ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا، اسرائیل کو ذمہ داری دکھانا چاہئے: ٹرمپ

  • منگل 16 / جون / 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ’کامیاب ہونا چاہیے‘ اور ان کو توقع ہے کہ اس معاہدے کا دوسرا مرحلہ ’نسبتاً آسان ہوگا۔‘ فرانس میں جی سیون اجلاس کے دوران قطر کے امیر شیخ تميم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران میں سرمایہ نہیں لگائے گا۔ ایسے دعوے مضحکہ خیز ہیں۔

ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے میں قطر کی مدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’قطر نے جس طرح سے چیزوں کو ہینڈل کیا ہے اس سے ہم بہت متاثر ہوئے ہیں۔‘ قطر اور قطر کے لوگوں کے ساتھ کام کر کے بہت اچھا لگا۔ آپ کو معلوم ہے یہ ایران سے بہت قریب واقع ہے۔

اس موقع پر قطر کے امیر کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے معاہدے کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ ’مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم وقت پر میں آپ کی قیادت کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ایک اہم معاہدہ ہے، اس پر اب بہت سا کام ہونا باقی ہے۔ لیکن جس طرح ہم کام کر رہے ہیں اگر اسی طرح سے کرتے رہے تو میرے خیال میں ہم خطے میں بہت سی عظیم چیزیں حاصل کر سکتے ہیں۔‘

خیال رہے امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ اس نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹلی دستخط کر دیے ہیں اور دستخط کی باضابطہ تقریب جنیوا میں 19 جون کو ہوگی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان اس معاہدے کا اعلان پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کیا تھا اور ایران بھی اس کی تصدیق کر چکا ہے۔

لیکن گزشتہ ہفتے بھی امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے تھے۔ اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں ایران پر گزشتہ ہفتے حملہ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔‘

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ایران کے پاس اب ’سمجھدا قیادت‘ ہے کیونکہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں متعدد ایرانی حکام ہلاک ہو گئے تھے۔ وہ ایرانی رہنما جو نا سمجھ تھے وہ اب موجود نہیں رہے۔

امریکی صدر کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے تحت وہ جوہری ہتھیار نہیں حاصل کر سکتا اور اگر ایسا کیا تو ’ُڑا دیا جائے گا۔ یہ معاہدہ جوہری ہتھیار کے خلاف ایک دیوار ہے۔ میرے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے اور یہ معاہدہ اس بات کو واضح کرتا ہے۔

قطر کے امیر سے ملاقات کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے امریکی صدر نے اسرائیل پر بھی تنقید کی۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ معاہدے پر دستخط سے دو گھنٹے قبل اسرائیل کا بیروت پر حملہ انہیں پسند نہیں آیا۔ میں نے انہیں یہ بتا دیا تھا۔ مجھے یہ بالکل پسند نہیں آیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل کے لبنان پر کسی حملے کی صورت میں ایران کے ساتھ معاہدہ برقرار رہ پائے گا، تو ان کا کہنا تھا کہ ’بالکل رہ سکتا ہے۔‘ میں اسے ایک چھوٹی جنگ سمجھتا ہوں۔ ایران بڑی چیز تھی، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک چھوٹا سے کانٹا بھی ہے جو بار بار اپنا سر اُٹھاتا ہے اور وہ حزب اللہ ہے۔

امریکی صدر نے کہا امریکہ کے بغیر اسرائیل بھی نہیں ہوتا۔ میرے بغیر اسرائیل بھی نہیں ہوتا کیونکہ کسی اور امریکی صدر نے وہ نہیں کیا جو میں نے کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا نیتن یاہو کے ساتھ اچھا تعلق ہے لیکن  اسرائیلی وزیرِ اعظم کو لبنان کے حوالے سے مزید ذمہ داری دکھانی ہو گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق اسرائیل حزب اللہ کے ساتھ لمبے عرصے سے لڑ رہا ہے اور بہت سارے لوگ مارے جا چکے ہیں۔ آپ ہر دفعہ کسی شخص کو ڈھونڈنے کے لیے پوری رہائشی عمارت نہیں گِرا سکتے کیونکہ عمارت میں بہت سارے لوگ ہوتے ہیں اور ان سب کا تعلق حزب اللہ سے نہیں ہوتا۔ میں نے اسرائیل کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شام کو حزب اللہ سے نمٹنے دیں کیونکہ میں ایمانداری سے کہوں کہ وہ یہ کام زیادہ بہتر طریقے سے کر رہے ہیں۔

دوسری طرف ایران نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران کے نقطۂ نظر سے اس معاہدے کا ایک فریق ایران اور حزب اللہ، جبکہ دوسرا فریق امریکہ اور اسرائیل ہیں۔

عباس عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں اپنے فوجیوں کے قریب آنے والے شدت پسندوں کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب لبنان کی حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی افواج پر میزائل اور ڈرون سے حملے کیے ہیں۔

یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ طے پانے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے کہا تھا کہ لبنان میں قائم ’سکیورٹی زونز‘ میں اس کی افواج تعینات رہے گی۔