غیر سیاسی مداخلت ہو چکی ہے
- تحریر شازار جیلانی
- منگل 16 / جون / 2026
پاکستان میں جمہوریت کبھی کسی مزاحمتی تحریک کی وجہ سے آئی ہے اور نہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت کبھی صرف اندرونی وجوہات کی بنا پر ہوئی ہے۔ ملک میں جمہوریت تب آئی ہے جب کوئی حادثہ ہوا ہے اور اسٹیبلشمنٹ تب آئی ہے جب عالمی قوتوں نے خطے میں کوئی ٹورنامنٹ منعقد کرنا مناسب سمجھا ہو۔ اب کوئی ٹورنامنٹ ہونے جا رہا ہے؟ خود سوچیں۔
امریکی جنگوں کو ہمیشہ وہ نام دیا گیا جس ملک پر مذکورہ جنگ تھوپ دی گئی ہو، ٹھیک اسی طرح، اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت کسی فرد واحد کی مرضی یا خواہش ہوتی ہے، یہ بھی غلط ہے۔ کوئی ادارہ روزانہ دنیا بھر سے ڈیٹا اکٹھا کرتا ہوا، اس کا تجزیہ کرتا ہے، ان تجزئیات پر غور و فکر کیا جاتا ہے، اس کی روشنی میں منصوبہ بندی کی جاتی ہے، جو عالمی معاملات و صورت حال کی مناسبت سے منظم و مربوط کی جاتی ہیں۔ اور جب ضروری سمجھا جاتا ہے، مناسب سمجھ کر اقدام کیا جاتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اس اقدام کو کسی سرونگ جرنیل کا نام دے کر معنون کر دیتی ہے۔
گزشتہ ادوار میں سیاسی اقدام کرنے کے بعد جب استحکام حاصل کیا جاتا تو ایک ہائی بریڈ نظام تشکیل دیا جاتا، جس کا عوامی چہرہ کسی لے پالک سیاستدان کو بنایا جاتا، جو کبھی مناسب سمجھا جاتا تو تبدیل بھی کر دیا جاتا۔ تاریخ اس دعوے کی گواہی دیتی ہے۔ اسی طرح یہ اسٹیبلشمنٹ ہوتی ہے، کوئی احتجاجی یا مزاحمتی تحریک نہیں ہوتی جو پاکستان میں جمہوریت بحال کرتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ خود سیاسی اقدام کرتی ہے اور جب مناسب سمجھتی ہے اسے ختم کرنے کا فیصلہ بھی خود کرتی ہے، جس کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں۔ ایوب خان، یحییٰ خان، ضیا الحق اور مشرف کی رخصتیاں ذہن میں رہیں۔ جب کبھی اسٹیبلشمنٹ کو لگا کہ صورت حال ادارہ جاتی اور ’قومی مفادات‘ کی بجائے ذاتی مفادات کی خاطر ڈائیورجن پر ڈال دی گئی ہے تو جمہوریت آ جاتی ہے یا اکہتر، ضیا کا جہاز، یا بینظیر کے قتل جیسا کوئی سانحہ ہو جاتا ہے۔ تو جمہوریت مہمان بن کر عارضی طور پر آ جاتی ہے۔
عمران خان کو جمہوری نظام کو توانا اور آئینی نظام کو درست کرنے کے لئے نہیں، سیاست اور سیاستدانوں کو بے وقعت کرنے اور لانگ ٹرم مقاصد کے حصول کے لئے تیسری قوت بنا کر لایا گیا تھا لیکن وہ بیک فائر کر گیا۔ دونوں طرف چہرے تبدیل کیے گئے ہیں، لیکن مقاصد اور منصوبہ وہی ہے۔ جب اسٹیبلشمنٹ کوئی سیاسی مداخلت کرتی ہے تو طریقہ یہ ہے، کہ پوزیشن مستحکم ہونے کے بعد کسی جمالی، جونیجو یا شوکت عزیز کو اسمبلی میں کھڑا کر کے لائے گئے پارلیمنٹیرینز کو حکم دیا جاتا ہے کہ ہمیں اس پر اعتماد ہے، آپ بھی اعتماد کا ووٹ دے دیں۔ اور جب ضروری سمجھا جاتا ہے تو ائرپورٹ پر اسے لینے کے لئے سرکاری گاڑی بھی لینے نہیں آتی۔ اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہر جونیجو کے لئے ایک نواز شریف ہوتا ہے۔
پنجاب اور اسٹیبلشمنٹ کے مفادات مشترکہ ہوتے ہیں، جبکہ باقی صوبے ذہنی طور پر حزبِ اختلاف میں ہوتے ہیں۔ اس لیے نواب آف کالا باغ، چوہدری برادران اور شریف برداران ہمیشہ پنجاب سے لئے جاتے ہیں۔ جمالی اور جونیجو عوامی سطح پر محرومی کا عارضی علاج سمجھا جاتا ہے لیکن یہ جزوقتی ہوتا ہے۔ اس حرم کو نگہبان ہمیشہ پنجاب سے ملتا ہے۔ سیاسی مداخلت کے بعد بڑی مدت تک عوام کو شریک کرنے سے گریز کیا جاتا ہے، ہاں کبھی بی ڈی الیکشن اور کبھی ”سوڈو ڈیموکریسی“ کو حقیقی ڈیموکریسی میں تبدیل کرنے کے لئے ناظمین کا نظام لاگو کیا جاتا ہے، جس کا مقصد ”عوامی مسائل کو مقامی طور پر“ حل کرنا مقصود ہوتا ہے۔ بیوروکریسی کو قابو کر دیا جاتا ہے جو ساتھ چلنا چاہتے ہیں، الطاف گوہر اور قدرت اللہ شہاب جیسے دانشور بن جاتے ہیں اور جو ساتھ دینے پر تیار نہیں ہوتے، او ایس ڈی بنائے جاتے ہیں اور قبل از وقت ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ عدلیہ کو مداخلتی فرمان کے تحت نیا حلف دیا جاتا ہے اور جو ایسا نہیں کرتا، اپنی ایمانداری اور اصول پسندی کے ساتھ ماضی کی یاداشت بن جاتا ہے۔ بیسک ڈیموکریسی اور نظامتی نظام کے ذریعے عسکری نرسریوں میں نئے سیاستدان کی کھیپ تیار کی جاتی ہے۔ جو پارلیمنٹ میں سیاست پر تقریر کرتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت کو جائز قرار دے کر اسے اپنے خالق سمیت قانونی تحفظ اور قانون سے تحفظ دلاتے ہیں اور پھر اس پر عمر بھر فخر کرتے ہیں۔
پاکستان میں جمہوریت کبھی بھی اس قابل نہیں ہوئی کہ وہ بہترین انتقام بن سکے۔ عمران خان کو رخصت کیا گیا اور الیکشن نہیں کرائے گئے تو وہ کسی غلطی یا سیاسی اجتہاد کی بنا پر نہیں تھا، بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی منصوبہ بندی کے تحت تھا۔ عمران خان کو پنجرے میں بند کر کے سیاستدانوں کے لئے مستقل خوف کا سامان کرنا تھا اور الیکشن نہ کروا کر ان سے وہ گڈوِل ونڈو چھیننی تھی، جس کی موجودگی میں وہ کچھ نہ کچھ انتخابی کارکردگی دکھا کر آزادانہ فیصلوں کی قابل ہو جاتے۔ حکومت کرنے والے سیاستدان اب نہ الیکشن میں جا سکتے ہیں اور نہ عوام میں اور کسی بھی سیاستدان کا سب سے بڑا خوف انتخابات میں اور عوام میں نہ جا سکنے کا ہوتا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت ہو چکی ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ ماضی کی مداخلتوں کے بر خلاف اس دفعہ سیاسی چہرے پہلے ہائر کیے گئے ہیں۔ بیوروکریسی نگران دور میں حاصل کی گئی ہے، ججز کا بندوبست ہو چکا ہے، صحافت صحافیوں کے لئے آفت بنا دی گئی ہے۔ سیاسی مداخلت کاروں کو اب پارلیمنٹ سے کسی ایکسٹینشن کی ضرورت ہے، نہ قانونی ویلیڈٹی کی اور نہ آئینی یا قانونی استثنا کی۔ اپ کہہ سکتے ہیں کہ ان کو موجودہ حد درجے غیر مقبول حکومت کی بھی ضرورت نہیں جس کے پاس ذاتی چمتکار ہے، شخصیتی کرشمہ، عوام کا اعتماد اور نہ مستقبل کا کوئی پروگرام۔ کان سے پکڑ کر نہ نکالی گئی تو جس دن الیکشن کا اعلان کر دیا گیا اور اسٹیبلشمنٹ نے اپنی سیڑھی کھینچ لی تو جہاں پر یہ حکومت اور اس کے کارندے لٹکے ہوں گے، سوچ کر ان کو جھرجھری آ جاتی ہے۔ اس حکومت کی تہی دامنی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ چار سال تک حکومت کرنے کے بعد ، ان کے پاس انڈیا کے جہاز گرانے کے دوران، سوئمنگ پول میں نہانے، گھر میں بیٹھ کر منصوبہ بندی کرنے اور حملے کے دوران تہہ خانے میں نہ جانے کی کہانیوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ جہاز کس نے گرائے، منصوبہ بندی کس نے کی اور جاگتے کون تھے، دنیا جانتی ہے۔
بجٹ منظور ہو جائے گا۔ کشمیر، بلوچستان اور پختونخوا میں اتنا انتشار اور افراتفری بنا دی گئی ہے کہ وہاں پر حکومت کی موجودگی یا غیر موجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ رہا پنجاب، تو غیر سیاسی مداخلت کاروں کو نگہبان ہمیشہ وہاں سے ملے ہیں۔ اگلے عشرے کے لئے بھی مل جائیں گے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)