گدھے بھی کالم کے حقدار ہیں
- تحریر خالد مسعود خان
- منگل 16 / جون / 2026
گزشتہ روز اخبار میں یہ خبر پڑھ کر خوشی ہوئی کہ پاکستان میں گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور تازہ ترین گدھا شماری کے مطابق (اس گدھا شماری کو مردم شماری سے الگ سمجھا جائے) پاکستان میں ایک سال کے دوران گدھوں کی تعداد 60 لاکھ سے بڑھ کر 62 لاکھ ہو گئی ہے ۔یعنی گزشتہ ایک سال کے دوران ملکِ عزیز میں دو لاکھ گدھوں کا اضافہ ہوا ہے۔
میں ذاتی طور پرگدھوں کی تعداد میں اس اضافے پر خوش ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گدھے بڑے معصوم اور بے ضرر جانور ہیں۔ انتہا سے زیادہ تنگ کرنے کی صورت میں بھی محض ایک آدھ دولتی جھاڑ کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اس ملک میں انسانی آبادی میں روز افزوں اضافہ تو اس ملک کی معیشت پر بوجھ بن رہا ہے کیونکہ آبادی میں اس اضافے سے کام کرنے والوں کے بجائے مانگنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسی صورت میں مجھے گدھا اس لیے پسند ہے کہ صابر اور شاکر ہونے کے ساتھ ساتھ گدھا نہایت محنتی اور کام کا شوقین جانور ہے۔ نفی ٔذات کا یہ عالم ہے کہ اپنے کمائے ہوئے رزقِ حلال میں سے خود کم کھاتا ہے اور اپنے مالک کو زیادہ کھلاتا ہے۔ میں گدھے کی اس خوبی کا موازنہ کسی بڑے آدمی سے نہیں کروں گا کہ وہ اسے اپنی ذات پر حملہ تصور کرتے ہوئے بات کو کہیں اور لے جائے گا۔
گدھا بنیادی طور پر ایک نہایت شریف النفس جانور ہے، پٹتا ہے مگر ہمارے عوام کی طرح بولتا نہیں۔ اللہ جانے گدھا اس معاملے میں ہمارے عوام پر گیا ہے یا عوام گدھے پر گئے ہیں۔ تاہم دونوں کا مزاج اس معاملے میں ایک جیسا ہی ہے۔ کسی نے گدھے کو کہا کہ تمہیں رات کو چور کھول کر لے جائیں گے، گدھے نے گھٹیا کوالٹی کے گھاس کو کھاتے ہوئے سر اٹھائے بغیر مخاطب کو کہا کہ مجھے اس چیز کی رتی برابر بھی کوئی فکر نہیں کہ مجھے رات کو چور لے جائیں گے۔ میں یہاں ریڑھا کھینچتا ہوں اور شام کو گھاس کھاتا ہوں۔ چور بھی مجھ سے ریڑھا ہی کھنچوائے گا اور گھاس بھی بہرحال ڈالے گا۔ گدھے میں بہت سی ایسی خوبیاں ہیں جس سے اگر ہم انسان کچھ سیکھ سکیں تو اس ملک میں بڑی بہتری پیدا ہو سکتی ہے۔ گدھا محنت کر کے کماتا ہے اور اپنی حق حلال کی کمائی میں سے تھوڑا سا خود کھاتا ہے اور اُس سے کہیں زیادہ اپنے مالک کو کما کر کھلاتا ہے۔ سردی،گرمی، دھوپ اور چھاؤں میں جان توڑ قسم کی محنت اور مشقت کرتا ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پیسوں کے انتظار میں گھنٹوں قطار بنا کر کھڑا نہیں رہتا، بینکوں کے باہر قطار نہیں لگاتا۔ گدھے کے اخلاقی اور معاشی معاملات کافی حد تک ہم سے بہتر ہیں۔
میں نے شاہ جی سے ایسے ہی ازراہِ تفنن گدھوں کے تعداد میں دو لاکھ اضافے کا ذکر کیا تو انہوں نے آگے سے ہمیشہ کی طرح پخ ڈالتے ہوئے اصل بات کے بجائے ادھر اُدھر کی سنانی شروع کر دی۔ کہنے لگے کہ یار پہلی بات تو یہ ہے کہ جس ملک میں ابھی تک انسانوں کی گنتی ٹھیک طرح سے نہیں ہو سکی وہاں گدھوں کی گنتی کے بارے میں اتنے یقین سے کہنا کہ یہ 60لاکھ سے 62لاکھ ہو گئے ہیں، بالکل غلط ہے۔ میں یہ دعویٰ اس لیے بھی کر سکتا ہوں کہ اُدھر قصبے میں کل ہی میرے ہمسائے کی گدھی نے ایک بچہ جنا ہے۔ اگر یہ مردم شماری اتنی درست ہوتی تو یہ اب 62لاکھ کے بجائے 62لاکھ ایک گدھا ہو چکی ہوتی کیونکہ گدھے کا بچہ بھی دراصل ایک چھوٹا گدھا ہی ہوتا ہے۔ اس ملک میں سارے اعداد و شمار محض تُکے کی بنیاد پہ چل رہے ہیں۔ مردم شماری، خانہ شماری اور زرعی اجناس کے پیداواری اعداد و شمار سب کے سب غلط بیانی، جھوٹ اور خود ساختہ مفروضوں پر مبنی ہیں۔ یہ سب دفتروں میں بیٹھ کر بنائے ہوئے ہیں۔ گدھے کا تو کوئی باقاعدہ ٹھور ٹھکانہ بھی نہیں ہوتا کہ گدھا شماری والے عام مردم شماری کی طرح اس کے گھر جا کر پوچھیں کہ گدھے بھائی جان آپ کے کتنے بہن بھائی ہیں،کتنے بچے ہیں، آپ کا ب فارم بنا ہے یا نہیں اور اگر بنا ہے تو اس میں کتنے لوگوں کا اندراج ہے۔ والد صاحب حیات ہیں یا فوت ہو گئے ہیں؟
تم خود بتاؤ کہ سڑکوں پہ گھومنے والے گدھوں کو کون گنتا ہے؟ اپنی ساری زندگی میں تم نے اس ملک کی سڑکوں پر کبھی کسی کو گدھے گنتے دیکھا ہے؟ پھر ایک لمحہ تؤقف کے بعد کہنے لگے: بہتر ہو گا کہ لگے ہاتھوں مردم شماری والے اپنے فارم کے ایک خانے میں گدھوں کا اندراج بھی کر دیا کریں۔ اس طرح گدھوں کی ممکنہ درست تعداد کا علم ہو جائے گا۔ میں نے کہا: شاہ جی آپ پھر شرپسندی پھیلا رہے ہیں۔ میں نے آپ سے کچھ اور بات کی اور آپ اس بات کو کسی اور ہی طرف لے گئے ہیں۔ شاہ جی آگے سے کہنے لگے کہ دراصل اس ملک میں گدھوں کی تعداد کے بارے میں آپ کا بنیادی تصور ہی غلط اور ناقص بنیادوں پر ہے۔ آپ دراصل اس گنتی میں صرف چار ٹانگوں والے گدھوں کو ہی گن رہے ہیں۔ ویسے تو مجھے اس گنتی میں بھی شک ہے کہ یہ قطعاً درست نہیں ہے اور اگر اس میں شکل و صورت سے قطع نظر ہمارے ہاں رائج الوقت گدھے کے بنیادی تصور پر پورا اترنے والوں کو بھی شامل کر لیں تو یہ تعداد کروڑوں تک پہنچ جائے گی۔ میں نے کہا: شاہ جی میں تو آپ سے بات کر کے پچھتا رہا ہوں۔ میں کیا سوال کرتا ہوں اور آپ کیا جواب دیتے ہیں۔ آپ ہمہ وقت مائل بہ شرپسندی ہی کیوں رہتے ہیں؟ شاہ جی نے میری بات سنی اَن سنی کرتے ہوئے گدھوں کی تعریف و توصیف شروع کر دی۔
شاہ جی ویسے تو بہت کم کسی پر مہربان ہوتے ہیں اور ہر وقت ہاتھ میں پکڑی تنقید و اعتراضات کی لاٹھی سے دوسروں کو ہانکتے رہتے ہیں۔ تاہم کبھی کبھارجسے انگریزی میں Once in a Blue Moon کہتے ہیں کسی پر مہربان بھی ہو جاتے ہیں۔ گو کہ ایسا بہت کم ہوتا ہے لیکن جب مہربان ہوتے ہیں تو پھر مہربانی کے آخری درجے پر بیٹھ کر تعریف و توصیف کے ایسے دریا بہاتے ہیں کہ دل شاد اور عقل حیران رہ جاتی ہے۔ انسانوں کے بارے میں ان کی رائے ہمیشہ بہت سخت معیار سے گزر کر ہم تک پہنچتی ہے تاہم گدھے کو انسانوں کے مقابلے میں خاص رعایت دیتے ہوئے کہنے لگے کہ گدھا ایک نہایت شاندار، باوقار اور ذمہ دار شخصیت کا حامل جاندار ہے۔ میں نے حیران ہو کر کہا: شاہ جی! یہ گدھے کی بھی کوئی شخصیت ہوتی ہے؟ شاہ جی نے مجھے گھور کر دیکھا اور کہا: تم نے زندگی میں اگر ایسی چیزوں پر کبھی غور کیا ہوتا تو تمہیں معلوم ہوتا کہ گدھا کیسی اعلیٰ و ارفع شخصیت کا مالک جانور ہے۔ اس کی طبیعت کا انکسار،محنت کی عادت، تھوڑا کھا کر زیادہ شکر کرنے کا جذبہ، مالک کے جائز و ناجائز مطالبات کے آگے سرِ تسلیم خم کرنے کا حوصلہ اور احتجاج یا انکار کے بجائے فنا فی مالک ہونے کی خصلت تم نے کسی اور مخلوق میں دیکھی ہے؟ بھلا ایسا شاندار جانور دنیا میں اور کون ہو سکتا ہے؟
پھر ایک دم جلال میں آ گئے اور مجھے کہنے لگے: باقی سب باتیں چھوڑو، تم گدھے کا خود اپنے ساتھ نہ سہی اپنے کسی دوست کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھو تو تمہیں اندازہ ہو گا کہ بہت سی باتوں میں گدھے کو کئی باتوں میں فضیلت حاصل ہے۔ گدھے کے مقابلے میں کروڑ گنا آرام دہ زندگی گزارنے کے باوجود ہم ادھر اُدھر کا شکوہ شکایت کرتے رہتے ہو،کبھی تم نے گدھے کے منہ سے کوئی حرفِ شکایت سنا ہے؟ میں نے عرض کیا: شاہ جی! گدھے بولتے نہیں۔ اگر بولتے ہوتے تو ممکن ہے شکایت بھی کرتے۔ شاہ جی فرمانے لگے: بہتر ہو گا کہ آپ گدھے کے نفسیاتی مسائل پر گفتگو کرنے کے بجائے اس قوم کے نفسیاتی مسائل کے حل پر توجہ دیں۔ اس قوم کو نہ صرف اس کی اشد ضرورت ہے بلکہ اس ضرورت میں روز افزوں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)