی ضمانت فراہم نہیں کی گئی کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے ساتھ ذرائع آمدنی میں بھی اضافہ کیا جائے۔ مالی معاملات میں بلاشبہ حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور آئی ایم ایف سے مالی سہولت لینے کے لیے بعض سخت فیصلے بھی ناگزیر ہوتے ہیں لیکن ذرائع آمدنی بڑھانے یا معاشرے کے نئے گروپوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے اقدامات سے تو آئی ایم ایف بھی خوش ہوتا لیکن حکومت اس قسم کا کوئی اقدام کرنے میں ناکام ہے۔ موجودہ مشکل مالی حالات اور سکیورٹی کی خطرناک صورت حال میں بھی حکومت اپنی سیاسی مجبوریوں اور گروہی مفادات سے بالا ہوکر ان طبقات سے ٹیکس وصول کرنے میں کامیاب نہیں ہورہی جن کی آمدنی تو معقول ہے لیکن وہ کسی بھی طرح ٹیکس دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ان گروہوں کی خود سری درحقیقت سیاسی حکومت کی بے بسی اور اندرونی کمزوری کی کہانی سناتی ہے۔ اسی لیے متعدد حلقے اب اس حکومت کو کمزور اور بے اثر حکومت کہنے لگے ہیں۔
وزیر خزانہ نے نوید دی ہے کہ معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو نیا سنگ میل ہے۔ فی کس آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہوگئی۔ یہ دونوں خبریں مثبت ہونے کے باوجود خوش آئیند نہیں ہیں۔ معیشت کا حجم بڑھنے اور فی کس آمدنی میں اضافہ سے ملک کے عام شہری کی حالت تبدیل نہیں ہوئی بلکہ اس میں بہتری کی بجائے ابتری آئی ہے۔ ایک طرح فی کس آمدنی یا مجموعی قومی آمدنی میں اضافہ درحقیقت اس سچائی کا اظہار ہے کہ ملک کے ایک خاص وسائل یافتہ طبقہ کی دولت میں اضافہ ہورہا ہے اور باقی عام لوگوں کے وسائل کم ہوئے ہیں۔ کسی معاشرے میں دولت کے ارتکاز یاایک خاص طبقہ کو دولت جمع کرنے کی اجازت دے کر خوشحالی کا راستہ ہموار نہیں ہوسکتا۔ اس مقصد کے لیے دولت کی گردش، وسائل تک ہر کس و ناکس کی رسائی اور عوام کی قوت خرید میں اضافہ ضروری ہوتا ہے۔ بجٹ کے حوالے سے سامنے آنے والی دستاویزات یہ ثابت نہیں کرپائیں کہ حکومت کی مالی پالیسیاں یہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہورہی ہیں یا اس کے پیش نظر یہ مقصد رہا ہے۔ وزیر خزانہ مجموعی تصویر دکھا کر عوام کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ قوم ترقی کررہی ہے ۔ یہ بیان درحقیقت پرفریب ہے۔
وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کرنے سے ایک دن پہلے جو اکنامک سروے پیش کیا تھا، اس میں صاف طور سے بتایا گیا ہے کہ ملک میں غربت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس وقت خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور افراد کی شرح 29 فیصد ہے ۔ یہ شرح 2018 میں 22 فیصد تھی۔ گویا ملک کا ہر تیسرا شہری اپنی آمدنی سے پیٹ بھرنے کے قابل نہیں ہے۔ غربت کی تعداد میں اضافہ کسی معیشت کی اچھی صحت کی علامت نہیں ہوسکتی۔ لیکن وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے اپنی بجٹ تقریر میں معاشرے کی اس افسوسناک حقیقت پر بات کرنے اور اس کی وجوہات بیان کرنے کی زحمت نہیں کی۔ حالانکہ اس اہم تقریر میں انہیں بھارت کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں کامیابی اور سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے دفاعی معاہدے پر تفصیل سے اظہار خیال کرنے کا وقت ضرور مل گیا۔ یہ جاننا اہم ہے کہ اس کوتاہی کی وجہ وزیر خزانہ کی کم فہمی ہے یا حکومت ہی اپنے شہریوں کے مسائل کو اہمیت دینے پر آمادہ نہیں ہے؟
وزیر خزانہ نے زرمبادلہ کی صورت حال بیان کرتے ہوئے بتایا پچھلے مالی سال میں ترسیلات 38 ارب ڈالر تھیں، اس مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں ترسیلات زر کا حجم 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ سال بھر کی ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔ اس طرح یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ حکومت کے زرمبادلہ کے ذرائع محفوظ اور یقینی ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ البتہ اس حوالے سے ایران جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ کی مارکیٹ میں کام کرنے والے تارکین وطن کی مشکلات اور بے یقینی کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ گویا حکومت نے یہ تخمینہ لگانے کی بھی زحمت نہیں کی کہ اگر اس مد میں آنے والا زر مبادلہ کسی ناگہانی وجہ سے زیادہ ہونے کی بجائے کم ہونا شروع ہوجائے تو اس چیلنج کا مقابلہ کیسے کیا جائے گا؟
قومی بجٹ پرانی باتوں اور مسلمہ پریشانیوں کی تصدیق کرنے والی دستاویز ہے۔ جیسے وزیر خزانہ کی تقریر میں کوئی نئی بات نہیں تھی، بعینہ بجٹ بھی مالی معاملات میں کسی نئے اور قابل عمل راستے کی طرف رہنمائی کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ اس طرح حکومت معاشی بحالی کے دعوؤں کے باوجود یہ ثابت نہیں کرسکی کہ اس کے پاس قومی مالی مسائل سے نمٹنے کا کوئی قابل عمل اور واضح روڈ میپ موجود ہے۔