اسرائیلی وزیروں نے ایران امریکہ معاہدہ کو ’نقصان دہ‘ قرار دیا
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو ’اسرائیل اور پوری دنیا کے لیے ’نقصان دہ‘ قرار دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایکس پر اپنے بیان میں سموٹریچ نے کہا کہ ’اسرائیل کو ایرانی حکومت کے خاتمے کے لیے مہم خود جاری رکھنا ہوگی اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔‘ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ مہم نے ایران کو کمزور کرنے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور یہ کامیابیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
اس سے قبل اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے بھی اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم اس معاہدے کے فریق نہیں ہیں کیونکہ یہ ہماری سلامتی کو یقینی نہیں بناتا اور نہ ہی یہ کسی طور پر ہمارے لیے بہتر ہے۔‘
سموٹریچ اور بن گویر دونوں پر برطانیہ اور بعض دیگر ممالک کی جانب سے پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ دونوں رہنماؤں نے فلسطینیوں کے خلاف بارہا تشدد پر اکسانے والے بیانات دیے ہیں۔
اس دوران فرانسیسی صدر ایمانویل میخواں نے کہا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو غیر مؤثر بنایا جانا چاہیے اور انہیں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں رکھا جانا چاہیے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے اعلان کے بعد میکرون نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ باقی ماندہ افزودہ یورینیم کے ذخائر کو مناسب طریقے سے غیر مؤثر بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ’حساس مواد کو یا تو ایران سے باہر منتقل کیا جائے یا اسے کمزور کیا جائے اور پھر اسے مکمل طور پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں رکھا جائے۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے تین روز قبل امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ایران نے اصفہان جوہری تنصیب میں موجود بعض سرنگوں کو تباہ کر دیا ہے اور اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم تک ممکنہ امریکی رسائی روکنے کے لیے سرنگوں کے داخلی راستوں کو بارودی مواد سے بند کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان اقدامات کے باعث ان مواد تک رسائی مزید مشکل اور خطرناک ہو گئی ہے۔
تاہم ایران اور امریکہ کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایران کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کے بعد اس کے جوہری پروگرام اور یورینیم ذخائر سے متعلق مذاکرات دوسرے مرحلے میں داخل ہوں گے۔