دشمن کے ایجنٹوں سے مذاکرات کیوں ہوتے ہیں؟
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 16 / جون / 2026
وزیر دفاع خواجہ آصف نے آزاد کشمیر کی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو غیر ملکی ایجنڈے پر کاربند قرار دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کے تانے بانے ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں جن کے پاس برطانوی شہریت ہے یا انہیں انڈیا کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے البتہ اس سوال کا جواب نہیں دیاکہ پھر حکومت اسی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنے کی کوشش کیوں کرتی رہی ہے؟
یہ بات واضح ہے کہ ایکشن کمیٹی نے جس ایک نکاتی مطالبے کی بنیاد پر موجودہ احتجاج کا سلسلہ شروع کیا ہؤا ہے، وہ سراسر ناجائز اور کسی بھی احتجاجی گروہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ خواجہ آصف اور آزاد کشمیر حکومت کی یہ بات درست ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد ایکشن کمیٹی کو سیاسی راستہ اختیار کرنا چاہئے اور مہاجر کشمیریوں کو مختص کی گئی 12 سیٹوں کا تنازعہ آئیندہ اسمبلی کو طے کرنے کا موقع دینا چاہئے۔ واضح رہے آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس کے جواب میں قرار دے چکی ہے کہ یہ آئینی معاملہ ہے اور اسے آزاد کشمیر کی آئیندہ منتخب ہونے والی اسمبلی مناسب آئینی ترمیم کے ساتھ ہی حل کرسکتی ہے۔ اس طرح سڑکوں پر احتجاج سے اس مطالبے پر اصرار اصولی و سیاسی طور سے ہی نہیں قانونی طور سے بھی غلط اور ناجائز ہے۔
ایکشن کمیٹی نے البتہ سپریم کورٹ سے ریفرنس پر جواب آنے سے پہلے ہی احتجاج کی کال دی ہوئی تھی اور اسے واپس لینے کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ ایکشن کمیٹی سپریم کورٹ کے مشورہ کو ماننے پر آمادہ نہیں ہے۔ اگر کوئی تحریک ملک میں نافذ قانون اور اس قانون کونافذ کرنے والی عدلیہ کے احکامات ہی ماننے سے انکار کردے تو وہ خود اپنے احتجاج کے خلاف مقدمہ مضبوط کرنے کا سبب بنتی ہے۔ ایکشن کمیٹی کا موجودہ احتجاج بھی اسی کیفیت کا شکار ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد احتجاج ختم کرکے سیاسی عمل کا حصہ بننا ہی سب کے وسیع تر مفاد میں ہوتا۔ البتہ احتجاجی عناصر نے اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ یہ رویہ مزید پیچیدگی پیدا کرتا ہے کیوں کہ اگر سڑکوں پر کیے جانے والے احتجاج کے ذریعے کوئی بات منوانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس سے اس کی قانونی حیثیت یا عوامی تائید کا اصول واضح نہیں ہوتا۔ ایکشن کمیٹی اپنے احتجاج کے بارے میں خواہ جیسے بھی دعوے کرے، راولا کوٹ کے نزدیک جمع ہونے والے ہجوم کی تعداد کے بارے میں بھی حد درجہ مبالغہ آمیز دعوے کیے جاسکتے ہیں لیکن ا س کے باوجود چند ہزار لوگوں کی رائے کو پورے آزاد کشمیر میں آباد لوگوں کی رائے سمجھنے کی غلطی نہیں کی جاسکتی۔ اگر کوئی گروہ اس پر اصرار کرتا ہے تو اسے اسی قسم کے ریاستی تشدد یا جبر کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس وقت ایکشن کمیٹی کے لیڈروں اور احتجاجیوں کو درپیش ہے۔
تمام تر دعوؤں کے باوجود ایکشن کمیٹی صرف راولا کوٹ میں مظاہرین کو جمع کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ وہ اعلان اور خواہش کے باوجود مظفر آباد جانے اور وہاں دھرنا دینے میں کامیاب نہیں ہورہی۔ پولیس اور رینجرز اس کے راستے کی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ ممکن ہے کہ ایکشن کمیٹی کے لیڈر کسی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے ایسا انتہائی اقدام کرنے سے گریز کررہے ہوں لیکن انہیں یہ بھی ضرور سوچنا چاہئے کہ ایک آئینی و سیاسی معاملہ کا حل سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے تلاش نہیں کیاجاسکتا۔ ورنہ امور مملکت اسمبلیوں کی بجائے سڑکوں پر ہی طے ہونے لگیں گے۔ یہ درست ہے کہ 12 نشستوں کے معاملہ پر احتجاج کا اعلان کرنے کے بعد آزاد کشمیر حکومت نے اس ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کرکے اور اس کے لیڈروں کی گرفتاری پر بھاری انعام مقرر کرکے، اشتعال میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم ایکشن کمیٹی کے لیڈر اگر واقعی کشمیری عوام کے وسیع تر مفاد اور حق نمائیندگی کے لیے احتجاج کا طریقہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے تھے، تو انہیں حکومت کی اشتعال انگیز ی کو صبر سے برداشت کرکے وہی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے تھی جو اس تحریک کو بڑے نقصان سے محفوظ رکھ سکتی۔ اب یہی اندیشہ ہے کہ یہ احتجاج جس قدر طویل ہوگا اور اس میں تشدد کا جتنا عنصر شامل ہوتاجائے گا، اس کا منفی اثر ایکشن کمیٹی پر ہی مرتب ہوگا۔ حکومت امن و امان بحال کرنے کے نام پر اور ایکشن کمیٹی کی ہٹ دھرمی کو عذر بنا کر کسی بھی انتہائی اقدام کی طرف جاسکتی ہے۔ حکومت کو بھی ایسی صورت حال سے گریز کرنا چاہئے لیکن ایکشن کمیٹی کو اپنی سیاسی طاقت محفوظ رکھنے، کشمیری عوام کی فوری مشکلات ختم کرنے اور مسئلہ کا مناسب حل تلاش کرنے کے لیے ٹھنڈے دل سے مناسب فیصلے کرنے چاہئیں۔
راولا کوٹ میں احتجاجی ریلی کے شرکا اور امن و امان نافذ کرنے والی فورسز کے درمیان مسلح جھڑپوں کی اطلاعات پہلے دن سے ہی موصول ہورہی ہیں اور احتجاج کو 8 دن گزر جانے کے باوجود تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک ایسی جھڑپوں میں ایک درجن سے زیادہ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اگرچہ پولیس اور احتجاجی کارکن ایک دوسرے کے مؤقف کو مسترد کرکے اپنا سچ عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم دستیاب شواہد کی روشنی میں اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ ایکشن کمیٹی کے بعض ارکان مسلح ہیں اور انہوں نے اسلحہ کا استعمال بھی کیا ہے۔ اس لاقانونیت کی سو فیصد ذمہ داری ایکشن کمیٹی کے زعما پر عائد ہوتی ہے۔ وہ محض الزام تراشی سے اس خطرناک الزام سے نجات حاصل نہیں کرسکتے۔ البتہ اپنی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لے کر وہ سب کے لیے آسانی پیدا کرسکتے ہیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ احتجاج کو تو جائز سمجھتی ہے لیکن انتخاب کا راستہ اختیار کرنے پر راضی نہیں ہے۔ ایسی آوازیں بھی سننے میں آئی ہیں جن میں آزاد کشمیر میں جولائی کے دوران ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ایکشن کمیٹی نے خود کو عوام کی نمائندگی کے منصب پر فائز کیا ہؤا ہے لیکن اس نے نہ تو اس کمیٹی کو سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹر کرایا ہے اور نہ ہی سیاسی پارٹیوں سے اشتراک عمل کا کوئی راستہ اختیار کیا ہے۔ اس طرز عمل کو بھی عوام دوست کی بجائے جمہوریت دشمن ہی سمجھا جائے گا۔ اس سے بھی ایکشن کمیٹی کا مقدمہ کمزور ہوتا ہے۔
دوسرے جیسا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے، حکومت اب اس مسئلہ کو سیاسی طور سے حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ یعنی اس نے ایکشن کمیٹی سے بات چیت کے ذریعے راستہ نکالنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا بلکہ قومی اسمبلی میں خواجہ آصف نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ’کسی ہجوم یا کسی جلسے جلوس کو حکومت کو بلیک میل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘۔ انہوں نے مہاجر کشمیریوں کے لیے مختص کی گئی نشستوں کے فیصلے کا دفاع کیا اور اسے کشمیر کاز کے لیے قربانیاں دینے والوں کا حق قرار دیا۔ اسی جوش میں خواجہ آصف نے ایکشن کمیٹی کی ملک دشمنی کا اشاہ بھی دیا اور کہا کہ اسے برطانیہ کے عناصر یا بھارتی ایجنٹ کنٹرول کررہے ہیں۔ گو کہ اس شبہ کو حتمی طور سے مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ بھارت یا دیگر پاکستان دشمن عناصر آزاد کشمیر میں کسی عوامی احتجاج کو پاکستان کو کمزور کرنے یا اسے نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کریں۔ یہ ممکن ہے کہ ایکشن کمیٹی کے بعض عناصر پر کوئی غیر ملکی اثر و نفوذ موجود ہو۔ لیکن کسی عوامی تحریک کو چند افراد پر شبہ کی وجہ سے ملک دشمن قرار دے کر مسترد کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
آزاد کشمیر حکومت کے علاوہ پاکستانی حکومت کے نمائیندوں نے گزشتہ سال ہی اسی کمیٹی کے لیڈروں سے بات چیت کے بعد چند مطالبات مانے تھے اور احتجاج ختم کرانے میں کامیاب ہوئی تھی۔ تو کیا اس وقت حکومت کے نمائیندے ’بیرونی طاقت کے ایجنڈوں‘ کے سامنے ہتھیار پھینک رہے تھے؟ پاکستان میں سیاسی مخالفت کی بنا پر کسی تحریک یا سیاسی قیادت کو دشمن کا ایجنٹ قرار دینا بہت عام بات ہوگئی ہے تاہم وفاقی حکومت کے ایک ذمہ دار وزیر کو اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے ایسی باتوں سے گریز کرنا چاہئے جسے کسی عدالتی فورم پر ثابت کرنا ممکن نہ ہو۔
آزاد کشمیر اسمبلی کی مخصوص نشستوں کا سوال ایک اہم سیاسی مسئلہ کی حیثیت اختیار کرچکا ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے۔ البتہ جو عناصر اس صورت حال کو کسی ملک دشمن طاقت کے اشارے یا مدد سے خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، انہیں قانونی طریقے سے سامنے لایا جائے تاکہ عوام بھی ان کے دوہرے کردار سے آشنا ہوسکیں۔