جینوا میں ایران امریکا معاہدے کی میزبانی پاکستان کرے گا: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امن کا سورج طلوع ہو گیا، ایران اور امریکا کے درمیان جنیوا میں امن معاہدے کی دستخطی تقریب پاکستان کی میزبانی میں 19 جون کو ہوگی۔
قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج دنیا نے امن کا تاریخی سنگ میل عبور کیا۔ جنگ کے بعد امن کا سورج طلوع ہوگیا ہے، 3 ماہ 16 دن کی بے پناہ آزمائشوں کے بعد ایران،امریکا نے تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے کا اعلان کر دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ تاریخی معاہدے کی باضابطہ تقریب 19 جون کو جنیوا میں ہوگی۔ جنیوا میں ہونے والی تقریب کا میزبان پاکستان ہوگا۔ پاکستانی قوم سمیت عالمی برادری کو اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ایوان کے ہر رکن اور تمام رہنماؤں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف، صدر آصف زرداری، بلاول بھٹو کا مشکور ہوں۔ یہ تاریخی معاہدہ سفارتکاری اور مذاکراتی عمل کی کامیابی ہے، یہ صرف دو ممالک کے درمیان معاہدہ نہیں بلکہ یہ امن اور مکالمے کی فتح ہے، یہ سفارتکاری کی کامیابی ہے اور جنگ کی تباہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ، ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامہ ای، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مشکل حالات میں دانش اور صبر کا مظاہرہ کرنے والی مذاکراتی ٹیم بھی مبارکباد کی مستحق ہے۔ اس کٹھن اور صبر آزما عمل میں امیر قطر تمیم بن حمد کے انتہائی اہم کردار کا معترف ہوں۔انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان کا بھی مشکور ہوں، مذاکراتی عمل کی کامیابی میں عظیم دوست صدر شی جن پنگ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جنگ کے شعلوں کو روک کرامن کیلئے ہماری مخلصانہ کاوشوں کو کامیابی ملی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر کیے بغیر تقریر نامکمل ہے۔فیلڈ مارشل نے جنگ کے شعلے ماند کرنے اورامن کیلئے دن رات کاوشیں کیں، قومیں ایسے قیمتی لمحات کیلئے صدیوں انتظار کرتی ہیں۔وزیراعظم نے ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم کو قومی اسمبلی میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم لمحہ وطن عزیز کے ہر شہری کیلئے باعث فخر ہے۔خلوص، استقامت اور دانشمندی سے اس مشکل مرحلے کا پار کیا۔نائب وزیر اعظم کی امن عمل کیلئے غیر معمولی کوششیں بھی قابل ستائش ہیں۔ معیشت پر دباؤ کے باوجود قوم نے ملک پاکستان کا ساتھ دیا، وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی امن عمل میں اہم امور انجام دیے۔
اس جنگ کے تباہ کن اثرات سے پوری دنیا اور اس کی معیشت لرز گئی اور پاکستان کی معیشت پر بھی بے پناہ اثر آیا جو اب تک جاری ہے۔میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ حکومت اس امن معاہدے کے نتیجے میں عالمی معاشی استحکام کے ثمرات ہر پاکستانی کو پہنچائے گی۔انہوں نے پاکستان کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی پوری قوم کی کامیابی ہے اور آج دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ پاکستان امن، استحکام اور مکالمے کا علمبردار ملک ہے۔
دریں اثنا ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی معاہدہ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ مفاہمت کی یادداشت پر آئندہ جمعہ کو جنیوا میں دستخط کیے جائیں گے۔تہران میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ جنگ کے دوران ایرانی عوام نے بے مثال استقامت، اتحاد اور قربانی کا مظاہرہ کیا۔ اس جنگ میں ایران نے اپنی اعلیٰ قیادت سمیت بڑی تعداد میں اہم شخصیات کو کھویا، جن کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے جنگ کے دوران شہید ہونے والے تمام ایرانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے بہادری سے وطن کا دفاع کیا اور دشمن کی جارحیت کو ناکام بنایا۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ جنگ کے دوران عوام نے حکومت اور ایرانی افواج کا مثالی ساتھ دیا، جس کی بدولت ملک اپنی خودمختاری اور سلامتی کا دفاع کرنے میں کامیاب رہا۔
اسماعیل بقائی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر جمعہ کو جنیوا میں دستخط کیے جائیں گے۔دستخط کی تقریب سے قبل ایرانی حکام ہمسایہ ممالک کے دورے بھی کریں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ لبنان میں جنگ بندی بھی اس معاہدے کا حصہ ہوگی۔ لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے خاتمے اور اس کی خودمختاری کے احترام کو بھی مفاہمت میں شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ امریکا اپنے وعدوں کی تکمیل کے لیے عملی اور مناسب اقدامات کرے گا۔ ایران ہر صورت معاہدے کی مکمل پاسداری کرے گا۔ اسماعیل بقائی نے امن عمل کے لیے کردار ادا کرنے والے دوست ممالک کی سفارتی کاوشوں کو بھی سراہا۔