ایران میں امن معاہدے کے خلاف آوازیں
ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے دوران ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ایران میں معاہدے کے مخالفین نے باقر قالیباف کے ساتھ ساتھ ملک کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے خلاف بھی نعرے لگائے ہیں۔
اسرائیل نے لبنان کے دار الحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی حزب اللہ کی جانب سے آج کیے گئے حملوں کے جواب میں کی گئی۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر تین راکٹ فائر کیے جو جنگ بندی معاہدے کی ’واضح خلاف ورزی‘ ہے۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا: ’ضاحیہ میں صہیونی حکومت کی دراندازی اور حملے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ یا تو اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کو پورا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا یا پھر اس کے پاس ایسا کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر آپ اپنے وعدوں پر عمل کرنے کی نہ خواہش رکھتے ہیں اور نہ ہی صلاحیت، تو پھر مذاکرات یا کسی بھی عمل کو آگے بڑھانے کی بات کرنا ممکن نہیں رہے گا۔‘
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیلی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ ’نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘
اس دوران ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا دفاع کیا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے ان کے حالیہ بیان کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ ’قومی مفادات کا دفاع کرنا اور مذاکرات کے دائرہ کار میں ملک کی خودمختاری کو برقرار رکھنا صرف حکومت کا طریقۂ کار نہیں ہے، بلکہ نظام کے تمام عناصر اس حوالے سے ایک مشترکہ وژن اور مقصد رکھتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے معاملے میں ایران کے ایک بااختیار ادارے، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری ہی بنیادی معیار ہے۔‘ ایرانی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ مذاکرات کے حوالے سے آخری فیصلہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا ہوتا ہے۔