بیروت حملےپر ٹرمپ کی ناراضی، امن معاہدہ تاخیر کا شکار

  • اتوار 14 / جون / 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں اب بھی یقین ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ آئندہ دو سے تین گھنٹوں کے اندر طے پا سکتا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے مختصر انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار کیا۔

بعد ازاں فاکس نیوز کے نمائندے ٹری ینگسٹ نے تل ابیب سے براہِ راست نشریات کے دوران ٹرمپ کے بیان کی تفصیلات ناظرین تک پہنچائیں۔ ٹری ینگسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے بتایا کہ بیروت پر آج ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بعد ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی۔

رپورٹر کے مطابق گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے اسرائیلی کارروائیوں پر ناراضی اور مایوسی کا اظہار کیا اور سخت لہجے میں وزیراعظم نیتن یاہو سے سوال کیا کہ ’وہ یہ کیا کر رہے ہیں؟‘

ینگسٹ نے مزید بتایا کہ ’ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف مزید حملے نہ کریں تاکہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل اور ممکنہ معاہدہ متاثر نہ ہو۔‘

صدر ٹرمپ کے مطابق ’موجودہ مرحلے پر کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے مذاکراتی پیش رفت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اسی لیے تمام فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔‘

دوسری طرف کریملن نے تصدیق کی ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں یوکرین اور ایران سمیت متعدد اہم بین الاقوامی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

روسی خبر رساں ادارے سپوتنک کے مطابق روسی صدر کے سینئر خارجہ پالیسی مشیریوری اوشاکوف نے بتایا کہ گفتگو کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان زیرِ غور امن معاہدے کے مسودے پر بھی بات چیت ہوئی۔ یوری اوشاکوف کے مطابق صدر ٹرمپ نے گفتگو میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے انتہائی قریب ہے اور اس کا باضابطہ اعلان جلد کیا جا سکتا ہے۔

ادھر ایران کی اعلیٰ سکیورٹی باڈی کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ جنوبی بیروت پر اسرائیلی حملے کے جواب میں ’مجاہدینِ اسلام کا ردِعمل آنے والا ہے۔‘ ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے ایک بیان میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے محمد باقر ذوالقدر نے لبنان کو ایران کی ’شہ رگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران کی سرخ لکیر کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔‘ ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں لبنان میں جاری جنگ کا خاتمہ شامل ہونا ضروری ہے۔