آزاد کشمیر کی کالعدم ایکشن کمیٹی غیرملکیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے: وزیر دفاع
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ’تانے بانے ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جن کے پاس برطانوی شہریت ہے‘ یا انہیں انڈیا کی حمایت حاصل ہے۔
منگل کو قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس بات پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔‘ انہوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر حکومت کو ’بلیک میل‘ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کسی ’ہجوم کو، کسی جلسے جلوس کو اس بات کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔‘
خیال رہے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ آٹھ دنوں سے ہڑتال جاری ہے اور کالعدم تنظیم کا مطالبہ ہے کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستیں ختم کی جائیں اور اس پر سے پابندی ہٹائی جائے۔
پاکستانی وزیرِ دفاع نے کہا کہ ’مہاجروں نے خون کے ساتھ قیمت ادا کی ہے، جب انہوں نے سرحد پار کی تو وہ سجدے میں چلے گئے اور کہا جا رہا ہے کہ ان کی نشستیں ختم کر دو۔‘ آپ لوگ کیسے ان لوگوں کے حقوق سلب کر سکتے ہیں جنہوں نے آزادی کے لیے اتنی بڑی قیمت ادا کی ہے؟ آپ ایسا نہیں کر سکتے وہ بھی صرف اس لیے کہ ایک بیرونی فنڈنگ سے چلنے والی تنظیم کہہ رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں انتخابات ہونے دیے جائیں اور لوگوں کو فیصلہ کرنے دیا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ آزاد کشمیر میں فارن فنڈڈ تنظیم مہاجرین نشستوں پر بلیک میل کر رہی ہے، مہاجر نشستوں کا فیصلہ آزاد کشمیر کے عوام اور مہاجرین کو کرنے دیا جائے۔وزیر دفاع نےکہا کہ افواجِ پاکستان نے اپنے سے 5 گنا بڑے دشمن کو شکست دی، اسد قیصر کے گھر قانون سازی کیلئے میٹنگ میں شریک ہوا۔ ہمارے جوانوں کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے جوان قربانیاں دے رہے ہیں، بچے یتیم ہو رہے ہیں، افغانستان سے دہشتگردی کے مسئلے پر پوائنٹ سکورنگ نہیں ہونی چاہئے۔ہمارے جوان ان کےہاتھوں شہید ہو رہے ہیں جن کی برسوں میزبانی کی۔ ایران پر پابندیوں میں نرمی پاکستان اور بلوچستان کیلئے فائدہ مند ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایوان میں ایک دوسرے پر بے بنیاد الزام تراشی نہیں ہونی چاہئے۔ ایوان کا تقدس کسی صورت پامال نہیں ہونا چاہئے۔پاکستان کو بڑی سفارتی کامیابی حاصل ہوئی، ایران ، امریکا معاہدے سے پاکستان کے وقار میں مزید اضافہ ہوا۔ پاکستان نے سفارتی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، پاکستان کا نام اونچا ہونا سب پاکستانیوں کیلئے باعث فخر ہے۔مودی بھی صدر ٹرمپ کو مبارکباد دے رہا تھا، مودی میں ہمت نہیں کہ پاکستان کا شکریہ ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ قوموں کی تاریخ میں ایسے لمحات بڑی مدت کے بعد آتے ہیں۔ بلوچستان میں امن کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہے۔ پاکستان نے 40 سال افغان مہاجرین کی میزبانی کی، افغانستان کے ساتھ دہشتگردی کے معاملے پر مذاکرات کیے۔ قطر اور ترکیہ کے ذریعے بھی مذاکرات ہوئے لیکن نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔