انڈین ڈیموکریسی کی جیت
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 13 / جون / 2026
ان دنوں عالمی امور و معاملات میں ایران امریکا خلفشار اس قدر چھایا ہوا ہے کہ دھیان کسی اور طرف جا ہی نہیں رہا۔ آج بھی من یہی چاہ رہا ہے کہ اس ایشو کے وہ پہلو جو واضح نہیں ہیں ان پر اظہار خیال کیا جائے، لیکن اس کے ساتھ کئی دوسرے اہم ایشوز ہیں جو نظر انداز ہو رہے ہیں۔
جیسے کہ حالیہ دنوں ہماری ہمسائیگی میں جو ریاستی انتخابات ہوئے ہیں، ان کے نتائج انڈین سیاست میں کسی انقلاب سے کم نہیں۔ مڈل ایسٹ میں دلچسپی کے کارن ان بھارتی ریاستی انتخابات کا جائزہ پیش نہ کرنا حقیقتاً بڑی تاخیر یا مسنگ ہے اس لیے آج کے کالم کو اسی ایشو تک محدود رکھنے کی مجبوری ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا پاکستانی میڈیا انڈین جمہوریت کی اہمیت کے حوالے سے خاصا غیرذمہ دار و بےخبر ہی نہیں ایک مصنوعی و لاحاصل منافقت و تعلی کے باعث دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا کماحقہ جائزہ لینے سے قاصر ہے۔ یا پھر منافرت کے ساتھ ہمیشہ اسے منفی طور پر پیش کرتا ہے۔
یہاں ایسا مائنڈ سیٹ چھایا ہوا ہے جو انڈیا کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہنے پر بھی ناک منہ چڑھانے لگتا ہے۔ شاید ان لوگوں کو اتنی بڑی حقیقت کا علم ہی نہیں کہ مغربی جمہوریتوں بشمول امریکا و یورپ، سب کا مجموعی ووٹ بھی ایک اکیلے انڈین ووٹ سے کمتر ہے۔ فوراً منفی پروپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے کہ کون سی بڑی جمہوریت؟ انہوں نے تو وہاں مسلم مینارٹی کا جینا حرام کر رکھا ہے،۔ وہاں تو ہندوتوا کے مذہبی نظریے پر استوار بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندو سیاست ہو رہی ہے۔ ایسے صاحبان ایمان بالعموم خطے کی تاریخ سے نابلد و ناآشنا ہوتے ہیں لیکن اپنے تئیں خود کو ارسطو ثانی خیال کرتے ہیں۔
یہ وہی انڈیا ہے جہاں مسلم حکمرانوں نے تلوار کے زور سے صدیوں اپنی جبری حکمرانی مسلط کیے رکھی۔ یہاں تک کہ انگریز نے ان نااہل حکمرانوں کو ہٹاتے ہوئے برٹش سلطنت قائم کرلی جس کے خلاف آزادی کی مختلف تحریکیں اٹھیں۔ بالآخر مہاتما گاندھی کی قیادت میں کانگریس کی تحریک نے بدلتے عالمی حالات کے تناظر میں انہیں بوریا بستر سمیٹتے ، بھاگنے پر مجبور کر دیا اور پھر اسی مہاتما گاندھی نے بٹوارہ قبول کرتے ہوئے مسلم کمیونٹی کو خوش کرنے کے لیے قربانی کی تمام حدود پار کیں۔ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر لاکھوں مسلمانوں کی جانیں بچائیں، پاکستان کو اس زمانے کی خطیر رقم پچپن کروڑ روپے دلوانے کے لیے مرن بھرت رکھا۔ اتنی بڑی ہندو میجارٹی کو ناراض کرتے ہوئے مسلمانوں کی دلجوئی میں اس قدر آگے بڑھ گئے کہ اپنی قوم کے ایک فرد نتھو رام کے ہاتھوں قتل کر دیے گئے۔ اس اندوہناک موت کے باوجود کانگریس پارٹی نے پنڈت نہرو کی قیادت میں ناروا طور پر مسلم دلنوازی جاری و ساری رکھی اور آج کے دن تک راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس اپنی اسی پالیسی پر کاربند و گامزن ہے۔ اگرچہ اسے پہلے کی طرح آج بھی اس کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔
کانگریس کی اسی دیرینہ پالیسی کے نتیجے میں بی جے پی کا ظہور ہوا، نتیجتاً کانگریس دن بدن قومی و عوامی وسیع تر دھارے سے کٹ کر محض کمیونل پارٹی کی حیثیت سے باقی رہ گئی ہے۔ حالانکہ اس پارٹی کا فخر یا اعزاز یہ تھا کہ انہوں نے اتنے بڑے دیس کو آزادی دلاتے ہوئے ایک ماڈرن انڈیا کی بنیادیں استوار کی تھیں۔ لیکن بدلتے لمحات یا وقت کے تیور نہ سمجھنے کے باعث آج اتنی بڑی کانگریس پارٹی نہ صرف انڈین اقتدار سے محروم ہو چکی ہے بلکہ سکڑتے ہوئے بقول آسام کے مسلم رہنما مولانا بدرالدین اجمل “اب کانگریس نیو مسلم لیگ بن چکی ہے”۔ شاید انڈین نیشنل کانگریس کے حوالے سے بی جے پی اپنے میجارٹی ووٹر کو یہ باور کروانے میں کافی حد تک کامیاب رہی ہے کہ کانگریس ہندو میجارٹی کیلیے ایک طرح سے نیو مسلم لیگ ہے۔
آئیے حالیہ انتخابی نتائج کے تناظر میں اس حقیقت کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان دنوں چار بھارتی ریاستوں ویسٹ بنگال، آسام، تامل ناڈو اور کیرالہ کے ساتھ ایک یونین ٹیریٹری میں انتخابات ہوئے ہیں جن کے نتائج بڑے دلچسپ آۓ ہیں۔ ویسٹ بنگال میں انتہائی مضبوط خیال کی جانے والی ممتا بینرجی اور ان کی پارٹی ترنمول کانگریس ٹی ایم سی بری طرح پٹ گئی ہے۔ وہ ممتا بینرجی جو گزشتہ پندرہ برسوں سے ویسٹ بنگال کی سیاست پر پوری طرح چھائی ہوئی تھیں بلکہ سیاہ و سپید کی مالک گردانی جاتی تھیں۔ حالت یہ تھی کہ دو ہزار چوبیس کے انڈین یونین الیکشن میں جب مودی سرکار تیسری بار جیت کر سرکار بنانے جا رہی تھی تو ہندوستان کی پوری اپوزیشن ممتا بینرجی کو مودی کی ٹکر یا پائے کی لیڈر خیال کرتے ہوئے ان سے بہت کچھ کر گزرنے کی امیدیں باندھ رہی تھی۔ اور یہ خود بھی شیرنی بنے ہر موقع پر مودی اور بی جے پی سرکار کو للکارتی دکھائی دیتیں۔ یہاں تک کہ وہ خود کو مشرقی بنگال یعنی موجودہ بنگلہ دیش کی قیادت کے سامنے ایک متبادل انڈین قیادت کے روپ میں پیش کرتیں۔
بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی جیت پر انہوں نے نو منتخب پرائم منسٹر طارق رحمان کو مٹھائیاں اور پھول بھیجتے ہوئے یونین سرکار کے برخلاف امیگریشن پالیسی پر بھی اپنی الگ شناخت کروانی چاہی جیسے انڈین سرکار اور بنگلہ دیش کے بیچ ویسٹ بنگال کوئی بفر اسٹیٹ ہو۔ اور مودی جی بنگلہ دیش سے معاملہ کرتے ہوئے ممتا بنرجی کی اہمیت کو تسلیم کریں۔ اور بھید بھاؤ میں ان کے تعاون پر مجبور ہوں (جاری ہے)۔