’میں نے وزیراعظم نہیں بننا‘
- تحریر حامد میر
- سوموار 15 / جون / 2026
ایک روایتی سیاستدان اور وطن کی آزادی کیلئے لڑنے والے میں کیا فرق ہوتا ہے؟ یہ فرق سمجھنے کیلئے کشمیر کے دو کرداروں پر نظر ڈالئے۔ ایک کا نام فاروق عبداللہ ہے جو منافقانہ سیاست کا ایک چلتا پھرتا شاہکار ہے۔ دوسرا مقبول بٹ ہے جو دنیا بھر میں کشمیر کی تحریکِ آزادی کا استعارہ ہے۔
سرینگر سے مظفرآباد تک ہر چوک اور چوراہے کے درودیوارپر آپ کو مقبول بٹ شہید کی تصویر نظر آئےگی۔ کہاں مقبول بٹ شہید اور کہاں فاروق عبداللہ؟ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایک ہیرو دوسرا ولن۔ لیکن کیسی ستم ظریفی ہے کہ آج نیشنل کانفرنس کا صدر فاروق عبداللہ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل سے مطالبہ کر رہا ہے کہ پاکستان کے زیرِانتظام آزادکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں۔ یہ وہی فاروق عبداللہ ہے جو 1984 میں بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر کا وزیراعلیٰ تھا۔ 6 فروری 1984 کو ریاستی اسمبلی کا اجلاس سرینگر میں جاری تھا۔ بھارتی وزارتِ داخلہ کا ایک اعلیٰ افسر پی پی نائر ہوائی جہاز کے ذریعے دہلی سے سرینگر آیا اور ایئر پورٹ سے اسمبلی چیمبر میں فاروق عبداللہ کے پاس پہنچ گیا۔ پی پی نائر نے فاروق عبداللہ کے سامنے تہاڑ جیل میں قید مقبول بٹ کا ڈیتھ وارنٹ رکھا اورکہا اس پر دستخط کیجئے۔ صرف تین دن قبل 3 فروری 1984 کو برطانیہ کے شہر برمنگھم میں ایک بھارتی سفارتکار روندرا مہاترے کو اغواکر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے مہاترے کے قتل کا انتقام لینے کیلئے تہاڑ جیل میں 1976 سے قید مقبول بٹ کو پھانسی پر لٹکانے کا فیصلہ کر لیا۔
مقبول بٹ کے ڈیتھ وارنٹ (بلیک وارنٹ) پر دستخط کرانے کیلئےجموں کے ایک سیشن جج ٹھاکر پوتر سنگھ کو بھی فاروق عبداللہ کے چیمبر میں طلب کیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ کے دستخط کے بعد سیشن جج نے بھی موت کی اس دستاویز پر دستخط کر دیئے۔ مقبول بٹ کو پھانسی دینے کیلئے گیارہ فروری بروز ہفتہ صبح ساڑھے سات بجے کا وقت مقرر ہوا۔ ذرا غور کیجئے! 3 فروری 1984 کو برمنگھم میں روندرا مہاترے قتل ہوا اور صرف 8 دن کے بعد گیارہ فروری 1984 کو فاروق عبداللہ کی منظوری سے مقبول بٹ کو پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا گیا۔ آج وہی فاروق عبداللہ اقوام متحدہ سے آزادکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہا ہے۔ فاروق عبداللہ کا یہ بیان پڑھ کر مجھے ایسالگا کہ کوئی بوڑھا مگر مچھ آنسو بہا رہا ہے۔
آزادکشمیر کی موجودہ صورتحال پر آج کل بہت سے مگرمچھ آنسو بہا رہے ہیں۔ مجھ گستاخ کو آزادکشمیر اور پاکستان کے کچھ سیاست دانوں کے چہروں میں بھی فاروق عبداللہ کا عکس نظر آ رہا ہے۔ ان روایتی سیاستدانوں کے غلط فیصلوں اور متنازعہ بیانات سے پیدا ہونے والی صورتحال سے کشمیریوں اور پاکستان کے مشترکہ دشمن اپنے فائدے تلاش کر رہے ہیں۔ مجھے ان سیاستدانوں اور ان کے سرپرستوں کو صرف اتنا یاد کرانا ہے کہ جن مشکلات اور جسمانی تشدد کا سامنا مقبول بٹ نے کیا آپ اُس کا تصوربھی نہیں کر سکتے۔ مقبول بٹ چاہتے تو بھارتی حکومت سے سمجھوتہ کرکے اپنی جان بچا سکتے تھے۔ وہ چاہتے تو آزادکشمیر کے صدر یا وزیراعظم بھی بن سکتے تھے لیکن انہوں نے حکومتی عہدوں کی بجائے ہمیشہ کشمیر کی آزادی کو مقدم رکھا۔ اس جرم میں بھارتی حکومت سے مارکھائی اورپاکستان سے بھی مار کھائی۔
آج کل میں کشمیریوں کے جلسے جلوسوں میں کچھ عناصر کو پاکستان کے خلاف نعرے لگاتے دیکھتا ہوں تو مقبول بٹ کے حوصلے کو داد دینے پر مجبور ہو جاتا ہوں۔ مقبول بٹ کے ساتھ لاہور کے شاہی قلعہ میں جو ظلم و تشدد ہوا اس کا ایک فیصد بھی کسی پاکستانی سیاستدان کے ساتھ نہیں ہوا مگر اسکے باوجود مقبول بٹ نے کبھی پاکستان کے خلاف بات کی نہ کوئی نعرہ لگایا۔ مقبول بٹ 1958 میں بھارت مخالف سرگرمیوں کے باعث پولیس کو مطلوب تھے لہٰذا سرینگر سے ہجرت کرکے پشاور میں آباد ہوئے ۔ 1960 میں انہوں نے آزادکشمیر کے بلدیاتی انتخابات میں پشاور سےمہاجروں کی نشست پر حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ کشمیر کی آزادی کیلئے کشمیریوں کو خود جدوجہد کرنا ہو گی۔ جون 1966 میں وہ تحریک مزاحمت کو منظم کرنے مقبوضہ کشمیر چلے گئے اور گرفتار ہو گئے۔ دسمبر 1968 میں وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سرینگر جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
برف سے لدے پہاڑوں پر کئی دن کا سفر طے کر کے آزادکشمیر پہنچے تو انہیں بھارتی جاسوس قرار دے کر گرفتار کر لیا گیا۔ مظفرآباد میں کئی ماہ تک تفتیش کے نام پر تشدد سہتے رہے اور 1969 میں رہا ہوئے۔ جنوری 1971 میں اُن کے دو ساتھیوں ہاشم قریشی اور اشرف قریشی نے ایک بھارتی طیارہ گنگا اغوا کیا اور اسے لاہور لے آئے۔ اس ہائی جیکنگ کا مقصد صرف اور صرف مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا تھا۔ مقبول بٹ اور اُن کے ساتھیوں نے اغوا شدہ طیارے کے مسافروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا لیکن جنرل یحییٰ خان کی حکومت نے انہیں گرفتار کرکے شاہی قلعہ میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ تشدد کا مقصد صرف یہ اعتراف کرانا تھا کہ ہم بھارتی ایجنٹ ہیں۔ اغوا کا منصوبہ بھارت نے تیار کرایا لیکن مقبول بٹ سمیت اشرف قریشی، ہاشم قریشی، جی ایم لون، میر عبدالقیوم، میر عبدالمنان، عبدالخالق انصاری اور پیرزادہ غلام مصطفی علوی نے ایسا کوئی اعترافی بیان نہیں دیا۔
ان سب پر پاکستان کے عقوبت خانوں میں ظلم و ستم کی کہانیوں کو محمد سعید اسعد نےاپنی کتاب ”دیوانوں پر کیا گزری“ میں محفوظ کر دیا ہے۔ اس کتاب کے مطابق آزادی کے ان دیوانوں میں سے کسی کو زبردستی پیشاب پلایا گیا کسی کے منہ میں فضلہ ٹھونسا گیا۔ مقبول بٹ کی اہلیہ کو گرفتار کر کے شاہی قلعے میں لایا گیا لیکن مقبول بٹ نے کبھی اس ظلم کا بدلہ لینے کیلئے پاکستان کو گالی نہ دی۔ مقبول بٹ نے 2اپریل 1973 کو کیمپ جیل لاہور سے جی ایم میر کی بیٹی عذرا میر کے نام اپنے خط میں لکھا کہ ہمارے ساتھ پاکستان میں جو ہوا وہ پاکستان کے حکمران ٹولے نے کیا، عام پاکستانیوں نے نہیں کیا۔ پاکستان کے اصل مالک تو یہاں کے عوام ہیں اور حکمران ٹولہ تو ان پر بھی گولیاں برساتا ہے۔ مقبول بٹ نے اپنی بھتیجی کے نام خط میں لکھا کہ پاکستان کے عوام ہمارے اصلی دوست اور بھائی ہیں اور یہ کبھی ہمیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ مقبول بٹ کا یہ خط اُن کی کتاب” شعور فردا“ میں محفوظ ہے جس پر 1998 میں نواز شریف کی حکومت نے پابندی عائد کردی تھی۔
پاکستان کے حکمرانوں کو یاد کرانا ہے کہ 1975 میں مقبول بٹ نے آزادکشمیر اسمبلی کے انتخاب میں مہاجرنشست سے حصہ لیا تھا۔ اُس وقت مرکز میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے انہیں الیکشن سے دستبردار کرانے کیلئے بہت دباؤ ڈالا۔ مقبول بٹ کے انکار کے بعد انہیں ایبٹ آباد اور شنکیاری کے پولنگ اسٹیشنوں پر دھاندلی سے ہرا دیا گیا۔ اشرف قریشی نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ رہائی کے بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے میرپور میں اُن کی موجودگی میں مقبول بٹ کو آزادکشمیر کی وزارتِ عظمیٰ پیش کی۔ شرط صرف یہ رکھی تھی کہ مقبول بٹ پیپلزپارٹی میں شامل ہو جائیں۔ مقبول بٹ نے بھٹو کو جواب دیا تھا کہ جناب میں نے وزیراعظم نہیں بننا بلکہ میں نے کشمیر کو آزاد کرانا ہے۔
انہوں نے اسمبلی کا الیکشن بھی اپنا مؤقف اجاگر کرنے کیلئے لڑا۔ مہاجر نشست پر دھاندلی کا شکار ہونے والا مقبول بٹ آج آرپار کے کشمیریوں کا بابائے قوم ہے۔ بٹ صاحب 1976 میں سب عہدے ٹھکرا کر کشمیر آزاد کرانے دوبارہ سرینگر چلے گئے اور گرفتار ہوکر تہاڑ جیل پہنچ گئے۔ ایک روایتی سیاستدان اور حریت پسند میں یہی فرق ہے۔ روایتی سیاستدان وزیراعظم بننے کیلئے فاروق عبداللہ کی طرح اپنا ضمیر بیچ دیتا ہے۔ ایک سچا حریت پسند اپنے وطن کی آزادی اور خودمختاری کیلئے مقبول بٹ کی طرح وزیراعظم بننے سے انکار کر دیتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)