پنجاب دا حق، ایتھے رکھ
- تحریر عمار مسعود
- سوموار 15 / جون / 2026
یقین مانیے، ساری عمر گزر گئی، نہ ملکی سیاست کو صوبائیت کی نظر سے دیکھا، نہ علاقائی سوچ کو پنپنے دیا۔ نہ تعصبات کو ہوا دی، کسی علاقے کو برا کہا، نہ کسی کی زبان کو کمتر سمجھا۔
نہ کسی کے لہجے کی تضحیک کی، نہ کبھی کسی کے رہن سہن کا تمسخر اڑایا۔ قومی سوچ رکھی۔ قومی زبان میں بات کی۔ پاکستان کو گلدستہ کہا۔ چاروں پھولوں کی الگ الگ خوشبو اور رنگ کو تسلیم کیا۔ اس کو خوبی قرار دیا۔ خامی کبھی نہیں بتائی۔ آپس میں اختلاف کی بات کبھی نہیں کی۔ سوچ کو قومی رکھا۔ نظریے کو سبز پرچم سے مربوط رکھا۔ سب کے ساتھ چلنے کی بات کی۔ مل جل کر رہنے کی حمایت کی۔ گلشن کی رنگینی کے قصیدے پڑھے۔ ہر ایک پھول کی تقطیع سے پرہیز کیا۔ کانٹوں کے ذکر سے اجتناب برتا۔ رخنے ڈالنے والوں کو تنبیہ کی۔ اختلاف پھیلانے والوں کو نظر انداز کیا۔ سب کو ایک سا کہا، سب کو ایک سا سمجھا۔ وطن صرف اس ارضِ پاک کو کہا، یہ لفظ کسی اور علاقے کے لیے استعمال نہیں کیا۔
یاد ہوگا آپ کو کہ جب پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے بلوچستان میں قیامِ امن اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرائض انجام دینے والی سیکیورٹی فورسز کے لیے 10 ارب روپے کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ بلوچستان کے 460 مستحق طلبا کے لیے پنجاب میں وظائف کا اعلان کیا۔ سب نے بہت تالیاں بجائیں اور کہا کہ یہ بڑے بھائی کا فرض تھا کہ چھوٹے بھائیوں کا خیال رکھے۔ ان کی اعانت کرے۔ ان کے دکھ درد بٹائے۔ ان کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھائے۔ یہ 10 ارب روپے پنجاب کی سیکیورٹی فورسز کی امانت تھے۔ یہ وظائف پنجاب کے بچوں کا حق تھے مگر ہم سب اس پر خاموش رہے۔ کسی نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔
موجودہ بجٹ آپ کی نظر سے گزرا ہوگا۔ مدت سے یہ بحث ہو رہی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کی وجہ سے صوبے امیر ہو رہے ہیں اور وفاق غریب ہو رہا ہے۔ گالی وفاق کو پڑ رہی ہے اور فائدے صوبے اٹھا رہے ہیں۔ اس موقع پر صوبوں سے وفاق کی خاطر آرٹیکل 164 کے تحت رقم جمع کروانے کا وعدہ لیا گیا۔ سب نے حصہ ڈالا۔ لیکن کسی نے یہ بات نہیں کی کہ وفاق کو دیے جانے والے 1035 ارب میں سے آدھے سے زیادہ پنجاب کا وعدہ پنجاب نے کیا۔ بلوچستان نے اس مد میں ایک روپیہ بھی نہیں دیا۔ یہ 700 ارب روپے پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں سے دیے گئے۔ یہ پنجاب کا حق تھا مگر پنجاب نے وفاق کی خاطر اپنے پیٹ پر لات مار دی۔ سب نے تالیاں بجائیں، کسی نے اختلاف نہیں کیا۔ سب کہنے لگے یہ بڑے بھائی کا فرض تھا۔
گلگت بلتستان کا الیکشن آپ کی نظر سے گزرا۔ پیپلز پارٹی نے اب تک 10 اور ن لیگ نے 6 نشستیں حاصل کیں۔ 2 آزاد امیدوار ن لیگ کے حمایت یافتہ تھے۔ ان کی کل نشستوں کی تعداد 8 ہو گئی۔ 8 اور 10 کے درمیان فرق بہت کم ہے۔ ن لیگ پنجاب کی جماعت ہے۔ پنجاب کے ووٹوں سے اس کی اہمیت ہے۔ یہ چاہتی تو یہاں پر اپنی حکومت کی تگ و دو کر سکتی تھی۔ اپنے ووٹر کے جذبے کا احترام کر سکتی تھی۔ خرم دستگیر کہتے رہے کہ ہماری حکومت سہولت سے بن سکتی ہے۔ مگر ن لیگ کے وزیر اعظم نے فوراً پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کا مشورہ دے دیا، جیسے ان کی حمایت میں آئے ووٹ کوڑے کا ڈھیر ہوں۔ محاورہ پھر وہی سنا ہے کہ بڑے بھائی کا فرض ہے۔ چھوٹے صوبوں کا ہاتھ بٹائے۔ ان کا حوصلہ بڑھائے۔
یہ چند ایک مثالیں ہیں، ویسے تو بڑے بھائی کی قربانیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ ہم نے ہمیشہ یہ درس دیا کہ دوسروں کا ہاتھ بٹانا بڑے بھائی کا فرض ہے۔ لیکن جن کے سامنے ہم نے یہ فرض ادا کیا، کیا انہوں نے چھوٹے بھائی ہونے کی ذمہ داریاں نبھائیں؟ کیا انہوں نے ذمہ داریاں پوری کیں؟ یہ تو درست ہے کہ پنجاب اپنا پیٹ کاٹ کر بلوچستان کی مدد کرے مگر یہ کہاں درست ہے کہ بلوچستان میں بسوں سے شناختی کارڈ دیکھ دیکھ کر پنجابیوں کو قتل کیا جائے۔ ان سے نفرت کا سبق بچوں کو پڑھایا جائے۔ اختلاف کے بجائے ریاست سے انحراف کا درس نئی نسل کو دیا جائے۔
یہ تو درست ہے کہ 2013 کے انتخابات میں ن لیگ چاہتی تو کے پی کے میں اپنی حکومت بنا سکتی تھی مگر نہیں بنائی کہ بڑے بھائی نے فرمایا کہ چھوٹے بھائی نے جس جماعت کو اکثریتی ووٹ دیا اسی کو حکومت بنانے دی۔ لیکن چھوٹے بھائی نے کیا؟ سب سے زیادہ گالی پنجاب کو دی۔ عمران خان نے صوبائی تعصب کو ہوا دی۔ پنجاب میں رہنے والوں نے آج تک پاکستان کے سوا کسی اور خطے کو وطن نہیں کہا۔ اور کے پی کے میں ایسے گروہ موجود ہیں جو افغانستان کو فخر سے وطن کہتے ہیں۔ وہاں اب بھی لر و بر کے فلسفے سمجھانے والے موجود ہیں۔
پنجاب کو بزدلی کا طعنہ دیا گیا۔ محکومی کا الزام لگا۔ کسی نے قربانیوں کا ذکر نہیں کیا۔ ہر جنگ پنجاب میں لڑی گئی۔ ٹینکوں کے نیچے پنجابیوں نے جانیں دیں۔ ہر جمہوریت پسند کا استقبال اس نے کیا۔ ہر آمر سے ڈٹ کر مقابلہ پنجاب نے کیا۔ بھٹو نے آخری جلسہ کیا تو پنجاب میں کیا۔ بے نظیر کا استقبال کیا تو لاہور نے کیا۔ نواز شریف کے لیے لوگ نکلے تو پنجاب سے نکلے۔ ہاں، یہ ضرور ہے، پنجاب نے وفاق کی اکائی سے کبھی انکار نہیں کیا۔ تقسیم کی بات کبھی نہیں کی۔ پاکستان کے اتحاد پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ کبھی شناختی کارڈ کے بل پر سیاست نہیں کی۔ کبھی ڈومیسائل کا نعرہ نہیں لگایا ۔ کبھی کسی دوسرے صوبے کا حق نہیں مارا۔
ایک اور المیہ سن لیں۔ سب صوبوں کے لوگ جب ملتے ہیں اپنی زبان میں گفتگو کرتے ہیں۔ پٹھان پشتو بولتے ہیں، بلوچستان کے لوگ بلوچی میں حال احوال کرتے ہیں۔ سندھی اپنی زبان میں ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہیں۔ یہ احساسِ کمتری صرف پنجاب کو عطا کیا گیا کہ اگر تم اپنی زبان بولو گے تو جاہل، اجڈ کہلاؤ گے۔ تم نے اپنی زبان سے اجتناب کرنا ہے۔ اپنے کلچر پر خود ہنسنا ہے۔ خود احساسِ کمتری میں مبتلا رکھنا ہے۔ کتنی بدقسمتی ہے کہ یہ احساسِ کمتری اس زبان اور معاشرت کے بارے میں ہے جس کے پیچھے بابا فرید، بلھے شاہ، شاہ حسین اور وارث شاہ جیسے صوفیا کا سایہ ہے۔ اس زبان کے بارے میں احساسِ تفاخر تو ہونا چاہیے، کمتری نہیں۔
اب اگر کوئی اس ملک میں بڑے بھائی کے فرائض بتائے تو اس ناصح سے کہیں کہ وہ چھوٹے بھائیوں کو ان کی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کرے۔ ورنہ ایک دن پنجابیوں نے سرِ عام کہہ دینا ہے: پنجاب دا حق، ایتھے رکھ۔
(بشکریہ: وی نیوز)