آزاد کشمیر کا قصہ
- تحریر فاروق عادل
- سوموار 15 / جون / 2026
کشمیر کے حالیہ بحران نے یونیورسٹی کا زمانہ یاد دلا دیا ہے۔ یہ بات 1985 کی ہو گی یا ایک سال بعد کی۔ ٹائم یا نیوز ویک میں ایک رنگین اسکیچ شائع ہوا جس میں چاڈ کے نقشے کے عین وسط میں ایک خنجر گھونپا ہوا دکھایا گیا۔
خنجر کے دستے پر ایک ہاتھ فرانس کا تھا اور ایک لیبیا کا جن کے بارے میں تاثر تھا کہ وہ چاڈ کو تختہ مشق بنائے ہوئے ہیں۔ کچھ دن گئے ہوں گے، کشمیر سے تعلق سے طلبہ سیاست میں متحرک ایک تنظیم نے ایک پمفلٹ شائع کیا جس میں چاڈ کے نقشے کی جگہ کشمیر کا نقشہ دکھایا گیا اور فرانس اور لیبیا کے ہاتھ کی جگہ بھارت اور پاکستان کے ہاتھ خنجر پر دکھائے گئے۔
اس پمفلٹ کی یاد کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں اور ان کے دوران میں کچھ لیڈروں کی طرف سے پاکستان کے بارے میں ان کا رویہ دیکھ کر تازہ ہوئی۔ کشمیر کا پاکستان سے تعلق کیا ہو گا، کشمیر میں اس سوال پر کبھی دو آرا نہیں رہیں۔ گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران میں آزاد کشمیر میں کئی سیاسی جماعتوں کی حکومت رہی ہے۔ ان میں ایک دوسرے سے متضاد نظریات رکھنے والے لوگ بھی شامل رہے ہیں لیکن ان کے درمیان ہمیشہ ایک چیز پر اتفاق رہا ہے۔ یہ اتفاق ایک نعرے پر تھا یعنی کشمیر بنے گا پاکستان۔ یہ نعرہ سردار عبد القیوم خان مرحوم نے دیا تھا جنہوں نے ڈوگرہ راج سے آزادی کے لیے سب سے پہلے مسلح جدوجہد کی ۔ اس شاندار جدوجہد پر قوم نے انہیں مجاہد اوّل کا خطاب دیا۔
آزاد کشمیر میں سیاست ہی نہیں آئین کی اساس بھی یہی نعرہ تھا لیکن اس حقیقت میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ ہمارے اسی کشمیر میں دوسرا نقطۂ نظر رکھنے والے لوگ بھی موجود رہے ہیں جو اسی انداز میں سوچتے تھے جس کی نمائندگی وہ بھولا بسرا پمفلٹ کرتا تھا۔ یہ لوگ موجود تو تھے لیکن آٹے میں نمک کی طرح۔ یہ مثال بھی درست نہیں کہ آٹے میں نمک زیادہ ہوتا ہے۔
2005 کے زلزلے کے آتے آتے خبر ہوئی کہ یہ طبقہ مزید سکڑ گیا ہے۔ آزاد کشمیر میں آنے والی اس قدرتی آفت کے موقع پر اہل پاکستان نے جس محبت سے کشمیر کا دکھ بانٹا، اس پر یاسین ملک نے اہل کشمیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا:
’یاد رکھنا! مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان تمہارے شانہ بہ شانہ کھڑا تھا، کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرتے وقت پاکستان کی یہ قربانی بھول نہ جانا‘۔
اس بیان سے قبل یاسین ملک مقبوضہ کشمیر میں اسی سیاسی طبقے کی نمائندگی کرتے تھے جو سردار قیوم کے دیے ہوئے نعرے پر یقین نہیں رکھتا تھا لیکن اس بیان کے بعد صورت حال بدل گئی اور پاکستان کے بارے میں منفی طرز عمل رکھنے والا طبقہ یوں کہیے کہ سیاسی طور پر ختم ہو گیا۔ یہ تاثر بڑی حد تک درست تھا کیوں کہ یاسین ملک کے اس بیان کے بعد صورت حال واقعی بدل گئی تھی اور آزاد کشمیر کے سیاسی لینڈ اسکیپ پر خود مختار کشمیر کا نعرہ اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ یہاں تک کہ ایکشن کمیٹی کی سرگرمیاں شروع ہو گئیں۔
ایکشن کمیٹی والے کون ہیں، ان کے نعروں اور طرز عمل سے ان کی شناخت مشکل نہیں۔ نظریاتی طور پر یہ وہی لوگ ہیں جو کشمیر کے تعلق سے پاکستان کے بارے میں اچھے جذبات نہیں رکھتے۔ آزاد کشمیر میں ان کی سرگرمیاں اور نعرے ہوں یا بیرون پاکستان خاص طور پر برطانیہ میں ان کے ہم خیال، یہ سب پاکستان کے بارے میں معاندانہ رویہ رکھتے ہیں۔ اس کا اندازہ ایکشن کمیٹی کے اجتماعات اور ریلیوں میں گونجنے والے نعروں اور پاکستانی اداروں کے بارے میں بدزبانی سے ہوا۔ سوال یہ ہے کہ اگر خود مختار کشمیر کے سب سے بڑے علمبردار یاسین ملک پاکستان کے بارے میں ہمدردانہ انداز فکر اختیار کر چکے تھے تو پھر یہ لوگ کہاں سے آ گئے؟ اس بحران کو سمجھنے کے لیے یہ سوال اہم ہے۔ اس ضمن میں دو واقعات بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔
عمران خان پاکستانی سیاست میں ایک نیا مظہر تھے جنہیں تیزی سے مقبولیت ملی۔ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اسے تین حصوں میں تقسیم کر دینے میں ہے۔ وہ اقتدار میں آئے تو 5 اگست 2019 ہو گیا جب مودی کے بھارت نے آئین میں ترمیم کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت میں ضم کر دیا۔ اس پر عمران خان کی حکومت نے زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بھارت نے یہ قدم اس وقت کی پاکستانی حکومت کی رضامندی سے اٹھایا تھا۔ دوسری بات کا تعلق بھی 5 اگست سے ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد کئی بھارتی راہنماؤں نے کہا تھا ہمارا اگلا قدم آزاد کشمیر پر قبضہ ہے۔ 10 مئی کو معرکہ حق میں شکست فاش کھانے والے بھارتی جانتے ہیں کہ وہ ایسا کبھی نہیں کر سکیں گے۔ اس لیے انہوں نے کشمیر کے بارے میں بھی وہی طریقہ اختیار کیا ہے جس پر وہ بلوچستان اور سابق قبائلی علاقوں میں کاربند ہیں یعنی بد امنی اور عدم استحکام کا فروغ۔ ایکشن کمیٹی کی سرگرمیاں اور دیکھی جانے والی بہت سی باتیں، اس شبے کو تقویت پہنچاتی ہے۔ اوّل وہ رجسٹریشن کرا کے سیاسی عمل میں شریک نہیں ہونا چاہتے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ کشمیری عوام انہیں مسترد کر دیں گے۔ دوسرے ان کی طرف سے بعض راہ نماؤں نے علی الاعلان کہا کہ وہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کی ریلیاں بھی واضح ثبوت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن افغانستان میں موجود ان کے ایک لیڈر شہزاد کی تو بات چیت بھی سامنے آ گئی ہے جس میں اس نے دو ٹوک الفاظ میں ایکشن کمیٹی والوں سے کہا ہے کہ الیکشن کسی صورت میں نہیں ہونے دینے۔
ان کے منفی عزائم کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ ان میں شامل بہت سے لوگ مسلح تھے اوران کے ہاتھ خون سے بھی رنگے جا چکے تھے۔ کمیٹی کے اور راہ نما شوکت میر کی اپنے لوگوں کی گفتگو سے بھی حقیقت واضح ہو گئی ہے۔ ان کے منفی عزائم کا اندازہ اس بیان سے بھی ہوتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر مہاجرین کشمیر کی نشستیں ختم بھی کر دی گئیں تو ان کے مطالبات اس سے بھی آگے چلے جائیں گے۔ یہ سب حقائق واضح کرتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے اس بحران کے ڈانڈے مودی حکومت کے ان ہی ناپاک عزائم سے ملتے ہیں جن کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملے سے نمٹنے کے لیے احتیاط کی جائے اور ہر فیصلہ نہایت غور و فکر اور ٹھنڈے دل سے کیا جائے۔
حرف آخر یہ کہ اس ضمن میں ریاست کو اپنی غلطیوں پر بھی نگاہ رکھنی ہو گی جن کی وجہ سے ایسے لوگوں کے پنپنے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ اس ضمن میں کہنے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ ریاست کی رٹ مضبوط رکھنے کے ساتھ ساتھ بحرانوں سے نمٹنے کے لیے سیاست کو موقع دیا جائے تو ان کا حل آسان ہو جاتا ہے۔ دیگر سب صورتیں مسائل کو پیچیدہ کر دیتی ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکپریس نیوز)